برآمدات میں کمی سے ٹیکسٹائل شعبہ میں42لاکھ ورکرز بے روزگارتشویشناک ہے ،خادم حسین

برآمدات میں کمی سے ٹیکسٹائل شعبہ میں42لاکھ ورکرز بے روزگارتشویشناک ہے ،خادم ...

لاہور(کامرس رپورٹر) ممتازتاجر رہنما وفیروز پور بورڈ لاہور کے سینئر نائب صدر خادم حسین ایگزیکٹو ممبرلاہور چیمبرز آف کامرس نے کہا ہے کہ برآمدات میں کمی اور ملوں کے بند ہونے سے ٹیکسٹائل سیکٹر سے متعلقہ 42لاکھ ورکرز بے روزگار ہونا تشویشناک امر ہے ٹیکسٹائل سیکٹر کو گزشتہ چند سال کے دوران درپیش مسائل سے براہ راست مزدور کی سطح کے افراد کو نقصان پہنچا ہے اور42لاکھ سے زائد مزدور اس عرصے کے دوران بے روزگار ہوئے ہیں ٹیکسٹائل سیکٹر میں اس وقت 5کروڑ74لاکھ سے زائد افراد کا روزگار منسلک ہے اس لیے حکومت برآمدات میں میں اضافہ ،تجارتی خسارہ میں کمی کیلئے صنعتی مقاصد کیلئے بجلی و گیس کی قیمتوں میں فوری کمی کا اعلان کرے ان خیالات کا اظہار انہوں نے فیروز پور بورڈ کے تاجروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔خادم حسین نے کہا کہ درآمدا ت میں کمی اور برآمدات میں اضافہ پر خصوصی توجہ دی جائے کیونکہ برآمدات کم ہونے سے تجارتی خسارہ23ارب ڈالر سے متجاوز کرچکا ہے جس سے ملکی معیشت کو انتہائی نقصان پہنچ رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مہنگی بجلی گیس کے باعث ہماری ٹیکسٹائل انڈسٹر دیگر ممالک سے مقابلہ نہیں کرسکتی اس لیے پاکستان میں متعدد ٹیکسٹائل یونٹس گزشتہ چند سال کے دوران بند ہوچکے ہیں ۔

جس سے ایک طرف بے روزگاری کی شرح بڑھ رہی ہے تو دوسری طرف برآمدات میں کمی کی صورت میں زرمبادلہ کے ذخائرتیزی سے کم ہورہے ہیں ٹیکسٹائل سیکٹر اہم برآمدی شعبہ ہے اس کی ترقی کیلئے حکومت خصوصی اقدامات اٹھائے تاکہ ملکی برآمدات بڑھ سکیں اورتجارتی خسارہ میں کمی ہوسکے۔

مزید : کامرس