عوام کے ووٹ سے منتخب ہونے والی خواتین ہی پارلیمان کی اصل قوت ہیں

عوام کے ووٹ سے منتخب ہونے والی خواتین ہی پارلیمان کی اصل قوت ہیں

ناصرہ عتیق

پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کے نتیجے میں قومی اسمبلی کے حلقہ120میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں دونوں بڑی پارٹیوں کی امیدوار دو اہم خواتین ہیں۔مسلم لیگ(ن) کی جانب سے نااہل وزیراعظم کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز نامزد ہوئی ہیں،جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے ڈاکٹر یاسمین راشد کو ٹکٹ دیا ہے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد اس سے پہلے اِسی حلقہ سے نواز شریف کے خلاف مقابلے پر اُتری تھیں، وہ انتخاب میں ہار گئیں تاہم انہوں نے 52321 ووٹ حاصل کئے تھے۔حالیہ ضمنی انتخاب میں اُترنے والی دونوں امیدوار سیاسی جدوجہد کی قابل ذکر تعریف کی حامل ہیں۔

27برسوں پر پھیلی اپنی صحافتی زندگی میں مَیں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ خواتین کو خصوصی نشستوں پر اسمبلیوں میں آنے کی بجائے عام انتخابات میں حصہ لینا چاہئے اور عوامی ووٹ کی طاقت سے ایوانوں میں اپنی جگہ بنانی چاہئے۔ ہمارے قائد محمد علی جناحؒ زندہ ہوتے تو خواتین کے اِس اقدام کی تائید یقیناًکرتے۔اِس معاشرے کو جو 70برس سے بہتری اور بہبود کے راستے پر ابھی تک ڈول رہا ہے، خواتین ہی اپنی ذات سے اسے ایک مستحکم چال دے سکتی ہیں۔

خصوصی نشستوں پر اسمبلیوں میں آنے والی خواتین وہ قوت،ساکھ اور تائید نہیں رکھتیں جو عام انتخابات میں عوامی ووٹ سے حاصل ہوتی ہے۔ اُن کی آواز میں گھن گرج اور دبدبہ پیدا نہیں ہوتا جو اُنہیں عوام کے ووٹوں سے حاصل ہوتا ہے۔اِس ملک کی تقریباً نصف آبادی عورتوں پر مشتمل ہے۔ خواتین اِس مملکت کی بڑی قوت ہیں،لیکن صحیح رہنمائی کے بغیر یہ قوت زیر زمین دفینے کی مانند ہے۔ہمارے عظیم قائد محمد علی جناحؒ کو خواتین سے بہت سی امیدیں وابستہ تھیں۔ وہ ہمیشہ فرماتے تھے:

’’خوشی کی بات ہے کہ مسلمان خواتین میں بھی انقلابی تبدیلی ہو رہی ہے۔ یہ تبدیلی بہت اہمیت رکھتی ہے۔دُنیا میں کوئی قوم اُس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی،جب تک اُس قوم کے مردوں کے ساتھ ساتھ عورتیں بھی آگے نہ بڑھیں‘‘۔

مسلم کنونشن دہلی۔17اپریل1946ء

’’آپ کے پاس اس سے بھی بڑی کامیابی کی کنجی ہے۔ وہ کنجی ہے آپ کی آئندہ نسل۔اپنے بچوں کی اِس طرح تربیت کیجئے کہ وہ پاکستان کے قابلِ فخر شہری اور موزوں سپاہی بن سکیں۔آپ نے پاکستان کے لئے بہت سی قربانیاں دی ہیں، اُس پاکستان کے لئے جسے اب ساری دُنیا ایک مسلمہ حقیقت تسلیم کر چکی ہے۔بس ایک قدم اور آگے بڑھانا ہے۔ وہ وقت دُور نہیں، جب ساری دُنیا کی قومیں پاکستان کی تعریف و توصیف کریں گی۔ انشاء اللہ‘‘۔

مسلم لیگ کے شعبہ خواتین سے خطاب،

کراچی 6فروری1948ء

’’قوم کی تعمیر اور اس کے استحکام کے عظیم کٹھن کام کے سلسلے میں خواتین کو انتہائی اہم کردار ادا کرنا ہے،خواتین قوم کے نوجوانوں کے کردار کی معمار ہوتی ہیں،جو مملکت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔مَیں اچھی طرح جانتا ہوں کہ حصولِ پاکستان کی طویل جدوجہد میں مسلمان خواتین اپنے مردوں کے پیچھے مضبوطی سے ڈٹی رہی ہیں۔تعمیر پاکستان کی اِس سے بھی سخت اور بڑی جدوجہد میں،جس کا ہمیں اب سامنا ہے، یہ نہ کہا جائے کہ پاکستان کی خواتین پیچھے رہ گئیں یا اپنا فرض ادا کرنے سے قاصر رہیں‘‘۔

ریڈیو پاکستان، ڈھاکہ

28مارچ1948ء

عوام کے ووٹ کی طاقت سے آنے والی خواتین پارلیمان میں مفادِ عامہ کے حق میں نہ صرف آواز بلند کر سکتی ہیں،بلکہ لوگوں کی بہتری اور فلاح کے لئے مضبوط قدم اٹھا سکتی ہیں اِس لئے کہ اُنہیں اِس بات کا قوی احساس ہوتا ہے کہ اُن کی پشت پر عوامی قوت موجود ہے۔ وہ لوگوں کے ووٹ سے جیتی ہیں، لوگوں نے اُن پر اعتماد کیا ہے اور اِس اعتماد پر کسی بھی صورت وہ توڑنا نہیں چاہیں گی۔ خواتین حساس اور درد مند دِل رکھتی ہیں۔ ایسے راستوں سے وہ دور رہتی ہیں جو کسی نہ کسی طرح کرپشن کے جھاڑ جھنکار کی طرف جاتے ہیں۔ وہ اپنے لوگوں کی ضرورتوں اور تمناؤں سے آگاہ ہوتی ہیں لہٰذا تعلیم،صحت اور مصفا ماحول کے حصول کی خاطر جدوجہد کرتی ہیں۔ دُکھ درد اور شفقت کا مادہ اُن میں زیادہ ہوتا ہے اِس لئے اُن کے کام میں خلوص اور نیک نیتی شامل ہوتی ہے۔

پاکستان کی خواتین پر جو آبادی کا ایک اہم حصہ ہیں،بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہیں۔گھر گرہستی، بچوں کی کردار سازی اور سماجی بہبود کے علاوہ اُن پر قوم کی رہنمائی کا فریضہ بھی عائد ہوتا ہے اور یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اُن کی طرف جب بھی قوم نے رُخ کیا، ہماری زیرک اور دانشمند خواتین نے پورے عزم کے ساتھ لوگوں کا ساتھ دیا۔ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کی مثال روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔

ہماری خواتین زندگی کے ہر شعبے میں اپنی لیاقت اور جرأت وہمت کی داستانیں قلمبند کر رہی ہیں،لیکن صوبائی و قومی اسمبلیوں میں اُن کی کمی محسوس کی جاتی ہے۔عام انتخابات میں لوگوں کے ووٹوں سے منتخب ہونا اُن کے لئے ضروی ہے۔ سماج اور معاشرے کی زیریں سطحوں تک اُن کی رسائی ہی اُن کو مسائل اور مصائب کا ادراک و فہم عطا کر سکتی ہے۔وہ چند خواتین جو عوام کے ووٹ سے اسمبلیوں میں اپنی شخصیت کا فسوں دکھا رہی ہیں اگرچہ کم ہیں تاہم اُن کی ذات آنے والی خواتین کے لئے مینارۂ نور ثابت ہو سکتی ہے۔

ہم اپنی قابل اور فاضل خواتین سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ لوگوں کی خدمت کے جذبے کے تحت آگے بڑھیں اور اِس ملک سے بدنصیبی کی پرچھائیاں دور کرنے میں اپنے پُرخلوص ہم وطنوں کا ساتھ دیں۔ اللہ پاک ہمارا حامی و ناصر ہو۔

مزید : ایڈیشن 2