ظفر حجازی اور انکے خلاف وعدہ معاف گواہ افسران ایک ہی کشتی کے مسافر ہیں

ظفر حجازی اور انکے خلاف وعدہ معاف گواہ افسران ایک ہی کشتی کے مسافر ہیں

لاہور(نامہ نگارخصوصی)سپیشل جج سنٹرل مس ارم نیازی نے قراردیا ہے کہ چودھری شوگرملز ٹیمپرنگ کیس میں وعدہ معاف گواہ بننے والے سیکیورٹی ایکسچینج کمشن پاکستان کے افسران اسی کشتی کے مسافر ہیں جس میں سابق چیئرمین ایس ای سی پی محمد ظفر الحق حجازی سوار ہیں ۔ان وعدہ معاف گواہوں کے پاناما کیس کی جے آئی ٹی کے سامنے دیئے گئے بیانات موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ چودھری شوگر ملز کے خلاف مقدمہ 2011ء میں اس وقت کی حکومت کے سیاسی دباؤ پر بنایا گیا کیوں کہ میاں محمد نوازشریف حکمران جماعت کا حصہ نہیں تھے۔ان وعدہ معاف گواہوں کی ایک دوسرے کو بھیجی گئی ای میلز سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ انہوں نے چودھری شوگر ملز کی طرف سے اطمینان بخش ریکارڈ کی فراہمی کے بعد باہمی مشاورت سے اس کیس کو بند کیا ۔فاضل جج نے یہ آبزرویشنز ایس ای سی پی کے سابق چیئرمین محمد ظفر الحق حجازی کی درخواست ضمانت منظور کرنے کے اپنے تحریری فیصلے میں دی ہیں ۔ظفر الحق حجازی اورایس ای سی پی کے متعلقہ افسروں کے خلاف سپریم کورٹ کے حکم پر20جون 2017ء کو ایف آئی اے حکام نے یہ مقدمہ درج کیا ،اس کیس میں کمشنر طاہر محمود ،ڈائریکٹر ماہین فاطمہ ،ایگزیکٹو ڈائریکٹر عابد حسین اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر علی عظیم اکرام وعدہ معاف گواہ بن گئے اور انہوں نے مجسٹریٹ کے سامنے بیان دیا کہ انہوں نے چیئرمین ایس ای سی پی ظفر الحق حجازی کے دباؤ پر2016ء میںیہ کیس بند کیا وراس پر بند ہونے کی تاریخ 8جولائی2013ء ظاہر کی ۔عدالت نے مقدمہ کے ریکارڈ اور وکلاء کی بحث کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ اس کیس کے دو حصے ہیں ،پہلے یہ دیکھنا ہے کہ کیا چودھری شوگرملز کے خلاف کیس قانونی طور پر ختم ہونے کا متقاضی تھا اور دوسرا یہ کہ کیا مذکورہ افسروں نے ظفر الحق حجازی کے دباؤ پر اسے پرانی تاریخ میں بند کیا۔عدالت نے قرار دیا کہ چودھری شوگر ملز کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات بند کرنے کے لئے 21مئی 2013ء اور 2جولائی2013ء کو برطانوی ادارے کو سیکیورٹی ایکسچینج کمشن پاکستان کی طرف سے خط لکھے گئے ۔ماہین فاطمہ نے جے آئی ٹی کو بتایا کہ چودھری شوگر ملز کیس کی دو قسم کی فائلیں تھیں جن میں سے ایک برطانوی ادارے سے خط و خطابت پر مشتمل تھی ،برطانوی ادارے نے2012ء میں ایس ای سی پی کو آگاہ کردیا تھا کہ یہ معاملہ کسی تفتیش کا متقاضی نہیں ہے جس پر ہم نے مئی 2013ء میں تفتیش سے متعلق اپنا خط واپس لے لیا۔عدالت نے ماہین فاطمہ سے متعلق جے آئی ٹی کے تجزیہ کو بھی اپنے فیصلے کا حصہ بنایا ہے جس میں جے آئی ٹی نے کہا ہے کہ ماہین فاطمہ کا کردار قابل بھروسہ نہیں ہے ۔جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق خاتون کا کہنا ہے کہ 2011ء میں چودھری شوگرملز کے خلاف علی عظیم اکرام کی ہدایت پر سیاسی دباؤ کے تحت کیس کھولا گیا جبکہ خاتون کا یہ بھی کہنا ہے کہ 2016ء میں 8جولائی2013ء کی تاریخ ڈال کر یہ کیس ظفر حجازی کے کہنے پر بند کیا گیا ۔جے آئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماہین فاطمہ ،علی عظیم اکرام ، ظفر حجازی اورچند دیگر افسروں کے کردار سے یہ بات شیشے کی طرح عیاں ہوگئی ہے کہ ایس ای سی پی میں انتہائی حد تک سیاست ملوث ہوچکی ہے ۔عدالت نے ایس ای سی پی کے ایگزیکٹوڈائریکٹر عابد حسین کے جے آئی ٹی کو دیئے گئے بیان کا بھی جائزہ لیا ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ متعلقہ فائلیں ماہین فاطمہ کے پا س تھیں ،اس نے مجھے یہ فائلیں دیں ،مجھے ظفر حجازی نے بریف تیار کرنے کے لئے کہا یہ بریف ماہین فاطمہ نے تیار کیا او رمجھے بتایا کہ یہ کیس ابھی تک بند نہیں ہوا ہے ،میں نے یہ بریف کمشنر طاہر محمود کو دیا ،ہم نے ماہین فاطمہ اور علی عظیم اکرام کو بھی اپنے دفتر طلب کرکے یہ معاملہ ڈسکس کیا ،ان لوگوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ حقائق و واقعات کے تحت کیس ختم ہوچکا ہے ۔برطانوی حکام کی طرف سے بھی کچھ موصول نہیں ہوا ،اس موقع پر ظفر حجازی نے نشاندہی کی کہ نوٹ شیٹ سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ کیس بند ہوچکا ہے اورپھر انہوں نے ہمیں ہدایت کی کہ کیس پر مناسب نوٹ پرانی تاریخ سے درج کرکے کیس کو بند کردیا جائے ۔عدالت نے وعدہ معاف گواہ ایس ای سی پی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عابد حسین کی طرف سے جے آئی ٹی کو دیئے گئے بیان کو بھی اپنے فیصلے کا حصہ بنایا ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ انہیں ماہین فاطمہ نے بتایا کہ چودھری شوگر ملز کے خلاف کیس سیاسی پریشر پر بنایا گیا تھا ۔2011ء کی حکومت کا اصرار تھا کہ یہ کیس ضرور کھولا جائے کیوں کہ نوازشریف حکومت میں شامل نہیں تھے ۔جے آئی ٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عابد حسین اپنی بے ضابطگیوں سے آگاہ تھے اس کے باوجود انہوں نے ایک مجرمانہ اقدام کے خاتمہ کے لئے کوئی کارروائی نہیں کی ۔عدالت نے ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق احمد اور ماہین فاطمہ کی ایک دوسرے کو چودھری شوگر ملز کے حوالے سے بھیجی گئی ای میلز کا بھی جائز ہ لیا ہے ۔عدالت نے قرار دیا کہ یہ ای میلز دونوں نے اپنے سرکاری اکاؤنٹس سے بھیجی تھیں جس میں انہوں نے کہا ہے کہ انکوائری کے حوالے سے چودھری شوگر ملز سے جو معلومات اورکھاتوں کی تفصیلات درکار تھیں وہ فراہم کردی گئی ہیں جواطمینان بخش ہیں ،ای میلز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ برطانوی حکام سے یا اس کمپنی سے مزید معلومات حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے اس لئے اس کیس کو بند کرنے کی تجویز دی جاتی ہے ۔عدالت نے قرار دیا ہے کہ ای میلز سے پتہ چلتا ہے کہ طارق احمد اور ماہین فاطمہ کے درمیان جون 2016ء میں باہمی مشاورت ہوئی جس کے نتیجے میں کیس بند کرنے کی رپورٹ 2013ء کی تاریخوں میں تیار کی گئی ۔عدالت نے قرار دیا کہ دونوں افسروں کی ای میلز پربحث میں کسی جگہ بھی ظفر حجازی کا ذکر موجود نہیں ہے ۔عدالت نے قرار دیا کہ ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ چودھری شوگر ملز کے خلاف تفتیش بند کرنا ضروری تھا ۔یہ سب ایک ہی کشتی کے سوار ہیں لیکن بعد میں یہ لوگ وعدہ معاف گواہ بن گئے ،ایف آئی اے نے 14جولائی2017ء کو مجسٹریٹ کے سامنے ماہین فاطمہ ،علی عظیم ،طاہر محمود اور عابد حسین کے ضابطہ فوجداری کی دفعہ164کے تحت بیانات قلمبند کروائے لیکن اس وقت ظفر حجازی عدالت میں موجود نہیں تھے اور نہ ہی انہیں وعدہ معاف گواہوں پر جرح کرنے کا موقع دیا گیا ،ایک شخص جو شامل تفتیش ہونے کا خواہش مند ہو اور وہ اس بابت تحریری طورپر تفتیشی افسر کو آگاہ بھی کرچکا ہو تو یہ تفتیشی افسر کی ذمہ داری اور انصاف کا تقاضہ تھا کہ ملزم کی گواہوں کے بیانات کے وقت عدالت میں موجودگی یقینی بنائی جاتی ۔عدالت نے قرار دیا کہ پرانی تاریخوں میں تفتیش بند کرنے کا نوٹ لکھنے اور اس پر دستخط کرنے کے یہ لوگ اسی طرح ملزم ہیں جس طرح درخواست گزار ظفر حجازی ہے۔عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں قرار دیا ہے کہ یہ کیس مزید تفتیش کا متقاضی ہے اس لئے ظفر حجازی کی درخواست ضمانت منظور کی جاتی ہے ۔

مزید : علاقائی