7ماہ میں 15ہزار سے زائد موبائل فون چھیننے اور چوری کرنے کی وارداتیں

7ماہ میں 15ہزار سے زائد موبائل فون چھیننے اور چوری کرنے کی وارداتیں

لاہور (شعیب بھٹی )رواں سال کے دوران شہریوں سے 15 ہزار سے زائد موبائل فون چھینے اور چوری کئے گئے ۔پولیس ریکارڈ میں یہ تعداد محض 6ہزا ر کے قریب ظاہر کی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطا بق صو با ئی دا ر الحکومت میں پو لیس اسٹریٹ کرا ئم پر قابوپا نے میں نا کا م ہو گئی ہے۔ بینکوں کی اے ٹی ایم مشینوں سے شہریوں کارقم نکلوانا سیکیورٹی رسک بن چکا ہے۔ لاہور پولیس کے تمام تر اقدامات اور دعووں کے باجود وارداتوں میں کمی کے بجائے اضافہ ہورہا ہے۔ذرا ئع کی جا نب سے ملنے والے اعداد وشمار کے مطابق 2012 میں10ہزا ر کے قریب موبا ئل فون چھینے گئے ، 2013میں 9ہزا رکے قریب موبا ئل فون چھینے گئے جبکہ پولیس ریکارڈ میں یہ تعداد 6 ہزار بتائی گئی۔ 2014میں 11ہزا ر سے زائد موبا ئل فو ن چھینے گئے ، پولیس ریکارڈ میں یہ تعداد 4ہزا ر سے زائد ظاہر کی گئی۔2015کے دوران 12ہزار 8 سو 86 مو با ئل فو ن چھیننے اور چوری ہونے کی وارداتیں ہوئیں،پولیس ریکارڈ میں 7 ہزار بتائی گئی۔2016 میں 14ہزا ر کے قریب موبائل فون چھینے گئے جنہیں پولیس نے 8 ہزار کے قریب ظاہر کیا۔ اعداد و شمار میں واضح فرق ثابت کرتا ہے کہ پولیس سٹریٹ کرائم پر قابو پانے کے بجائے اسے چھپانے میں مصروف ہے۔جبکہ ما ہا نہ کروڑوں رو پے تنخواہ حا صل کر نے والے ایس ایچ اوز اپنے علاقے میں سڑیٹ کرا ئم پر قابو نہ پا سکے ہیں۔مو با ئل فون چھینے کی وارداتوں میں کینٹ ڈویژن اول ، اقبا ل ٹاؤن دوئم اور سول لا ئن ڈویژ ن تیسرے نمبر پر رہی ۔اس حوالے سے پو لیس حکام کا کہنا ہے کہ فورسز اپنا کا م کر ر ہی ہیں جبکہ ڈولفن اور پیرو کے گست کے با عث سٹر یٹ کرا ئم میں کمی ہے ۔

مزید : علاقائی