موسمیاتی تبدیلی کا سدباب معاشی ترقی کے پائیدار ماڈل کا اہم جزو ہے ، مشاہد اللہ خان

موسمیاتی تبدیلی کا سدباب معاشی ترقی کے پائیدار ماڈل کا اہم جزو ہے ، مشاہد ...

 اسلام آباد (این این آئی) وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مشاہد اﷲ خان نے کہا ہے کہ معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی سے نبردآزما ہونا موجودہ حکومتِ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، پاکستان موسمیاتی تبدیلی کا سبب بننے والے ممالک کی فہرست میں بہت آخر میں ہے تاہم بین الاقوامی طور پر اس مسئلہ سے نمٹنے میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا رہے گا، موسمیاتی تبدیلی کا سدِباب معاشی ترقی کے پائیدار ماڈل کا اہم جزو ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو اقوام متحدہ کے زیرانتظام کلین ڈویلپمنٹ میکنزم پردوروزہ قومی تربیتی ورکشاپ کے شرکاء سے اہم خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کا باعث بننے والے کاربن کے اخراج کو کم سطح پر لانے کے اقدامات میں کلین ڈویلپمنٹ میکنزم کو اہم ترین حیثیت حاصل ہے، یہ موجودہ وقت تک عمل میں لایا جانے والاوہ واحد قدم ہے جو نہ صرف موسمیاتی تبدیلی کے سدِباب کیلئے مؤثر ثابت ہوا بلکہ پائیدار ترقی کیلئے اربوں ڈالر کی بین الاقوامی سرمایہ کاری کا باعث بن رہا ہے، پاکستان سی ڈی ایم کے منصوبوں کی اقوام عالم میں غیر منصفانہ تقسیم کے عوامل سے بھی آشنا اور اپنا جائز حصہ لینے کیلئے بھی کوشاں ہے۔ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی پاکستان میں کلین ڈویلپمنٹ میکنزم کے انتظام کی نامزد قومی اتھارٹی ہے۔ سی ڈی ایم کے فروغ کیلئے اپنائی جانے والی حکمتِ عملی ملک میں کاربن کے اخراج میں کمی کا باعث بننے والے منصوبوں کیلئے بے پناہ مراعات پیش کرتی ہے۔ اس ضمن میں اب تک 76 منصوبوں کی قومی طور پر منظوری دی جا چکی ہے اور ان میں سے کئی بھرپور منافع کما رہے ہیں۔ وفاقی وزیر مشاہد اللہ خان نے مزید کہا کہ حکومتِ پاکستان بخوبی واقف ہے کہ پاکستان خطہ کے دیگر ممالک کے برعکس کلین ڈویلپمنٹ میکنزم سے نسبتاًکم استفادہ کر سکا جس کی ایک اہم وجہ پڑوسی ممالک کے مقابلہ میں ماحولیاتی اعتبار سے بہتر ہونا بھی ہے۔ دیگر وجوہات میں سی ڈی ایم سے متعلق آگاہی کا فقدان، منصوبوں کے طویل المدت اندراج کا عمل اور بین الاقوامی طور پر کاربن کی تجارت میں مندی کا رُجحان بھی شامل ہے۔ مشاہد اﷲ خان نے کہا کہ کلین ڈویلپمنٹ میکنزم کی موسمیاتی تبدیلی اور ترقی سے متعلق اہمیت سے حکومتِ پاکستان مکمل طور پر آگاہ ہے اور اس امر کی بھر پور حمایت جاری ہے تاکہ ملک میں کاربن کریڈٹ سے اضافی آمدنی حاصل کرنے کیلئے سرمایہ کاری کو فروغ دیاجائے۔ اس عمل سے نہ صرف پائیدار ترقی کے عمل کو آگے بڑھایا جا سکے گا بلکہ پاکستان دُنیا کے ذمہ دار ممالک کی صف میں کھڑا ہو سکے گا۔ ایسے منصوبے توانائی کے حصول کے ساتھ ساتھ کاربن کریڈٹ کی آمدنی سے اضافی فوائد حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، حکومت اس ضمن میں اداریاتی طور پر عمل درآمد بہتر بنانے کیلئے کو شاں ہے۔

مشاہد اللہ خان

مزید : صفحہ آخر