دہشتگردوں کے خلاف آپریشن میں کئی سال لگے،عالمی ٹیمیں آ ئیں ہم تحفظ دینگے،میجرجنرل آصف غفور

دہشتگردوں کے خلاف آپریشن میں کئی سال لگے،عالمی ٹیمیں آ ئیں ہم تحفظ ...

اسلام آباد(آن لائن)ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل آصف غفورنے کہاہے کہ دہشتگردوں کے خلاف آپریشن راتوں رات نہیں ہوا،اس میں کئی سال لگے ،اعتمادہے کہ اب دہشتگردسرنہیں اٹھاسکیں گے ،افغانستان سے تعاون رہاہے اوررہے گا،ہم نے اپنی طرف کے کام مکمل کرلئے وہاں امن لاناافغان فورسزکی ذمہ داری ہے ،پاکستان میں دہشتگردی پھیلانے والاپاکستانی نہیں ہے ،بین الاقوامی ٹیمیں فاٹامیں آکرمیچ کھیلیں ہم تحفظ دیں گے ۔نجی ٹی وی سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جب 2008ء میں آپریشن شروع کیاتوسوات میں بھی دھمکیاں دی جاتی تھی ہم نے مرحلہ وارآپریشن کیا،ضرب عضب کے بعدہم نے تمام علاقے کلیئرکرلئے ،ہمیں اعتمادہے کہ اب یہ دوبارہ اکٹھے نہیں ہوسکتے ،اب ہم بہت آگے برھ چکے ہیں ۔ہماری خواہش ہے کہ وہاں بھی امن ہو،ہماری طرف سے افغانستان سے مکمل تعاون رہاہے اورتعاون جاری رہے گا،تاہم وہان امن کی ذمہ داری افغان فورسزکی ہے ۔ہماری ذمہ داری اپنے ملک میں امن لاناہے افغانستان میں امن کے لئے ہم نے جوکام کرنے تھے اپنی طرف سے مکمل کرلئے ہیں پولیس سی ٹی ڈی اوردیگرتمام اداروں نے فوج کے ساتھ مل کراچھاکام کیاہے ،جوآئندہ بھی جاری رہے گا،پاکستان میں اب بھی دہشتگردوں کی کوئی تربیت گاہ اورپناہ گانہیں ہے ۔ایک سوال سکیورٹی ہماری ذمہ داری ہم فاٹامیں کرکٹ میچ کرائیں گے ۔ دہشتگردوں کاکوئی مذہب کوئی فرقہ ،کوئی مسلک اورکوئی مذہب نہیں ہوتا،راولپنڈی میں حملہ کرنے والے کسی مذہب اورمسلک کے لوگ نہیں دہشتگردتھے ،ان کاتعلق تحریک طالبان باجوڑسے تھا۔انہوں نے کہاکہ پاکستانی وہ ہے جوپاکستانی جھنڈاپکڑکرپاکستان کی حفاظت کرے جوپاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہووہ پاکستانی نہیں ۔

ترجمان پاک فوج

مزید : صفحہ آخر