قومی اسمبلی ، ارکان کو فنڈ کے اجراء بارے شیخ آفتاب کے جواب پر ایوان میں ہنگامہ

قومی اسمبلی ، ارکان کو فنڈ کے اجراء بارے شیخ آفتاب کے جواب پر ایوان میں ...

اسلام آباد(این این آئی)قومی اسمبلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ارکان کو فنڈز کے اجراء سے متعلق وفاقی وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد کے جواب پر ایوان ہنگامہ آرائی کاشکار ہوگیا اس موقع پر بعض ارکان نے شیم شیم کے نعرے لگائے جبکہ قائد حزب اختلاف سیدخورشید احمد شاہ نے کہاہے کہ ایوان سے باہر اداروں کو ڈرانے دھمکانے والے ارکان قومی اسمبلی کے ساتھ ایسا نہیں کرسکتے ۔ پیر کو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے نکتہ اعتراض پر کہاکہ آج کے اخبار میں ہیڈ لائن ہے کہ حکومت نے ارکا ن قومی اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز دیئے ہیں ہمیں بتایا جائے کہ وہ کون سے ایم این اے ہیں جن کو فنڈز دیئے گئے ہیں اپوزیشن کے ایک حصے کو تیس ارب روپے دیئے گئے ہیں انہوں نے حکومت کو سپورٹ کی ہوگی ان لوگوں کی بڑی قربانیاں ہیں اس پر سپیکر ایازصادق نے وفاقی وزیر زاہد حامد سے سے کہاکہ اس کاجواب دیاجائے ایوان میں آمد پر شیخ آفتاب احمد نے سیدخورشیدشاہ کے نکتہ اعتراض کے جواب میں کہاکہ نوازشریف کاایک ویژن ہے کہ پورے ملک کو ترقی دی جائے پچیس ارب روپے کاپیکج کراچی کو دیاگیا ہے اور پانچ ارب روپے کے ترقیاتی پیکج کااعلان حیدرآباد کیلئے کیاگیاتھاوزیراعظم ترقیاتی پیکج کے تحت بھی ملک بھرمیں سکیمیں دی جارہی ہیں اس پیکج کیلئے تمام صوبوں کو بھی خطوط لکھے گئے کہ وہ وفاق کے برابرفنڈزدیں اس پیکج پر پنجاب اور بلوچستان نے مثبت رسپانس دیا جبکہ سندھ اور خیبرپختونخوا نے مثبت رسپانس نہیں دیا اس پر تحریک انصاف کے شفقت محمود کھڑے ہوگئے اور شیخ آفتاب سے کہاکہ آپ غلط بیانی کررہے ہیں جو پوچھا گیا ہے اس کاجواب کیوں نہیں دیتے اس کے ساتھ تحریک انصاف کے دیگر ارکان بھی کھڑے ہوگئے اور بیک وقت بولناشروع کردیا اس پر وفاقی وزیر شیخ آفتاب غصہ میں آگئے اور پی ٹی آئی کے ارکان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ انہیں اپنی حد میں رہناہوگا ہم شرافت میں رہتے ہیں اور یہ ایسا کررہے ہیں یہ کونساطریقہ ہے ۔ پیر کو قومی اسمبلی میں انتخابی بل 2017ء پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے وفاقی وزیر سیفران لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ 342 کے ایوان میں بلوچستان سے ممبران کی تعداد 17 ہے۔ 14 براہ راست منتخب ہوتے ہیں ٗرقبہ کے اعتبار سے بلوچستان پہلے نمبر پر ہے۔ بلوچستان کے حلقے اتنے بڑے ہیں کہ ایک امیدوار پورے حلقے میں مہم نہیں چلا سکتا۔ مجھے اپنے حلقے میں مہم کے دوران 5 ہزار کلو میٹر سفر کرنا پڑے گا۔ میری استدعا ہے کہ اس مسئلے کا حل تلاش کیا جائے۔ بلوچستان میں ہر ضلع کے لئے ایک نشست مختص کی جائے۔ ہماری باعزت نمائندگی ہوگی۔ انتخابی بل 2017ء پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ انتخابی عمل میں وڈیروں‘ جاگیرداروں کا راج ہے‘ جب تک عام آدمی کی دسترس میں یہ انتخاب نہیں آتا منصفانہ انتخاب نہیں ہو سکتا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے سیاسی جماعتوں پر اخراجات کی حد مقرر کرنے کی بات کی ہے۔ ہماری ترامیم کو اصلاحات کا حصہ بنایا جائے۔پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے کہا کہ انتخابی اصلاحات تین برس کا کام ہے ٗ آٹھ قوانین کو یکجا کرکے ایک قانون بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ زرعی ٹیکس پہلے ہی دیئے جارہے ہیں۔ خواتین کو زیادہ براہ راست نشستیں پی پی نے دی ہیں مزید بھی دینی چاہئیں۔ دوہری شہریت کے حامل افراد پر پابندی پر بھی بات کرنی چاہیے۔اجلاس کے دور ان اظہار خیال کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ اخبار میں خبر چھپی ہے کہ ایم این ایز کو 30 ارب روپے دیئے گئے ہیں۔ اس کی وضاحت آنی چاہیے۔ بعد ازاں وفاقی وزیر شیخ آفتاب کی طرف سے اٹھائے گئے نکات کے حوالے سے قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ ترقی جہاں بھی ہوگی وہ پاکستان کی ہوگی یہ کوئی مذاق نہیں ہے۔ ہم نے اپنے دور میں اپوزیشن کو فنڈز دیئے‘ یہ ان کا حق تھا۔ یہ عوام کے ووٹ لے کر آئے تھے۔ اس ایوان کا ماحول ٹھیک رکھا جائے۔ یہاں ایوان کا ماحول باہر کے حالات کو درست کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ ترقیاتی فنڈز دینے ہیں تو سب کو دیں ورنہ بڑے منصوبے مکمل کرلیں۔

مزید : صفحہ آخر