شریف فیملی کیخلاف ریفرنسز، افسروں کے اختیارات بارے بحث شروع

شریف فیملی کیخلاف ریفرنسز، افسروں کے اختیارات بارے بحث شروع

لاہور(لیاقت کھرل) شریف خاندان کے خلاف ریفرنسز کی تیاری کے دورا ن نیب کے اعلیٰ افسران میں اختیارات کے حوالے سے قانونی بحث شروع ہوگئی ہے۔ اور یہ موضوع آج کل ٹاک آف دی ٹاؤن ہے کہ ڈی جی نیب اور چیئرمین نیب کے اختیارات کیا ہیں۔ وارنٹ گرفتاری، ای سی ایل سمیت تمام قانونی تقاضے کیسے پورے ہوسکیں گے، ’’روزنامہ پاکستان‘‘ کو نیب ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ شریف خاندان کے خلاف کھلنے والے کیسوں پر نیب حکام خود ایک نئی پریشانی سے دوچار ہیں۔ اور نیب کے افسران کے اختیارات کے حوالے سے اس بحث نے جنم لے لیا ہے اور آج کل یہ موضوع ٹاک آف دی ٹاؤن بن کر رہ گیاہے کہ آیا ڈی جی نیب وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے اختیارات رکھتے ہیں اور اختیارات کے باوجود کیا ایسا ہوسکے گا۔ یا پھر چیئرمین نیب سے اجازت حاصل کریں گے۔ جس پر نیب کے اعلیٰ افسران کو نیب ہیڈکوارٹر کی جانب سے اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ نیب آرڈنینس 1999پر عمل درآمد کیا جائے اور نیب کے قانون اور ضابطے سے ذرا بھی ایک انچ بھی اِدھر اُدھر نہ ہوا جائے۔ ذرائع نے بتایا ہے اس حوالے سے نیب ہیڈ کوارٹرز سے تمام ڈی جیز نیب کو باقاعدہ ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ جس میں کہا گیا ہے کہ ڈی جی نیب عہدہ کا افسر گریڈ 20کے اعلیٰ افسر اور منتخب نمائندوں میں ضلعی ناظم تک وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ اور اس کے ساتھ ریفرنس کی منظوری اور ریکوری کے لیے ای سی ایل سمیت جائیداد ضبطگی اور بنک اکاؤنٹس منجمد کرنے کا اختیار بھی ہے۔ تاہم سیاست دانوں کے کیسوں میں وزرائے اعلیٰ اور وزرائے اعظم سمیت دیگر تمام ارکان پارلیمنٹ کے خلاف ریفرنس کی تیاری میں تحقیقات کرنے کا اختیار نہ ہے اور وارنٹ گرفتاری ای سی ایل میں نام دینا سمیت بنک اکاؤنٹس اور اثاثوں کی منجمد کا اختیار نہ ہے۔ نیب ذرائع نے بتایا ہے کہ نیب کے قانون نیب آرڈننس کے تحت سیاست دانوں کے خلاف ریفرنسز کی منظوری، ریکوری کے لیے وارنٹ گرفتاری اور ای سی ایل سمیت تمام تر اختیارات چیئرمین نیب کے پاس ہیں اور نیب کے آرڈننس 1999کے تحت پاور ڈیلی گیٹ کی جاچکی ہیں۔ نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ ہیڈ کوارٹر سے جاری ہدایات میں اس بات کے پابند بنایا گیا ہے کہ تمام ڈی جیز اختیارات کا استعمال کرتے وقت نیب آرڈننس 1999سے ایک انچ بھی ادھر اُدھر نہ ہوں۔ نیب حکام کا کہنا ہے کہ یہ ہدایات اس لیے جاری کی گئی ہیں کہ بعض حلقوں میں ڈی جی نیب کو بھی سیاست دانوں کے خلاف مکمل کاروائی میں بااختیار کیا جارہا ہے۔ جس کے بعد یہ احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ جبکہ نیب کے ایک اعلیٰ افسر کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ آپریشنل ونگ، تحقیقاتی ونگ اور پراسیکیویشن ونگ کو بھی اختیارات کے استعمال کے حوالے سے الگ الگ خطوط ارسال کیے گئے ہیں۔

ریفرنسز

مزید : صفحہ اول