نواز شریف کی پارٹی معاملات میں مداخلت ، الیکشن کمیشن کا چیئر مین مسلم لیگ (ن) کو نوٹس: جواب طلب

نواز شریف کی پارٹی معاملات میں مداخلت ، الیکشن کمیشن کا چیئر مین مسلم لیگ (ن) ...

اسلام آباد(اے این این ) الیکشن کمیشن نے نا اہلی کے بعد نواز شریف کی پارٹی معاملات میں دخل اندازی، یعقوب ناصر کو قائم مقام پارٹی صدر بنائے جانے کیخلاف درخواستوں پر مسلم لیگ ن کے چیئرمین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 13ستمبر تک جواب طلب کر لیا ہے ۔چیف الیکشن کمشنر سردار رضا کی سربراہی میں بینچ نے تحریک انصاف، عوامی تحریک اور نیاز انقلابی کی درخواستوں پرسماعت کی، الیکشن کمیشن نے تینوں درخواستیں یکجا کر دیں۔ پی ٹی آئی کی یاسمین راشد کے وکیل بابر اعوان نے موقف اختیار کیا کہ نا اہلی کے بعد نوازشریف نے پارٹی اجلاس میں بیٹھ کر فیصلے کیے، حالانکہ نا اہلی کے بعد مسلم لیگ نوازشریف کا نام بھی استعمال نہیں کرسکتی۔ بابر اعوان نے کہا پارٹی اجلاس بلانے سے پہلے ہی پارٹی کے قائم مقام صدر کا نام سامنے آگیا، پولیٹیکل پارٹیز آرڈر کے تحت قائم مقام صدر کی گنجائش ہی نہیں۔ انہوں نے کہا مسلم لیگ کے نئے صدر کے انتخاب میں انتخابی عمل مکمل نہیں کیا گیا، کوئی دکھاوے کا ہی الیکشن کمشنر مقرر کر لیتی، جو نا اہل ہو گیا اس کے نام سے پارٹی نہیں بن سکتی۔الیکشن کمیشن میں نواز شریف کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر اور بابر اعوان میں دلچسپ مکالمہ بھی سامنے آیا جب چیف الیکشن کمشنر نے بابر اعوان سے استفسار کیا کہ آپ یہ درخواست سپریم کورٹ میں دائر کیوں نہیں کرتے؟۔جس پر بابر اعوان کا کہنا تھا کہ ہمیں صرف ایک سڑک ہی پار کرنی ہے، ہم نے سمجھا پہلے آپ کے پاس آنا چاہیے۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آج تو الیکشن کمیشن کا دائرہ کار بہت وسیع ہوگیا ہے۔جس کے بعد الیکشن کمیشن نے تینوں درخواستوں پر ن لیگ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پارٹی چیئرمین راجہ ظفرالحق سے 13 ستمبر تک جواب طلب کرلیا۔

مسلم لیگ ن کونوٹس

مزید : صفحہ اول