رحیم یار خان، ہڑتال کرنے والے 13ینگ ڈاکٹرز کی معطلی

رحیم یار خان، ہڑتال کرنے والے 13ینگ ڈاکٹرز کی معطلی

رحیم یار خان (ڈسٹرکٹ رپورٹر) مسلسل کئی سالوں سے رحیم یار خان سمیت صوبہ بھر میں ینگ ڈاکٹر کی آئے روز مطالبات کے حق میں ہڑتالیں معمول بن چکی ہیں‘ حالیہ دنوں ڈاکٹرز نے ایک بار پھر مطالبات منظور نہ ہونے تک یکم اگست تا 15 اگست تک ڈاکٹرز نے ایک بار پھر مطالبات منظور نہ ہونے تک مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے سے انکار کردیا۔ مسلسل پندرہ روز کی ہڑتال کے دوران رحیم (بقیہ نمبر42صفحہ7پر )

یار خان سمیت جنوبی پنجاب کے اضلاع میں 1500 مریضوں کا بروقت آپریشن نہ ہو سکا جبکہ درجنوں ہلاک ہو گئے اس صورتحال پر مریضوں کے لواحقین اور شہری وسیاسی حلقوں کا شدید احتجاج سامنے آنے پر وزیراعلیٰ پنجاب نے نومبر2016ء والا حربہ استعمال کرتے ہوئے محکمہ صحت پنجاب کو رحیم یار خان سمیت صوبہ بھر کے ہسپتالوں ہڑتال ڈاکٹروں کو برطرف کرنے کی ہدایات جاری کردی‘ برطرفی کی تلوار چلنے کے ساتھ ہی شیخ زید ہسپتال ومیڈیکل کالج رحیم یار خان میں ہڑتالی ڈاکٹروں کی فہرست مرتب کرتے ہوئے اعلیٰ حکام کو بھجوا دی اور ہڑتالی ڈاکٹروں کی جگہ نئے ڈاکٹروں کی بھرتی کے عمل پر کام شروع کردیا۔ برطرفی کے معاملے کو دیکھتے ہوئے ہڑتالی ڈاکٹرز نے منت سماجت شروع کرتے ہوئے دوبارہ کام پر واپس آنے کی یقین دہانی کروا دی۔ شیخ زید ہسپتال ومیڈیکل کالج میں 13 ڈاکٹروں کو ہڑتال کرنے اور اکسانے کے جرم میں برطرف کیا گیا۔ اب حکومت پنجاب نے ایک بار پھر نرمی دکھاتے ہوئے ہڑتالی ڈاکٹروں کو بحال کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ ایم ایس شیخ زید ہسپتال ومیڈیکل کالج رحیم یارخان ڈاکٹر غلام ربانی کے مطابق ہڑتال کرنے والے 13 ڈاکٹروں کا کیس ڈسپلنری کمیٹی کے پاس بھجوا دیا گیا ہے‘ مذکورہ کمیٹی ان کی بحالی یا معطلی کا فیصلہ کرے گی‘ 15 روز تک ینگ ڈاکٹروں کی ہڑتال کی وجہ سے بروقت آپریشن اور طبی سہولیات نہ ملنے پر جاں بحق ہونے والے مریضوں کے لواحقین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے‘ میڈیا گفتگو کرتے ہوئے ضلعی صدر تحریک انصاف میاں غوث محمد نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے صحت کے مسائل سنگین ہورہے ہیں‘ ہڑتالی ڈاکٹروں کو بحال کیا گیا تو ان ڈاکٹروں کے گھروں کے باہر مظاہروں کی کال دینگے۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پنجاب حکومت اور ینگ ڈاکٹرز کیخلاف سوموٹو ایکشن لے۔ ہزاروں مریضوں اور لواحقین پر 15 روز تک قیامت برپا رہی لیکن ان فسادی ڈاکٹروں نے تمام انسانی اور اخلاقی حدیں پار کردیں۔

مزید : ملتان صفحہ آخر