ووکیشنل اداروں میں کرپشن کیخلاف ٹویٹا کا احتجاجی مظاہرہ

ووکیشنل اداروں میں کرپشن کیخلاف ٹویٹا کا احتجاجی مظاہرہ

پشاور(کرائمز رپورٹر)ٹویٹا خیبرپختونخوا کے درجنوں خواتین ومرد ملازمین نے ٹیکنیکل ووکیشنل اداروں اور اربوں روپے کی بندر بانٹ‘ بڑے پیمانے پر کرپشن ‘سینکڑوں کی تعداد میں غیر قانونی بھرتیوں‘ اداروں سے بڑے پیمانے پر سامان کی غیر قانونی منتقلی اور مستقل سرکاری ملازمین کی اداروں سے بے دخلی کے خلاف گزشتہ روز پریس کلب پشاور کے سامنے ایک روزہ احتجاجی دھرنا دیا اور خبردار کیا کہ اگر مزید ادارے شاہین فاؤنڈیشن کے حوالے کرنے اور متنازعہ ترین شخص امین کو چیف ایگزیکٹیو بنانے کی منظوری دی گئی تو نہ صرف صوبے بھر میں تالا بند ہڑتال کی جائیگی بلکہ نیب اورہائیکورٹ کے سامنے طویل دھرنے دئیے جائینگے اور صوبے بھر کے تمام بڑے اضلاع میں قومی شاہرائیں بند کرکے بھر پورمظاہرے کئے جائینگے اس بات کا اعلان ٹیکنیکل ووکیشنل انسٹرکٹرز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نصر اللہ خان ‘میڈم کنیز فاطمہ ‘ضیاء الرحمن ‘حیات خان ‘اظہر علی شاہ اوردیگر نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ مقررین نے واضح کیا کہ نیب نے کرپشن کی تحقیقات کیلئے ایسوسی ایشن کی درخواست منظورکرتے ہوئے ابتدائی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے جبکہ پشاور ہائیکورٹ میں رٹ دائر کرکے تمام بے ضابطگیاں روکنے کی استدعا کی جاچکی ہے لہٰذا صوبائی حکومت ایسے اقدامات سے گریز کرے جو نیب اور تحقیقات کے راستے میں رکاوٹ پیدا کرسکتی ہوں۔ مقررین نے کہاکہ غیرملکی 20ارب روپے خرد برد کرکے ثبوت مٹانے کیلئے اداروں کو مکمل طور پر تباہ کیاجارہاہے جو پختون قوم اور نوجوان بچوں کیلئے ناقابل تلافی نقصان ہے ۔ مقررین نے واضح کہا کہ وہ اپنی ملازمتیں بچانے نہیں آئے بلکہ اداروں کو بچانے کیلئے آئے ہیں اور اس مقدس کام کو پایہ تکمیل تک پہچانے کیلئے وہ آخری حد تک جائینگے مقررین نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ خیبرپختونخوا کے فنی تربیتی اداروں کو تباہ کرنے سے گریز کریں اور شخصی قوانین کی بجائے آئین اور قانون کا احترام کریں مقررین نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت لوگوں سے روزگار چھیننے اور اداروں کی بربادی کی پالیسی پر گامزن ہے جو کہ صوبے میں امن وامان کامسئلہ پیدا کرسکتی ہے ۔ مقررین نے اعلان کیا کہ وہ عید الاضحیٰ کے بعد سپریم کورٹ اسلام آباد کے سامنے طویل دھرنا دینگے ۔ مقررین نے کہا کہ اب انہیں اپنی ملازمتوں کی کوئی پرواہ نہیں اور وہ اس ایشو کو اس وقت تک سڑکوں پر گھسیٹتے رہیں گے جب تک قومی اثاثے قوم کو واپس نہیں ملتے اور مالی بے ضابطگیوں میں ملوث افراد انصاف کے کٹہرے میں نہیں لائے جاتے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر