چارسدہ میں ضلع ناظم اور نائب ناظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد ناکامی سے دوچار

چارسدہ میں ضلع ناظم اور نائب ناظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد ناکامی سے دوچار

چارسدہ (بیورورپورٹ)ضلع ناظم اور نائب ناظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ۔سہ فریقی اتحاد کے پیش کردہ تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری کے دوران اے این پی کے ضلعی ممبر اصغر عباس پر اسرار طور پر غائب ہو گئے ۔ اپوزیشن کا صوبائی حکومت پر اے این پی کا ممبر اغواء کرنے کا الزام۔پی ٹی آئی کے ضلع ناظم اور جماعت اسلامی کے ضلع نائب ناظم اعلی کی کرسیاں بچ گئی ۔ تفصیلات کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی ،قومی وطن پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کے طرف سے تحریک انصاف کے ضلعی ناظم فہد ریاض اور جماعت اسلامی کے نائب ناظم اعلی مصور شاہ کے خلاف پیش کردہ تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری کیلئے گزشتہ روز پریزائڈنگ آفیسر اختر منیر نے ضلع کونسل ہال میں رائے شماری کیلئے اجلاس طلب کیا تھا ۔پیر کے روز مقررہ وقت صبح 10بجے پر مجوزہ اجلاس شروع نہ کرنے پر حکومتی بینچوں سے احتجاج شروع کیا گیا اور پریزائڈنگ آفیسر اے ڈی لوکل گورنمنٹ اختر منیر پر اپوزیشن سے ساز باز کے الزامات لگائے جس سے ضلع کونسل میں کافی تناؤ پیدا ہو گیاجبکہ ضلع ناظم ، نائب ناظم نے ضلع کونسل کے دیگر ہم خیال ساتھیوں سمیت ضلع کونسل سے احتجاجاواک آوٹ کیا اور ان کے خلاف نعرہ بازی کی ۔ بعد ازاں ڈسٹرکٹ کمشنر چارسدہ کے غیر متوقع آمد اور حکومتی آراکین سے بند کمرے میں بات چیت کے بعد حالات معمول پر آئے گئے ۔ وقت گزرنے کے ساتھ اپوزیشن جماعتوں میں مایوسی اور محرومی جبکہ حکومتی جماعتوں پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے ممبران اور کارکنان میں خوشی کی لہر پھیل گئی۔واضح رہے کہ قائم مقام کنوینر سپیکر ہدایت اللہ خان کے ساتھ حکومتی ارکان کی طرف سے بد تمیزی اور غیر اخلاقی رویہ اختیار کرنے پر کنوینر نے اپنے عہدے سے احتجاجا مستعفی ہوگئے ۔ دن بھر افراتفری اور ہیجانی کیفیت کے بعد چار بجے اے ڈی اختر منیر نے اپنے دفتر میں بیٹھ کر میڈیا کے سامنے عدم اعتماد تحریک کی ناکامی کا نوٹیفکیشن جار ی کیا۔قابل امر ذکر یہ ہے کہ ضلع کونسل ہال میں آراکین اندر باہر ہوتے رہے مگرمقررہ وقت تک باقاعدہ اجلاس شروع نہ ہوسکا جس پر سوالات اٹھ رہے ہیں ۔ صحافیوں کی طرف سے بار بار پوچھنے کے باوجود پریزائڈنگ آفیسر اجلاس کے عدم انعقاد اور تحریک عدم اعتماد کی کامیابی اور ناکامی سمیت اجلاس موخر کرنے کے حوالے سے سوالات کا جواب دینے کی بجائے یہ کہتے رہے کہ سب کچھ قانون اور بلدیاتی رولز کے مطابق ہو ا ہے ۔ انہوں نے عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہونے کے حوالے سے سرکاری نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ۔ دوسری طرف اپوزیشن لیڈر قاسم علی خان محمد زئی نے صوبائی حکومت پر ان کے ممبر کے اغواء کا الزام لگایا اور کہا کہ تبدیلی کے دعویداروں کی جمہوریت پسندی اور سیاہ چہرہ عوام کے سامنے آگیاہے ۔

 

مزید : پشاورصفحہ آخر