کوہاٹ ،فنڈز کی کمی سے تعمیراتی کام بروقت مکمل نہ ہوسکے

کوہاٹ ،فنڈز کی کمی سے تعمیراتی کام بروقت مکمل نہ ہوسکے

کوہاٹ (بیورورپورٹ) فنڈز کی قلت متعدد سرکاری سکولوں میں تعمیراتی کام بروقت مکمل نہ ہو سکے تعلیمی ایمرجنسی کے دعوے کرنے والوں کی ترجیحات میں تعلیم سرے سے شامل ہی نہیں فٹ پاتھوں اور گیٹوں پر کروڑوں خرچ کرنے والے سکولوں اور کالجز کی ضروریات سے بے خبر‘ تفصیلات کے مطابق صوبائی حکومت نے حلقہ 38 میں مختلف سرکاری سکولوں میں سائنس لیبارٹریز اور نئے پرائمری سکولوں کی منظوری دے کر ابتدائی فنڈز تو ریلیز کر دیئے مگر مزید فنڈز نہ دینے کی وجہ سے یہ تعمیراتی منصوبے گزشتہ ڈیڑھ سے دو سالوں میں مکمل نہ ہو سکے ان منصوبوں میں ہائی سکول بہزادی چکرکوٹ میں سائنس لیبارٹری‘ ہائی سکول نصرت خیل میں سائنس لیبارٹری کے منصوبے تاحال مکمل نہیں کیے جا سکے اسی طرح گرلز ہائیر سیکنڈری سکول بہزادی چکرکوٹ میں امتحانی ہال کا منصوبہ تاحال نامکمل ہے پرائمری سکول قاضی بانڈہ پر تعمیراتی کام التواء کا شکار ہے اسی طرح محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کی نگرانی میں مزید کئی سکولوں میں تعمیراتی منصوبے فنڈز نہ ہونے کی بناء پر سالوں سے لٹکے ہوئے ہیں دلچسپ بات یہ ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت کا نعرہ تو تعلیمی ایمرجنسی ہے مگر تعلیم سب کے لیے ان کی ترجیحات میں شامل نہیں بلکہ موجودہ حکومت فٹ پاتھوں‘ شہر میں داخلی دروازوں کی تعمیر اور قبرستانوں کے گرد چار دیواری بنانے کے منافع بخش منصوبوں میں زیادہ دلچسپی لیتی دکھائی دیتی ہے جو کہ عمران خان کے منشور کے قطعاً خلاف ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر