جندول ،ہیروئن اور آفیون کے بعد آئس کی فروخت کاسلسلہ بھی شروع

جندول ،ہیروئن اور آفیون کے بعد آئس کی فروخت کاسلسلہ بھی شروع

جندول(نمائندہ پاکستان) تحصیل منڈا میں چرس اور افیون کے بعد ہیروئن اور نو وارد خطرناک نشہ آئس کی فروخت کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے،مقامی لوگوں کے مطابق تحصیل منڈا میں جہاں پہلے منشیات تحصیل منڈا اور باجوڑ ایجنسی کے بارڈر میاں کلی پھاٹک پر فروخت ہوا کرتے تھے تاہم اب منشیات فروش اتنے دلیر ہو چکے ہیں کہ چوکی منڈا کے ارد گرد منڈا قلعہ ،منڈا خوڑ ،گوسم ڈاگ اور منڈا بازار کے گرد و نواح میں کھلے عام موبایل فون رابطہ پر فروخت کیا جاتا ہے ، مقامی لوگوں کے مطابق مقامی شہریوں کیساتھ ساتھ کئی افغان مہاجرین بھی منشیات فروشی کے دھندہ سے وابستہ ہیں اور بار بار پکڑے جانے کے باوجود حکومتیں اداروں نے انہیں ملک بدر کرنے کیلئے اقدامات نہیں اٹھائیں ، مقامی لوگوں کے مطابق منشیات فروشوں کو بڑے ہاتھوں کی ہمایت حاصل ہیں جس کی وجہ سے اس دھندہ میں آئے روز اضافہ اور نئے نئے تجربات کئے جاتے ہیں ، مقامی لوگوں کے مطابق منشیات فروشوں کیساتھ مختلف چوکیوں میں طویل مدت سے تعینات محررملے ہوئے ہیں اور مذکورہ محررمنشیات فروشوں اور افسران کے مابین رابطہ کیلئے پل کا کردار ادا کرتے ہیں ، مقامی لوگوں کے مطابق علاقہ کے ہزاروں بے روزگار نوجوان اور بچے نشہ کی لت میں مبتلاء ہو چکے ہیں جو نشہ خریدنے کیلئے گھروں مساجد بازاروں سے چوریاں کرتے ہیں جس کی وجہ سے علاقہ میں چوری اور رہزنی کے کیسوں میں اضافہ ہوا ہیں ، مقامی لوگوں نے صوبائی حکومت انسپکٹر جنرل آف پولیس اور ڈی آئی جی ملاکنڈ ڈویژن سے فوری نوٹس لینے اور منشیات کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر