کارخانہ داروں اور سی این جی مالکان سے گیس سیس وصولی پر جواب طلب

کارخانہ داروں اور سی این جی مالکان سے گیس سیس وصولی پر جواب طلب

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے جسٹس محمدابراہیم خان اور جسٹس اعجازانورخان پرمشتمل دورکنی بنچ نے خیبرپختونخواکے کارخانہ داروں اورسی این جی مالکان سے گیس انفراسٹرکچرڈویلپمنٹ سیس کی وصولی روکتے ہوئے اوگراٗ ایس این جی پی ایل اوروفاقی حکومت سے جواب مانگ لیاعدالت عالیہ کے فاضل بنچ نے شمائل احمدبٹ ا ور اسحاق علی قاضی ایڈوکیٹس کی وساطت سے دائررٹ درخواستوں کی سماعت کی اس موقع پر عدالت کو بتایاگیاکہ پشاورہائی کورٹ نے ابتدائی طورپر جی آئی ڈی سی کو غیرقانونی قرار دیاتھااوریہ فیصلہ سپریم کورٹ نے بھی بحال رکھاتاہم بعدازاں وفاقی حکومت نے ایک مرتبہ پھرقانونی تحفظ کے ساتھ جی آئی ڈی سی کو لاگوکیاجسے ہائی کورٹ نے بھی قانونی قراردیاکیونکہ اس حوالے سے مطلوبہ قانون سازی کی گئی تھی انہوں نے عدالت کو بتایا کہ قانون کے مطابق جی آئی ڈی سی کی وصولی کے لئے قانون سازی کے بعد رولزکی تیاری ناگزیرہے کیونکہ ان قوانین کے تحت یہ وصولی کی جانی ہے اوراس کے لئے باقاعدہ طریقہ کار مرتب کرناہوگا مگراس حوالے سے ابھی تک ضروری رولزنہیں بنائے گئے مگراس کے باوجود ایس این جی پی ایل نے کروڑوں کے بقایاجات کی وصولی کے لئے نوٹس جاری کئے ہیں جن کاکوئی قانونی جوازنہیں بنتالہذاجب تک وفاقی حکومت مذکورہ رولزنہیں بناتی تب تک یہ ریکوری نہ کی جائے عدالت نے ابتدائی دلائل کے بعد بقایاجات کی وصولی روک دی تاہم اس حوالے سے صنعت کاروں اورسی این جی مالکان کو موجود بل ادا کرنے کے احکامات جاری کئے ۔

 

مزید : پشاورصفحہ آخر