مری، ریسکیو1122 کو دریائے جہلم میں ڈوبنے والے کی نعش نہ مل سکی

مری، ریسکیو1122 کو دریائے جہلم میں ڈوبنے والے کی نعش نہ مل سکی

مری (خبر نگار) کوہالہ کے خونی ’’نیلم پوائنٹ‘‘ پر دریائے جہلم میں ڈوب کر جاں بحق ہونے والے گوجرنوالہ کے نوجوان کی نعش تیسرے روز بھی ریسکیو1122مری کی ٹیم کو تلاش کے بعد بھی نہیں مل سکی ۔اس سلسلے میں گرفتار ملزمان کو پولیس نے مجسٹریٹ کے روبرو پیش کر کے ریمانڈ حاصل کر لیا ہے ۔متوفی کے والد سمیت دیگر ورثاء جرگہ کے زریعہ گرفتار عزیزوں کو معاف کرنے کیلئے تیار ہیں مگر ماں نے معاف کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔ اس خونی ’’نیلم پوائنٹ‘‘ کے پی کے حکومت کی جانب سے ابھی تک بند کیئے جانے کے نتیجے میں مقامی لوگوں اور سیاحوں میں سخت تشویش اور اضطراب پایا جا رہا ہے ۔اس طرح گوجرانوالہ کے نوجوان علی ابرار کی نعش کو پیر کے روز ریسکیو1122مری کی ٹیم انتہائی جانفشانی کا مظاہر کر تے ہوے دریائے جہلم کے کئی کلومیٹر علاقہ کو چھانتے رہے مگر نعش نہ مل سکی ۔دوسری جانب علی ابرار کے والد محمد ابرارکے مطابق اس کے بیٹے کے ہمراہ جانے والے تمام افراد جن کا تعلق ان ہی کے خاندان سے ہے انہیں خاندان کے تمام افراد معاف کرنے کیلئے تیار ہیں تاہم ان کی ماں کسی صورت میں بھی معافی کیلئے تیار نہیں۔تاہم با خبر زرایع کے مطابق خاندانی معاملات کو طے کر لیا جائے گا ۔ادھر اس خونی پوائنٹ کے بارے میں حکومت کے پی کے کی جانب سے کوئی بھی کاروائی نہ کیئے جانے کے نتیجے میں سیاحوں اور عوام میں سخت تشویش پائی جا رہی ہے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر