اقتصادی نمو کے لئے جامع نقطہ نظر اختیار کیا جائے،ابرہیم قریشی

اقتصادی نمو کے لئے جامع نقطہ نظر اختیار کیا جائے،ابرہیم قریشی

کراچی(اسٹاف رپورٹر)آل پاکستان بزنس فورم کے صدر ابراہیم قریشی نے وزیراعظم اور ان کی نئی کابینہ کو چارج سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ نئی حکومت ملک میں برآمدات میں اضافے کے پیش نظر صنعتی اور زرعی شعبہ کی ترقی کے لئے جامع نقطہ نظر اختیار کرے۔ ایک پریس ریلیز کے مطابق انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 13 ارب ڈالر کی برآمدی استعداد غیر مستعمل ہے، یہاں گھریلو ٹیکسٹائل مصنوعات، چمڑے کی مصنوعات اور اناج کی ایک سال میں دوگنا برآمدی صلاحیت موجود ہے۔ ابراہیم قریشی نے کہا کہ صنعت کو تجارتی بنیادوں پر فروغ دینے کے لئے ایک جامع حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے جس میں نہ صرف مینوفیکچررز کی معاونت ہو بلکہ ہمارے ورکرز کو بین الاقوامی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے ان کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جا سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئی کابینہ طویل المدت مستحکم انتظامی امور کے ذریعے بنیادی اقتصادی اصلاحات کی پیروی کرے گی۔ وزارت تجارت کو بین الاقوامی مارکیٹوں میں برآمدات میں اضافے کے لئے نئے تجارتی مواقع اور دنیا کے مختلف خطوں کی مارکیٹوں اور نئے تجارتی راستوں کی تلاش کے لئے کام کرنا چاہئے۔ نئی تجارتی پالیسی میں ترسیلی نظام کی بہتری، ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافے اور مقابلے کے رجحان میں عالمی اور اندرونی تجارت کے حجم میں مقابلے کے رجحان کی فراہمی پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت چین کی طرز پر تیز صنعتی نمو کے لئے بجلی اور گیس کے خصوصی پیکیج فراہم کرے۔ نرخوں میں اضافے اور ٹیکسوں کے نتیجہ میں پیداواری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں مقابلہ نہیں کیا جا سکتا اور برآمدات میں کافی حد تک کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اندرونی اور غیر ملکی زرعی صنعت کو خام مال کی فراہمی کے لئے ایک زرعی پالیسی ناگزیر ہے۔ اس کے ذریعے مقامی ٹیکسٹائل مصنوعات کے عالمی مارکیٹ میں کھوئے ہوئے مقابلے کے رجحان کو حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ مزید برآں روائتی صنعتی اشیاء بشمول کنزیومر ٹیکسٹائل اور چمڑے کی مصنوعات سمیت غیر روائتی صنعتی اشیاء کو متنوع کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اندرونی تجارت اور ترسیلی نظام میں بہتری کے لئے منصوبے پر کام کرنا چاہئے جس میں برآمدات کو بالآخر فروغ حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ ترکی، تھائی لینڈ اور ایران کے ساتھ آزادانہ تجارتی معاہدوں (ایف ٹی ایز) کے لئے مذاکرات جاری ہیں، انہیں پاکستان کے مفاد میں جلد از جلد حتمی شکل دینی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اسی طرز پر لاطینی امریکہ کے ساتھ بھی آزادانہ تجارتی معاہدوں کے لئے کوششیں کرنی چاہئیں۔ ابراہیم قریشی نے کہا کہ جنوبی امریکہ کی مارکیٹوں میں بہت مواقع ہیں اور بروقت اقدامات کے ذریعے پاکستان وہاں داخل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ارجنٹائن، برازیل، کولمبیا اور کیوبا میں بڑی درآمدی صلاحیت ہے۔

 

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر