حکم نبیﷺ سے چادر پھیلا کرسینے سے لگائی توعلم کا خزانہ مل گیا

حکم نبیﷺ سے چادر پھیلا کرسینے سے لگائی توعلم کا خزانہ مل گیا
حکم نبیﷺ سے چادر پھیلا کرسینے سے لگائی توعلم کا خزانہ مل گیا

  

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ محدث اعظم تھے ۔ بے شمار احادیث آپؓ سے مروی ہیں ۔ آپؓ کی یادداشت بہت زیادہ تھیں اور سینہ علم بہت کشادہ تھا تو آپؓ اس پر فخر فرماتے۔  بعض احباب اعتراض اٹھاتے کہ اے ابوہریرہ تو کثرت سے احادیث بیان کرتا ہے حالانکہ دوسرے یعنی مہاجر اور انصار کے پاس اتنی احادیث نہیں ہوتیں ۔اسکی وجہ کیا ہے؟۔حضرت امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے ہمعصروں میں سب سے زیادہ حدیث جاننے والے تھے اور حفاظ حدیث میں سب سے بڑے حافظ الحدیث تھے۔ بخاری شریف میں اس بات کا ذکر موجود ہے کہ جب لوگ ایسا سوال کرتے تو حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ”میں تومسکین آدمی تھا اور پیٹ بھرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ رہتا تھا۔لیکن مہاجرین بازاروں میں اپنے کاروبار میں مشغول رہتے تھے اور انصار اپنے ا موال کی دیکھ بھال میں۔میں ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص میری بات ختم ہونے تک اپنی چادر کو پھیلالے پھر اپنے سے ملالے تو جو کچھ اس نے مجھ سے سنا اس کو کبھی نہیں بھولے گا۔میں نے اپنی چادر کو پھیلا لیا۔ اس ذات کی قسم جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے پھر کبھی میں آپﷺ کی کوئی حدیث جو آپﷺ سے سنی تھی نہیں بھولا۔

مزید : روشن کرنیں