شریف فیملی کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی کارروائی شروع

شریف فیملی کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی کارروائی شروع
شریف فیملی کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی کارروائی شروع

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) نیب لاہور نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور انکے خاندان کے افراد دو بار طلبی سمن کے باوجود پیش نہ ہونے پر انکے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کیلئے وزارت داخلہ کو درخواست بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف پنجاب سمیت ملک بھر میں وکلاءکی ہڑتال، عدالتوں کا بائیکاٹ ، کوئی وکیل پیش نہ ہوا، سائلین پریشان

روزنامہ نوائے وقت کے مطابق آج 22 اگست وزارت داخلہ کو نیب کی جانب سے اس سلسلہ میں باقاعدہ درخواست موصول ہوگی۔ اس درخواست کی روشنی میں وزارت داخلہ نواز شریف اور انکے خاندان کے دیگر افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے یا نہ ڈالنے کا فیصلہ کریگی۔ اخبارکی رپورٹ کے مطابق ایک نیب اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ای سی ایل میں کسی کا نام ایک دن میں بھی ڈالا جاسکتا ہے اور اس میں ایک ماہ بھی لگ سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سابق وزیر داخلہ چودھری نثار کے دور میں ای سی ایل میں کسی کا نام شامل کرنے کا معاملہ گھمبیر ہوگیا ہے۔ اس کیلئے 3 صفحات پر مشتمل پرفارما پر کرنے کے علاوہ نام ای سی ایل میں ڈالنے کی ٹھوس وجوہات ہونا ضروری ہیں۔ ابتدائی طور پر سابق وزیراعظم نواز شریف، بیگم کلثوم نواز، مریم نواز اور اسحاق ڈار کے نام ای سی ایل میں شامل کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسلام آباد سے نیشن رپورٹ کے مطابق نیب نے شریف فیملی کو طلبی کیلئے مزید نوٹس نہ بھجوانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

نیب کے ترجمان عاصم علی نوازش نے شریف خاندان کے افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کے حوالے سے خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم نے اس حوالے سے وزارت داخلہ کو کوئی درخواست نہیں بھجوائی ہے۔ دوسری طرف وزیراعظم نواز شریف اور انکے خاندان کے دیگر افراد کے خلف کرپشن و بدعنوانی کے حوالے سے سپریم کورٹ کے احکامات پر جاری تحقیقات کے حوالے سے نیشنل بنک آف پاکستان کے صدر سعید احمد اور پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین و نواز شریف خاندان کے قریبی ساتھی جاوید کیانی گزشتہ روز نیب حکام کے پاس پیش ہوئے سعید احمد سے ساڑھے تین گھنٹے جبکہ جاوید کیانی سے نیب حکام نے پانچ گھنٹے پوچھ گچھ کی۔

پاکستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود، اسلام آبادکو طالبان کے ٹھکانوں کو ختم کرنا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ کا نئی امریکی پالیسی کا اعلان

علاوہ ازیں وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو نیب لاہور نے آج منگل 22 اگست طلب کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق نیب لاہور نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کیخلاف سپریم کورٹ کے احکامات پر تحقیقات کیلئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو آج منگل 22 اگست کو طلبی کیلئے سمن جاری کئے ہیں۔ اخبار کے مطابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار آج نیب لاہور میں پیش نہیں ہوںگے لیکن اس خبر کے فائل ہونے تک وہ پیش نہیں ہوئے۔ سپریم کورٹ میں نواز شریف کے بعد اسحاق ڈار نے بھی عدالت عظمیٰ کے پانامہ کیس کے 28جولائی کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی اپیل دائر کردی ہے ،وزیر خزانہ نے نظرثانی درخواست پر فیصلے آنے تک 28 جولائی کے فیصلے کو معطل کرنے اورنیب میں ریفرنس دائر کرنے کے فیصلے پر عمل درآمد روکنے کی استدعا کی ہے ، نظر ثانی درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ اسحاق ڈار کے خلاف نام نہاد اعترافی بیان کا الزام لگایا گیا جبکہ درخواست کنندگان نے آمدن سے زائد اثاثوں کا الزام نہیں لگایا،اسحاق ڈار نے جے آئی ٹی پر اختیارات سے تجاوز کا الزام عائد کرتے ہوئے رپورٹ کو مشکوک قرار دیدیا، نظر ثانی درخواست کے مطابق تحقیقاتی ٹیم کو اثاثوں کی تحقیقات کا حکم نہیں دیا گیا،20 اپریل کے فیصلے میں اسحاق ڈار کیخلاف تحقیقات کا کوئی حکم نہ تھا، نظر ثانی درخواست کے مطابق کیا 16 سال میں اثاثوں میں اضافہ مختصر مدت ہے،بطور وزیرخزانہ اثاثوں میں 544 ملین کی کمی ہوئی،اسحاق ڈار نے 2008-09ءمیں اثاثوں میں ہونے والے اضافوں کا اعتراف کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ اثاثوں میں اضافے کی وجہ 6 سالہ غیر ملکی آمدن تھی جس کا ریکارڈ جے آئی ٹی اور عدالت کو فراہم کیا، حالانکہ عدالت نے جے آئی ٹی کو ان کے اثاثوں کی تحقیقات کا حکم نہیں دیا تھا۔

وعدہ معاف گواہ بھی ملزم ،جے آئی ٹی نے ماہین فاطمہ کو ناقابل بھروسہ قرار دیا ،چودھری شوگر ملز کیس سیاسی دباﺅ پر بنایا گیا ،سپیشل جج سنٹرل

نظر ثانی درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کیخلاف اسحاق ڈار کے اعتراضات کو زیر غور نہیں لایا گیا، کیس کی سماعت تین رکنی بنچ نے کرکے فیصلہ پانچ رکنی بنچ نے 28جولائی کا فیصلہ سنایا۔ 1983ءسے 2016ءتک کا مکمل انکم اور ویلتھ ٹیکس کا ریکارڈ فراہم کیا گیا،ٹیکس اتھارٹیز نے اسحاق ڈار کے ریٹرن کو قبول بھی کیا،درخواست میں ریفرنس دائر کرنے کے معاملے پر اسحاق ڈار نے موقف اپنایا کہ مشکوک تحقیقاتی رپورٹ پر ریفرنس دائر کیسے ہوسکتا ہے؟ریکارڈ سے ثابت ہے کہ اسحاق ڈار کے اثاثے آمدن سے زائد نہیں ، ریفرنس حقائق کے بر خلاف دائر ہوا تو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہو گی، ریفرنسز کی نگرانی کیلئے نگران جج کے تقرر سے عدالت بظاہر شکایت کنندہ بن گئی،نگران جج کی تعیناتی ٹرائل پر اثر انداز ہو گی،نگران جج کی تعیناتی اور 28 جولائی کا حکم آرٹیکل 175 اور 203 کی خلاف ورزی ہے۔ فیصلہ میں سقم موجود ہیں، عدالت 28جولائی کا فیصلہ کالعدم قرار دے۔

مزید : اسلام آباد