ڈونلڈٹرمپ کی جانب سے افغان پالیسی کے اعلان کے بعد افغان طالبان بھی میدان میں آگئے

ڈونلڈٹرمپ کی جانب سے افغان پالیسی کے اعلان کے بعد افغان طالبان بھی میدان میں ...
ڈونلڈٹرمپ کی جانب سے افغان پالیسی کے اعلان کے بعد افغان طالبان بھی میدان میں آگئے

  

کابل (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے نئی افغان حکمت عملی کا اعلان کیے جانے کے بعد افغان طالبان بھی میدان میں آگئے اور کہاہے کہ کچھ بھی نیا نہیں، اگر امریکہ افغانستان سے اپنی افواج نہیں نکالتا تو اکیسویں صدی میںافغانستان سپرپاور کا دوسرا قبرستان بنے گا۔

افغان طالبان کے ایک ترجمان نے ٹیلی فون پر اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ طالبان صدر ٹرمپ کی افغان حکمت عملی اور مزید ہزاروں فوجی بھیجنے کے اعلان کو مسترد کرتے ہیں۔ ایک سینئر طالبان کمانڈر نے کہاکہ ٹرمپ صرف سابق صدر جارج بش کی طرح کا رویہ دکھارہے تھے ، وہ امریکی فوجیوں کو ضائع کررہے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ اپنے ملک کا دفاع کیسے کرنا ہے ، اس حکمت عملی سے کچھ بھی نہیں بدلے گا۔ ان کاکہناتھاکہ کئی نسلوں سے ہم یہ جنگ لڑتے آرہے ہیں، ہمیں کوئی ڈر نہیں ، ہم تروتازہ ہیں اور آخری سانس تک لڑتے رہیں گے ۔

پاکستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود، اسلام آبادکو طالبان کے ٹھکانوں کو ختم کرنا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ کا نئی امریکی پالیسی کا اعلان

طالبان نے مزید کہاکہ صدر ٹرمپ کے اعلانات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ افغانستان کی موجودہ حکومت امریکی کٹھ پتلی ہے ۔

مزید : بین الاقوامی