چین نے بھارتی مذاکرات کی پیشکش مسترد کردی، ڈوکلام سے فوج واپس بلوانے کا مطالبہ

چین نے بھارتی مذاکرات کی پیشکش مسترد کردی، ڈوکلام سے فوج واپس بلوانے کا ...
چین نے بھارتی مذاکرات کی پیشکش مسترد کردی، ڈوکلام سے فوج واپس بلوانے کا مطالبہ

  

بیجنگ  (ویب ڈیسک) چین نے بھارت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش ایک بار پھر مسترد کردی ، بیجنگ نے مطالبہ کیا ہے کہ بات چیت سے قبل بھارت ڈوکلام سے اپنی افواج واپس بلوائے۔ادھر چینی افواج کی بھارتی سرحد کے قریب فوجی مشقیں ،فضائیہ اور مسلح افواج کے 10یونٹس نے حصہ لیا، پیپلز لبریشن آرمی نے ڈوکلام میں ٹکراﺅ کے مقام سے کچھ دور خیمے نصب کردیے۔

پاکستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود، اسلام آبادکو طالبان کے ٹھکانوں کو ختم کرنا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ کا نئی امریکی پالیسی کا اعلان

تفصیلات کے مطابق بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے امید ظاہر کی ہے کہ سرحدی تعطل ختم کرنے کے لیے چین جلد ہی بھارت سے بات چیت شروع کرے گا۔جبکہ چین نے ایک بار پھر کہا ہے کہ کسی طرح کے مذاکرات شروع ہونے سے پہلے انڈیا اپنی فوج ڈوکلام سے واپس بلائے۔دنوں ملکوں کی افواج کے درمیان بھوٹان کے متنازع علاقے ڈوکلام میں گذشتہ دو مہینے سے کشیدگی برقرار ہے۔بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ ڈوکلام میں تعطل برقرار ہے۔ میں امید کرتا ہوں یہ تعطل جلد ختم ہوگا۔ مجھے امید ہے کہ چین جلد ہی مذاکرات کا آغاز کرے گا۔

لیکن چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے بیجنگ میں اس سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سکّم کے نزدیک دونوں ملکوں کی سرحدیں بالکل واضح ہیں اور کوئی بھی بات چیت شروع کرنے سے پہلے انڈیا کو اپنے فوجیوں کو عسکری ساز و ساما ن سمیت واپس بلانا ہوگا۔دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب گذشتہ جون میں انڈین فوجیوں نے ڈوکلام کے علاقے میں چینی فوجیوں کو سڑک تعمیر کرنے سے روک دیا۔اس وقت سے دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مد مقابل کھڑی ہیں۔چین کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں کوئی بھی بات چیت تبھی ہوسکتی ہے جب انڈیا کی فوج ڈوکلام علاقے سے اپنی سرحد میں واپس جائے۔ادھر چین سے بھی خبریں موصول ہورہی ہیں کہ چینی فوج نے ڈوکلام میں ٹکراﺅ کے مقام سے کچھ ہی دوری پر سینکڑوں خیمے نصب کر دیے ہیں۔چینی ذرائع ابلاغ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق چینی افواج کی مغربی کمان نے گذشتہ ہفتے کے اواخر میں فوجی مشق کی ہے۔ اس مشق میں چینی فوج کی فضائیہ اور مسلح دستوں سمیت دس یونٹوں نے حصہ لیا۔

مزید : بین الاقوامی