قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 47

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 47
قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 47

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نیئر صاحب کے پیار کی بات یہ تھی کہ انہوں نے ایک نیا فلیٹ لیا اور اس کا ایک کمرہ میرے لئے ریزرو کر دیا اور اس کے باہر قتیل شفائی کے نام کی نیم پلیٹ لگا دی اور مجھ سے کہا کہ میں نے یہ کمرہ مستقل طور پر آپ کیلئے ریزرو کر دیا ہے۔ آپ جب بھی بمبئی آئیں گے ‘ یہیں ٹھہریں گے۔

اس واقعہ کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان جنگوں کی وجہ سے اٹھارہ سال کا وقفہ پڑ گیا تو اس وقفے کے بعد جب میں بمبئی گیا تو اب نیم پلیٹ تو دروازے پر نہیں تھی لیکن نیئر صاحب کا پیار اب بھی اسی طرح قائم تھا۔ اگر کوئی تبدیلی آئی تھی تو وہ صرف یہ تھی کہ نیئر صاحب اب میوزک ڈائریکٹرکی بجائے ہومیو پیتھک ڈاکٹر بن چکے تھے اور ان کے جو ٹھاٹھ میوزک ڈائریکٹر کے طور پر تھے وہی ٹھاٹھ اب ڈاکٹر کے طورپر تھے ۔ میں نے دیکھا کہ ایک بڑے ڈاکٹر کی طرح وہ مصروف تھے اور ان کی اچھی خاصی کمائی تھی۔

میں نے پوچھا ’’ یہ تبدیلی کیوں آئی ہے‘‘

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 46  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

کہنے لگے ’’کام تو کوئی کرنا ہی تھا اور اس کام کا مجھے پہلے سے شوق تھا۔ البتہ پہلے صرف دوستوں کا شوقیہ علاج کرتا تھا اور اب میں نے اسے ذریعہ معاش بنا لیا ہے ۔ کیونکہ بمبئی کی فلم انڈسٹری میں دو ہی چیزیں ہوتی ہیں یا تو جوتے مار کر کام کر و یا پھر جوتے کھا کر و۔ میں نے اس انڈسٹری میں بہت جوتے مارے ہیں۔ کام اب بھی کرسکتا ہوں لیکن اب کام جوتے کھا کر کر سکتا ہوں اور وہ مجھے گوارا نہیں ہے ‘‘

اوپی نیئر کے علاوہ میری دوسری دوستی راجندر کرشن سے بنی۔ تقسیم سے پہلے گجرات کے قریب کسی گاؤں کے رہنے والے تھے ۔ انہوں نے اس زمانے میں کوئی تخلص بھی رکھا ہوا تھا ۔ پھر یہ شملہ میں ملازمت کرتے رہے لیکن بعد میں بمبئی آگئے۔ یہ بڑے بذلہ سنج ‘ دوست اور شاعری میں انوکھے تیور کے آدمی تھے۔ لیکن دوسرے شاعروں کی طرح ان کی اس طرح کی پبلک ریلیشننگ نہیں تھی کہ انہیں ایوارڈ وغیرہ ملیں۔ وہ سب سے زیادہ کام کرتے تھے اور ایک زمانہ وہ تھا کہ مدراس کی فلم انڈسٹری پر ان کی پوری طرح Manoplyتھی۔

وہ نہ صرف فلم کے گانے اور ڈائیلاگ لکھتے تھے بلکہ فلم کے دوسرے کام بھی انکی مرضی سے کیے جاتے تھے۔ چنانچہ مصروفیت کے باعث ان کا ایک قدم بمبئی میں ہوتا اور دوسرا مدراس میں۔ پھر شان یہ تھی کہ اگر فلم مدراس کی ہے تو اس کا میوزک بمبئی کے ایک ہوٹل کے کمرے میں بن رہا ہے جہاں پر میوزک ڈائریکٹر ان کے زیر ہدایت کام کر رہا ہے۔

ایسے پر زور آدمی تھے کہ مزاحیہ گانے بھی لکھتے تھے اور کلاسیکل بھی۔ انہوں نے ہر ایک رنگ میں گانے لکھے۔ میں جب بمبئی گیا تو میری ان سے پہلی ملاقات ڈاکٹر نارنگ کے گھر پر ہوئی۔ ڈاکٹر نارنگ نے لاہور سے فلم کیریئر کا آغاز کیا تھا اور پنچولی کی فلم میں ہیرو بھی آچکے تھے ۔ راجندر کرشن ان دنوں ڈاکٹر نارنگ کی کسی فلم کے گانے لکھ رہے تھے۔راجندر کرشن نے اس زمانے میں میری وہاں دعوت کی ،جب وہاں شراب کی مکمل بندش تھی۔ یہ مرار جی ڈیسائی کا زمانہ تھا جنہوں نے شراب کی بجائے پیشاب پینا شروع کر رکھا تھا۔ لیکن فلم انڈسٹری کی کوئی دعوت شراب کے بغیر نہیں ہوتی تھی۔ چنانچہ راجندر کرشن نے میرے اعزاز میں جو دعوت کی اس میں انڈسٹری کے سب بڑے بڑے لوگ بلائے۔ میرے راہبر میوزک ڈائریکٹر ایس ایم بابل تھے جو اب یہاں ہیں اور معذور ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ میں آپ کو وہاں پہنچا دوں گا۔ انہوں نے خود پہلے ہی بہت زیادہ پی لی تھی اور جب مجھے ساتھ لیا تو زیادہ پینے کی وجہ سے صحیح راستہ بھول گئے۔ تقریباً دو تین گھنٹے تک مجھے ٹیکسی میں بٹھا کر گھماتے رہے۔ آخر میں نے کہا کہ ٹیکسی چھوڑ دیئے اور پیدل ہی گھر ڈھونڈتے ہیں۔

ہم ٹیکسی سے اترے ہی تھے کہ ہم نے دیکھا کہ میوزک ڈائریکٹر مدن موہن ایک پان والے کی دوکان سے پان لے رہے تھے۔ انہوں نے مجھے دیکھا تو پیار اور ناراضی کے ملے جلے انداز میں میرے سینے پر مکا مار کر کہنے لگے’’ ظالم تو نے اس کی ساری پارٹی تباہ کر کے رکھ دی ہے۔ ابھی ابھی لوگ کھانا کھا کر گئے ہیں اور اس نے مسلسل تین گھنٹے تمہارا انتظار کیاہے ‘‘

میں نے کہا ’’ہمیں ان کے گھر لے کر تو چلیں‘‘ مدن موہن راولپنڈی کے رہنے ولے تھے اور جانتے تھے کہ میں بھی ہری پور اور پنڈی کا رہنے والا ہوں۔ اس لئے مجھ سے بہت زیادہ پیار کرتے تھے اور دو تین ملاقاتوں میں ہی بہت قریب آگئے تھے۔

وہ ہمیں ساتھ لے کر راجندر کرشن کے گھر گئے جو کہ وہاں سے قریب ہی تھا۔ راجندر نے مجھے دیکھا تو بہت پریشان نظر آرہا تھا۔ کہنے لگا’’ یار پھر بھی شکریہ کہ تم آگئے ہو۔وہ بوتل میں تھوڑی سی پڑی ہے ،اگر پینی چاہو تو پی لو اور وہ تھوڑا سا کھانا پڑا ہے۔ اگر کھانا چاہو تو کھا لو۔ اس کے علاوہ اب اور کیا کیا جاسکتا ہے۔ بہرحال جو میرے ساتھ ہوا ہے وہ ان لوگوں سے پوچھ لو ‘‘ مجھے یہ سن کر بڑی شرمندگی ہوئی۔ معافی تو مانگی لیکن معافی مانگ کر بھی کیا ہوسکتا تھا کیونکہ میرے ذہن میں یہ بات تھی کہ شراب پر پابندی ہونے کے باوجود اس نے ساری فلم انڈسٹری کو بلایا ہوا تھا اور نجانے کس طرح اتنی ساری شراب کا اہتمام کیا۔ اور شراب بھی پھر سکاچ تھی ۔ پھر اس نے اس دعوت پر اس وقت کے حساب سے اتنا پیسہ خرچ کیا تھا جو عام آدمی نہیں کرسکتا۔ شرمندگی تو بہت ہوئی لیکن ہمارے تعلقات بہت بڑھ گئے۔(جاری ہے )

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 48 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : گھنگروٹوٹ گئے