فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 188

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 188
فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 188

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ہمارے پاس کل سرمایہ پونے دو ہزار کے قریب رہ گیا تھا۔ سوچا کہ شیخ صاحب کو حیدر آباد فون کر کے پچاس ہزار روپیہ بھیجنے کا کہا جائے اور پھر شوٹنگ کا پروگرام بنایا جائے۔ ہم نے حیدر آباد کے لئے ٹرنک کال ملائی۔ ٹرنک کال کا ملنا بھی ان دنوں بائی چانس ہی تھا۔ملی ملی‘ نہ ملی نہ ملی۔

ٹرنک کال ملانے کا مطلب یہ تھا کہ آپ گئے دین دنیا سے۔ کال بک کرا کے بیٹھے ہوئے ہیں مگر کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو رہا۔ قسمت سے اگر دو چار گھنٹے میں مل گئی تو خوش قسمتی ہے ورنہ اگلے دن تک ٹیلی فون کے پاس بیٹھے انتظار کرتے رہئے۔

دو دن ہم حیدر آباد ٹیلی فون ملانے کی کوشش کرتے رہے۔ ایکسچینج والوں سے بھی جھگڑے کرتے رہے۔ آخر تیسرے دن کال مل گئی۔ دوسری طرف شیخ صاحب بول رہے تھے۔ ’’السلام علیکم شیخ صاحب۔ دو دن سے ٹرنک کال ملا رہے ہیں۔ شکر ہے مل گئی۔‘‘

ادھر سے آواز آئی ’’یہ آپ کی نہیں‘ میری ٹرنک کال ہے۔ میں بھی چار دن سے فون ملا رہا ہوں۔ اگر آج بھی نہ ملتی تو تار دے دیتا۔‘‘

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 187 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں 

ہم نے کہا ’’پہلے آپ بات کر لیجئے‘ پھر ہم آپ کو اپنی سنائیں گے۔‘‘

بولے ’’آفاقی صاحب۔ میں بہت شرمندہ ہوں۔ نادم ہوں مگر مجھے معاف کر دیجئے۔ میرے بس کی بات نہیں ہے۔‘‘

ہم حیران رہ گئے ’’کیا ہو گیا۔ کس بات پر شرمندہ ہو رہے ہیں؟‘‘

بولے ’’میری فیکٹری میں آتش زدگی ہو گئی ہے۔‘‘

ہم پریشان ہو گئے ’’زیادہ نقصان تو نہیں ہوا؟‘‘

’’نقصان تو بہت ہوا ہے۔ میری تو انشورنس بھی ختم ہو چکی تھی۔ میں بہت پریشان ہوں۔‘‘

ہم نے مناسب الفاظ میں ان سے فیکٹری کی تعزیّت کی۔

وہ پوچھنے لگے ’’آپ نے کب شوٹنگ کا پروگرام بنایا ہے؟‘‘ ہم نے کہا ’’بس آپ جلدی سے پیسے بھیج دیں تو پروگرام بھی بن جائے گا۔‘‘

کہنے لگے ’’آفاقی صاحب۔ ناراض نہ ہوں۔ میں فی الحال پیسے نہیں بھیج سکوں گا۔‘‘

ہم پر تو جیسے بم گر گیا۔ آواز ہی گُم ہو گئی۔

وہ بولے ’’یقین کیجئے میں بے حد شرمندہ ہوں۔ اسی لئے میں کہہ رہا تھا کہ آپ پیسے لے کر اپنے پاس رکھ لیجئے۔ اب تو میں پھنس گیا ہوں۔ کم سے کم آٹھ دس مہینے تک کچھ نہیں ہو سکتا۔ آپ اپنا شوٹنگ کا پروگرام آگے بڑھا دیجئے۔‘‘

ہم نے بڑی مشکل سے خود کو سنبھالا پھر کہا ’’شیخ صاحب۔ ہم نے زندگی میں پہلی بار فلم شروع کی ہے۔ دھوم دھام سے مہورت کیا ہے۔ اب اگر شوٹنگ نہ کی تو لوگ مذاق اڑائیں گے کہ یہ بھی صرف مہورت کر کے بیٹھ جانے والوں میں سے ہیں۔ فلمی دنیا میں ایسے لوگوں کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ ہماری تو ساکھ ہی ختم ہو جائے گی۔‘‘

’’میں بہت شرمندہ ہوں‘‘ انہوں نے پھر وہی ریکارڈ لگا دیا۔

’’شرمندہ ہونے سے کام نہیں چلے گا۔ آپ اپنے حالات ٹھیک کیجئے۔ ہم کوئی اور بندوبست کرتے ہیں۔‘‘

’’ارے نہیں۔ فلم تو آپ کے ساتھ میں ہی بناؤں گا۔ کچھ عرصہ رُک جائیے۔‘‘

’’شیخ صاحب‘ آپ سمجھتے کیوں نہیں۔ یہ ہماری عزّت کا سوال ہے۔ سب ہمارا مذاق اڑائیں گے۔ ٹھیک ہے‘ اگلی بار آپ کے ساتھ فلم بنا لیں گے۔ مجھے آپ سے بہت ہمدردی ہے‘ یقین کیجئے۔‘‘

’’میں بہت شرمندہ ہوں‘‘ انہوں نے پھر وہی گردان شروع کر دی۔ شکر ہے کہ کال کا وقت ختم ہو گیا تھا ورنہ وہ خدا جانے اور کتنی بار یہی الفاظ دہراتے۔

فون خاموش ہو گیا تو ہم سوچ میں پڑ گئے۔ ایک تو زیبا کے مہورت میں نہ آنے کی وجہ سے ہی لوگ ہمارا مذاق اُڑاتے رہے تھے۔ اب اگر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گئے تو کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ فلمی دنیا میں یہ بھی ایک معمول ہے کہ نئے نئے لوگ تھوڑا بہت سرمایہ لے کر آتے ہیں۔ زور و شور سے مہورت کرتے ہیں۔ تھوڑا بہت کام بھی کر لیتے ہیں اور اس کے بعد لاپتا ہوجاتے ہیں۔ ایسے فلم سازوں کو فلم والے ’’ْموسمی پرندے‘‘ کہا کرتے ہیں۔ ہم اپنے نام پر یہ ٹھپّا نہیں لگوانا چاہتے تھے۔ تو پھر کیا کریں؟

ہمارے تعلقات‘ بے تکلفی اور دوستی ہمیشہ ہر طرح کے لوگوں سے رہی ہے مگر مشکل یہ ہے کہ ہم نے کبھی کسی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی۔ دوسرے البتہ ہم سے فائدہ اٹھاتے رہے۔ اور پھر کسی سے پیسے مانگنے کا تو ہم تصوّر بھی نہیں کر سکتے۔ ہم تو خود اپنے پیسے مانگتے ہوئے جھجکتے ہیں۔ اُدھار کیسے مانگتے؟ مگر یہ معاملہ بے حد سنگین تھا۔ اگر فلم کی شوٹنگ شروع نہ ہوئی تو ہمارے بارے میں لوگوں کی رائے خراب ہو جائے گی۔ ہم تمسخر کا نشانہ بن جائیں گے۔ مگر سرمایہ آئے کہاں سے؟ یہ تو ہمیں احساس تھا کہ ہماری شوٹنگ شروع ہو گی تو ڈسٹری بیوٹرز بھی آ جائیں گے مگر شوٹنگ کیسے ہو؟ پونے دو ہزار جیب میں ر کھ کر فلم بنانے چل کھڑے ہوئے۔ واقعی حماقت کی انتہا نہیں تو اور کیا ہے؟

اس داستان کو مختصر کرنا ہی بہتر ہے۔ خلاصہ یہ کہ ہم سے جو بھی پوچھتا کہ فلم کب شروع ہو رہی ہے تو ہم ٹال دیتے کہ بس۔ طارق صاحب فارغ ہوں گے تو شوٹنگ شروع ہو جائے گی۔ مگر ہم سوچ سوچ کر تھک چکے تھے کہ شوٹنگ کے لئے سرمایہ کہاں سے لائیں؟ ایک دن بہت غور و فکر کرنے کے بعد ہم شباب کیرانوی صاحب کے پاس چلے گئے۔ وہ ہمارے بہت پرانے دوست اور ہم راز تھے۔ ہماری صورت دیکھتے ہی پوچھا ’’یار آفاقی تم شوٹنگ کب کر رہے ہو؟‘‘

دفتر میں اور لوگ بھی بیٹھے تھے۔ اس لیے ہم نے بات ٹال دی۔ جب ہم دونوں ہی رہ گئے تو ہم نے جی کڑا کرکے تمہید باندھی۔

’’یار شباب صاحب‘ ہم تو مشکل میں پڑ گئے ہیں۔‘‘

وہ چوکنّا ہو گئے ’’کیسی مشکل؟‘‘

ہم نے مختصراً انہیں حالات سے آگاہ کیا۔

’’تو پھر اب کیا کرو گے؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔

’’سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کریں۔ سنو۔ یار تم کسی سے ہمیں قرضہ دلا دو۔ لاہور میں ایسے لوگ بھی ہیں اور ایک صاحب شیخ نتّھا تو تمہارے بہت قریبی دوست ہیں۔‘‘

’’وہ تو تمہیں بھی جانتے ہیں۔‘‘

’’جانتے تو ہیں مگر کبھی واسطہ نہیں پڑا ہے ان سے۔ تم تو ان سے قرض لیتے رہے ہو۔ وہ جس طرح چاہیں اپنا اطمینان کر لیں۔ ہمیں امید ہے کہ چند دن کی شوٹنگ کے بعد ہی ہماری فلم بِک جائے گی۔‘‘

شباب صاحب سوچ میں پڑ گئے۔ پیروں تلے گھنٹی کا بٹن دبا کر چائے اور پان منگایا۔ پھر سگریٹ‘ سگار اور پائپ تینوں میں سے پائپ کا انتخاب کر کے تمباکو نوشی شروع کر دی۔

’’لو۔ تم بھی تمباکو لے لو۔‘‘

ہم نے کہا ’’ہمارے پاس اپنا تمباکو ہے۔‘‘

ہم دونوں کچھ دیر چائے اور پائپ پیتے رہے۔ پھر ہم انہیں شیخ نتّھا سے بات کرنے کی تاکید کر کے چلے آئے۔ ہماری اطلاع کے مطابق وہ بعض لوگوں کو پچاس ساٹھ ہزار تک قرض دے دیا کرتے تھے۔ بعض اوقات اس سے زیادہ بھی دے دیتے تھے۔ ہمیں تو صرف پچاس ہزار کی ضرورت تھی۔

دوسرے دن ہم شباب صاحب کے پاس پہنچ گئے۔ وہ ہمیں لے کر دوسرے کمرے میں چلے گئے جہاں کھانا کھایا جاتا تھا۔

بولے ’’یار آفاقی۔ میں نے شیخ صاحب سے بات کی تھی مگر ان کی ایک شرط ہے۔‘‘

’’وہ کیا؟‘‘ ہم نے پوچھا۔

’’وہ صرف ان فلم سازوں کو قرض دیتے ہیں جو شاہ نور اسٹوڈیوز میں اپنی فلم بناتے ہیں۔ دراصل انہیں شوکت صاحب پر پورا بھروسا ہے کہ وہاں ان کی رقم ڈوبے گی نہیں۔ آغا صاحب اور ملک باری تو کبھی کبھی فلم ساز کے حق میں ہمدردی بھی دکھا دیتے ہیں۔ اس لئے شیخ صاحب شاہ نور اسٹوڈیو میں فلم بنانے والی پارٹی کے سوا کسی کو قرضہ نہیں دیتے۔ تم اپنی فلم شاہ نور میں کیوں نہیں بنا لیتے‘‘

ہم نے کہا ’’شباب صاحب۔ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں؟ ایورنیو اسٹوڈیو میں ہم نے اس کا مہورت کیا ہے۔ آغا صاحب سے اس بارے میں بات چیت کی ہے اور انہوں نے ہمیں کافی مراعات بھی دی ہیں۔ اب اچانک ہم شاہ نور میں فلم بنائیں گے تو لوگ کیا سوچیں گے اور ہم آغا صاحب کو کیا جواب دیں گے؟‘‘

’’لوگ کچھ نہیں سوچیں گے۔ تھوڑے دن بعد بھول ہی جائیں گے۔‘‘

’’اور آغا صاحب؟‘‘

’’ان سے تم خود بات کر کے اپنی پرابلم بتا دو۔‘‘

’’یہ نہیں ہو سکتا۔ یہ تو بڑی شرم کی بات ہے کہ پہلی پہلی فلم شروع کی اور زبان یا معاہدے کا کوئی پاس ہی نہ کریں۔‘‘

’’تو پھر کچھ مہینے رُک جاؤ۔‘‘

’’وہ اور بھی بُری بات ہے۔ ہمارا تو سب مذاق اُڑائیں گے کہ شوباز آدمی ہے۔ ہم اسی لیے مہورت کرنے کے حق میں نہیں تھے۔ بلاوجہ مصیبت میں گرفتار ہو گئے۔‘‘

شباب صاحب ہمدردی سے ہمیں دیکھتے رہے۔

’’سنو۔ تم شیخ صاحب کو ہماری ضمانت دو۔ وہ تمہاری بات مان لیں گے۔‘‘

شباب صاحب بولے ’’میں نے تو خود ہمیشہ انہیں شاہ نور اسٹوڈیو کا لیٹر ہی دے کر قرضہ لیا ہے۔ بلاوجہ بات کھونے سے کیا فائدہ؟‘‘

ہم گھر پہنچے تو حد درجہ مایوس اور غمگین تھے۔ نہ کسی سے بات کی نہ کھانا کھایا۔ خاموشی سے اوپر جا کر لیٹ گئے۔

ساری رات نیند نہیں آئی۔ کس قدر بے عزّتی کی بات ہے کہ ہر ایک سے تعلقات ہیں۔ مراسم ہیں۔ بے تکلّفی ہے۔ شان و شوکت سے مہورت کیا ہے اور فلم کی شوٹنگ شروع نہیں ہو پائی۔ مہورت کر کے رہ گئے۔ ہم تو کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔(جاری ہے)

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 189 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید : فلمی الف لیلیٰ