پی ٹی آئی میری پہلی اور آخری پارٹی، سوشل میڈیا پر میرے خلاف جھوٹا پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے، مومنہ باسط کی روزنامہ پاکستان سے خصوصی گفتگو

پی ٹی آئی میری پہلی اور آخری پارٹی، سوشل میڈیا پر میرے خلاف جھوٹا پراپیگنڈہ ...
پی ٹی آئی میری پہلی اور آخری پارٹی، سوشل میڈیا پر میرے خلاف جھوٹا پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے، مومنہ باسط کی روزنامہ پاکستان سے خصوصی گفتگو

  

لاہور (کامران اکرم) پاکستان تحریک انصاف ہزارہ ریجن کی ویمن ونگ کی سربراہ مومنہ باسط نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چھوڑنے کی خبروں کی یکسر تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے سوشل میڈیا پر ان کیخلاف جھوٹا پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔ حسن نواز، حسین نواز اور مریم نواز شریف میں شدید جھگڑا، بات گالم گلوچ تک پہنچ گئی: چوہدری غلام حسین کا دعویٰ

واضح رہے کہ معروف صحافی اور اینکر ذوالفقارراحت نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں دعویٰ کیا تھا کہ مومنہ راحت بھی غالبًا ایس ایم ایس پیغامات کے باعث جلد پارٹی چھوڑنے والی ہیں۔ تاہم انہوں نے نامعلوم وجوہات کی بناءپر یہ ٹویٹ ڈیلیٹ کر دیا اور یوں ان کے دعوے پر شکوک و شبہات پیدا ہونے لگے۔

اس معاملے کی حقیقت جاننے کیلئے مومنہ باسط سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے روزنامہ پاکستان سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ناصرف اس خبر کی یکسر تردید کی بلکہ اس کیساتھ ہی انہوں نے اس تردید کا ویڈیو پیغام بھی مہیا کیا جو انہوں نے پارٹی چھوڑنے کی افواہیں پھیلنے کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر 6 اگست کو جاری کیا تھا۔ قارئین کی سہولت کیلئے ذیل میں مہیا کر دیا گیا ہے۔

مومنہ باسط نے روزنامہ پاکستان سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”سوشل میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جسے ہر خاص و عام استعمال کرتا ہے اور جو بھی چاہے وہ اپ لوڈ کر سکتا ہے۔ ذوالفقار راحت نے یہ ٹویٹ بہت پہلے کیا تھا اور میں نے اس کی تردید بھی کر دی تھی تاہم ایک دو روز سے دوبارہ یہ معاملہ سوشل میڈیا پر وائرل کر کے ایک بار پھر افواہیں پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کی میں مذمت کرتی ہوں۔ پی ٹی آئی میری پہلی اور آخری پارٹی ہے اور میں کہیں بھی نہیں جا رہی۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔ ”ہانیہ کہاں بیٹھے گی۔۔۔؟“ اس سوال پر فہد مصطفی نے ایسا شرمناک جواب دیدیا کہ ہر کوئی دنگ رہ گیا، کیا کہا؟ جان کر آپ بھی غصے سے لال پیلے ہو جائیں گے

انہوں نے سوشل میڈیا استعمال کرنے والے صارفین کے علاوہ صحافتی اداروں سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ اس طرح کی کوئی بھی خبر چلانے سے پہلے اس کی تصدیق کر لیں تاکہ کسی بھی قسم کا ابہام دور ہو جائے اور عوام تک وہی بات پہنچ سکے جس میں سچائی ہے۔“

۔۔۔ویڈیو دیکھیں۔۔۔

مزید : قومی /اہم خبریں