منبر موثر کیسے ہوسکتا ہے؟؟؟

منبر موثر کیسے ہوسکتا ہے؟؟؟
منبر موثر کیسے ہوسکتا ہے؟؟؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

جب منبر کا ذکر زبان پر آتا ہے تو اس کے ساتھ جڑی عظیم ہستیاں بھی میرے ذہن میں تازہ ہو جاتی ہیں ۔ہردور میں اس منبر کو استعمال کیا گیا۔کبھی امت کے مفاد کے لیے کبھی ذات کے مفاد کے لیے ۔جب اس کو امت کی اصلاح کے لیے استعمال کیا گیا توپھر اس نے لیڈر پیدا کیے،سپہ سالار جنم دیے،وقت کے دھارےکو بدلنے والے مصلح تیار کیے۔خیر کو پھیلانے والےافراد کار پیدا ہوئے ۔منبر سے ادا ہونے والے الفاظ کی تاثیراتنی زیادہ تھی کہ سننے والوں کے رو ،رو میں اتر جاتی۔افراد تو کیا ان کی تاثیر کولکڑی بھی محسوس کرتی ہے۔یہ منبر امت کا رخ متعین کرنے میں ایک فعال کردار ادا کرتا آرہا ہے ۔آج کے دور میں بھی بعض لوگوں کا گلہ ہے کہ منبر اپنا کردار ادا نہیں کر رہا ۔اگر کر رہا ہے تو تعمیر کے بجائے تخریب کا۔اس بات سے انکار نہیں یہ منبر اپنی تاثیر رکھتا ہے ۔یہ لوگوں کے قلوب و اذہان پر اثر انداز ہے۔جب یہ کمیونیکیشن کا ایک ایسا ٹول ہے جس کی اہمیت سے انکار کرنا حقائق سے نظریں چرانا ہے۔اگر حکومت عوام اور سب لوگ اس کی اہمیت کو جانتے ہیں تو اس کی اصلاح کا سوچنا چاہیے۔چند گزارشات اس حوالے سے گوش گزار ہیں

1

 مساجد کے نظام کو ریگولائیز کیا جائے اور اس کو محکمہ اوقاف کے تحت لایا جائے ۔نیزاوقاف کو بھی حقیقی ذمہ دار بنایا جائے۔اس کا کام صرف مزاروں ،خانقاہوں سے نذرانے ہی اکٹھے کرنا نہ ہو بلکہ عوام میں ایک موثر مقام بھی رکھتا ہو ۔تاکہ وہ منبر کو چلا سکے

2

۔محکمہ اوقاف کے تحت علما کا ایک بورڈ ہو جو آزادانہ کام کرے اور حقائق اور ضرورت کے مطابق عوام کی رہنمائی کر سکے اور ان ہی کی طرف سے خطباء اور واعظین کی رہنمائی کی جائے۔تاکہ وہ ایک لڑی میں پروئے جا سکیں۔

3

۔اوقاف کے تحت ملک کے اندر موجود رجسٹرڈ مساجد کے خطبا کی تقرری کا باقاعدہ نظام ہو تاکہ قابل افراد کو اس منصب کے لیے آگے لایا جا سکے۔ان کو باقاعدہ اچھے گریڈ دیےجائیں۔ ان کی کارکردگی پر نظر رکھی جا سکے۔

4

امام اور خطباء باعزت افراد ہیں ان کے وقار کو ملحوظ رکھتے ہوئے انکی باقاعدہ تربیت ہو،تیاری ہو،اور ان کے لیے ریفریشر کورس ہو تاکہ ان کی صلاحیتوں کو جلا بخشی جا سکے اور وہ جذبے اور وقار سے اپنی خدمت سرانجام دے سکے

5

خطبا کو ہر جمعہ سے پہلےخطبہ جمعہ کی باقاعدہ ہارڈ یا سوفٹ کاپی کی شکل میں موضوع کے مطابق مواد مہیا ہونا چاہیے۔جس کے مطابق وہ تیاری کریں اور اس بات کا خیال رکھا جائے وہ وقت اور عوام کی ضرورت ہواور اس کو باقاعدہ دیکھا بھی جائےاور چیک بھی رکھا جائے۔

اس منبر کو آزاد چھوڑنے کے نتائج ہم بھگت بھی رہے ہیں اور بھگتیں گے بھی اس کا سب سے بڑا نقصان عوام کو ہے اگر وہ ان علماء کی بات کو مان لے تو بھی پریشان اگر انکار کرے تو بھی پریشان ،اس کے لیے اگر مزید نہ سوچا گیا تو پھر گہری خلیج پیدا ہو گی جو کبھی بھی امت کے لیے فائدے کا باعث نہیں ہو سکتی۔منبرکو ایک نظم کے تحت لانے کے لیے ہمارے پاس مشرق وسطی ،ملائشیا،انڈونیشیا کا نظام موجود ہے۔ اس سے فائدہ اٹھایا جا سکتہا ہے۔ ڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹی کے ماڈل سے بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ان ساری باتوں کا محرک ایک ادارہ ہے جس نے خطباء کے لیے ہر جمعہ کا موضوع اور اس کا مواد مہیا کرنے کا کام کیا ہے ۔حالات کے مطابق موضوع کاتعین اور صیحح مواد کا تیار کرنا ایک اچھا اقدام ہے ۔اس لیے الحکمہ انٹرنیشنل کا کام قابل تحسین ہے اس کو اگر ملکی سطح تک لایا جائے تو منبر سے جو گلہ ہے اس کا تدارک بھی ہو سکتا ہے ۔منبر کے کردار سے انکار کرنا ممکن نہیں لیکن اس کو صیحیح سمت دینا ممکن ہے

 .

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ