کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں

کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں
کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں

  

الزام لگانے والے کا سر قلم کردو- عدالتیں اور انصاف کے ادارے بند کردو- فیصلہ وہی جو آپ کے حق میں اور اس کے درست یا غلط ہونے پہ مہر ِتصدیق ثبت کرنےکا اختیار بھی آپ کا  – آپ مانیں  مانیں ،   نہ مانیں نہ مانیں – کون ہے جو جھٹلا سکے  آپ کے اخلاق و کردار کی سچائی  کو – بس عوام کو بتلا دیجئے  کہ جرم وہی جو  عام انسان کرے-  شفا فیت یا دھاندلی کچھ مقصود نہیں  اگر منتخب ہو گئے  تو کو ئی جرم  کوئی سزا نہیں- آپ کی اکثریت ہے  پارلیمنٹ سے ایسا قانون پاس کروا دیجیئے یا ہر با شعور کو سمجھا دیجئے کہ یہ آج کا احتجاج کس کے خلاف – کس کو باورکروانے کے لئے یہ  خونی حیلے بہانے – یہ بند چوک چوراہے کس کے نام- حاکم  ایک شہنشاہ ، جمہوریت  اپنے آپ سے خفا اور زنجیرِ عدل  بھی درِ عدل پہ  وہ  لٹکائی جائے جو شاہوں کی جنبش ِ ابروپہ ناچاکرے - پھر یہ کیسی آزادی اور یہ کیسا فخر  بس ایک  طوق ہے کسی کی غلامی کا اتارا اور آپ کے نام کا  پہن لیا- پائل آپ کی، سر  تال آپ کا  اور اس پہ  پازیب کی سجی جھنکار بھی آپ  کی ،عقیدت میں واری و قربان  گیت آپ کے بس آپ اقتدار کے نشے میں گم جو مرضی کریں کون ہے جو آپ کے بہکتے قدموں کی بابت جرات ِلب کشائی  بھی کر سکے-

 میرے تئیں  تو اب بھی حکومت آپ کی   ہے تو کیا میں یہ سمجھوں  کہ یہ سڑکوں پہ برپا شور و غوغا آپ کا  اپنی ہی حکومت کے خلاف ہے یا  کچھ اور ہے- اگر ایسا ہے تو آپ ایک ایسے شجرِ ممنوعہ کی آبیاری کر رہے ہیں جو کل تناور ہو گیا تو اس کو کاٹنا سب کے لئے نا ممکن ہو جائے گا- یہی روش چل نکلی تو  ہر فیصلہ نظامِ حکومت مفلوج کر کے ہی ہوا کرے گا- پھر کوئی بھوکا کب یہ کہہ سکے گا کہ حکمران تو پیٹ بھر رہے ہیں- تجارت پہ کالا دھن  اور منی لانڈرنگ  کر رہے ہیں- کسی لاقانونیت کی کوئی حد ہوگی نہ کوئی قیود- کوئی سوال ہو گا نہ کوئی استفسار  کہ  حاکم  غریبوں کی غربت کا کوئی سامان کرے ، علاج معالجہ ، تعلیم  اور روزگار کے موقع فراہم کرے – پھر آپ کا کون سا مشیر آپ کو بتائے گا کہ روساء اور امراء تو حکومتی اخراجات پہ علاج کو باہر چلے جاتے ہیں- عوام کا خزانہ کیسےکیسے  لٹ رہا ہے  اور آپ کی  حکمرانی کے خمار سے بند ہوتی ہوئی نظرِ بینا  آپ کے بلند بالا محلات کے جھروکوں سے کب دیکھے گی کہ آپ کا غلام غریب ادنیٰ سا انسان کیسے سسک سسک کے مرتا ہے- وہ ملک جس کے دامن میں سب کچھ ہے کون سی نباتات ، صنعت و حرفت اور زرعی اجناس نہیں  جو   انہیں مالا مال نہ کرسکیں - سونا ، چاندی، لوہا ، ایلومینیم   ، زر و جواہرات، قیمتی پتھر، پٹرول  اور کوئلہ اپنے سینے میں چھپائے ممتا  اپنے  جایوں کی بھوک مٹانے کو مچل رہی ہے لیکن  سیاست ہے کہ دیمک کی طرح اس عمارت کی بنیادوں کو ہی کھا رہی ہے- اسمبلیوں سے مسلسل  غیر حاضر  رہنے والے سڑکوں پہ  پارلیمان کی بالا دستی کی بات کررہے ہیں - بلٹ پروف کنٹیرز میں چھپ کر    ملکی امن کی باتیں ہو رہی ہیں اور دہشت گردی کے  ناسور کو کاٹ پھینکنے کی  نوید  سنائی جا رہی ہے اور اس کا  تمغہ بھی   اپنے سینے پہ ہی سجایا جا رہا ہے- کیا چشمِ  با کمال نے آپ کے  اس جاہ و جلال کو  نہیں دیکھا  کہ پنجاب لاہور کی طرف بڑھتے بڑھتے  جب لوگوں کی تعداد بڑھی تو آپ  کی جھکتی  کمر  ،  ڈھلکتی گردن اور لہجے میں بڑھتےاعتماد  کی وجہ  کیاتھی- یہی میلے کچیلے ،  جان دیتے بھوک مرتے  اور الامان الامان کی دہائیاں دیتے  ہوئے غریب  عوام- وہی رعایا جن کو آپ اپنے اچھے دنوں میں بھول جاتے ہیں- وہی گنے کی فصل کے بعد چینی کے کارخانوں کے چکر لگانے والے  لوگ- وہی بھوک کا علاج  زہر میں ڈھونڈنے والے لوگ  - وہی نہروں میں بیٹیوں سمیت چھلانگیں لگانے والی مائیں- وہی   کوکھ میں اپنی ممتا کی  امید لئے طبی سہولت سے نا امید مائیں- وہی مہنگائی  کے بوجھ تلے دبے  خاندان- وہی بے روزگاری کی بھینٹ چڑھتے خاندان- وہی لق و دق  صحرا اور انہی صحراؤں  میں بستےبنجر نما چہرے- وہی خشک آنکھیں ، وہی ہونٹ اور وہی خشک  ترستے چہرے- آپ کے محلوں میں بل کھا کھا کے  اٹھلاتا   ، گرتا پانی اور کہیں  جانور کے ساتھ  ساتھ انسان ایک  ہی گھاٹ  پہ پیتا پانی – اتنا ہی درد اگر دل میں  ہے تو  دے دیجئے اپنی دولت کا ثبوت – اپنی بیرون ِ ملک جائیداد کا ثبوت – لے آئیے وہ سب اثاثے اور لگا دیجئے بہبودِ انساں پہ - کون روکتا ہے آپ کو – درس دے تو گیا ہے سارے پاکستان کو چیتھڑوں میں لپٹا ایدھی نام کا ایک شخص –  بتا تو گیا ہے وہ  دلوں میں بسنے والا ایک تونگر صفت شخص -ایک انسان کی ضرورت- دو وقت کی روٹی- تن پہ لباس   اور سر ڈھکنے کو چھت لیکن کہاں ہوگا آپ سے - غریبوں کی باتیں کرتے ہوئے  تن پہ ریشم و مخمل سجائے ہوئے – کلائی پہ غربتوں کی تصویر  بنی  گھڑی لگائے ہوئے- نوع و اقسام کا دسترخوان  بچھائے ہوئے- نہ اڑائیے مذاق   ،نہ  روئیے جھوٹ کے آنسو – آپ کو تو چند دن کی ہتھکڑی نہیں بھولتی  - کیا جواب دوں ان ماؤں کو جن کے بیٹے   آپ کی سلطانی میں پھندوں پہ جھول گئے اور  ان کی صداقتوں  کے فیصلے بعد میں آئے- کیا  جواب دوں ان بیٹوں کو جن کی جوانیاں  سلاخوں پیچھے گزریں  اور انہوں نے  عمر قید سے رہائی  اپنی بے گناہی پہ  بڑھاپے میں پائی- کاش کبھی آپ نے باسٹھ تریسٹھ کا عملی  مظاہرہ  اپنے تھانوں اور عقوبت خانوں  میں بھی کبھی دیکھا ہو- کیا جواب دوں ان دلخراش چیخوں کا  جس کا بچہ  آپ کے کارواں  کی شان و شوکت میں بے رحمی سے کچلا گیا- ہاں وہی جس کی ایمبولینس ایک چنگچی رکشہ  تھا اور آپ کے ساتھ دوڑنے والی  طبی  سہولتوں سے مزین  چاک و چوبند  ، نا گہانی صورتِ حال سے نبٹنے والی  گاڑیاں کسی  کی کم مائیگی پہ دھول اڑاتیں چشم زدن میں  خاک  و خون  سے  لت پت آپ کے پہلے شہید  کو لاوارث  تڑپتا چھوڑ کر غائب ہو گئیں- اسی حامد کی بات ہو رہی ہے جس کا خواب ایسی موت  نہیں تھا – اس غریب کو آپ کی مدد کی کیا ضرورت ہے جس کا اعلان آپ گوجرانوالہ کے منبروں سے کر رہے تھے – اس کی بجھتی آنکھوں  کی کہانی شاید سارے پاکستان کی کہانی ہے جسے کاش کبھی آپ بھی پڑھ لیتے  کیونکہ اس کے عنوان چیخ چیخ کے کہہ رہے تھے-

زندگی  جبرِمسلسل  کی  طرح  کاٹی  ہے

جانے کس جرم کی پائی ہے سزا  یاد نہیں

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ