وفاقی حکومت کے3193ملازمین غیر ملکی دلہنیں بیاہ کر لائے ہیں: سینٹ میں رپورٹ پیش

وفاقی حکومت کے3193ملازمین غیر ملکی دلہنیں بیاہ کر لائے ہیں: سینٹ میں رپورٹ پیش
وفاقی حکومت کے3193ملازمین غیر ملکی دلہنیں بیاہ کر لائے ہیں: سینٹ میں رپورٹ پیش

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستانی مرد غیر ملکی خواتین کے لئے خاصے پرکشش ہیں، کئی غیر ملکی خواتین پاکستانی مردوں کے حصار میں گرفتار ہوکر ان کے ساتھ شادی کر لیتی ہیں، قومی کرکٹر ز اور یا سیاست دان، صحافی ہوں یا طالب علم سبھی غیر ملکی دلہنیں بیاہ کر پاکستان لائے ہیں ، کچھ افراد غیر ملکی شہریت حاصل کرنے کے لئے بیرون ملک سے دلہنوں سے بیاہ رچاتے ہیںاور بعض خواتین سے پیار کے بعد ان سے شادی کر لیتے ہیں مگر وفاقی حکومت کے ملازمین کے حوالے سے سینٹ میں ایک رپورٹ پیش کی ہے جس کے مطابق گریڈ 1سے 22تک کے3ہزار 193ملازمین بیرون ملک سے غیر ملکی خواتین کوبیاہ لائے ہیں۔

مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی قومی احتساب کمیشن کے قیام پر متفق، نیب کے کیسز نئے کمیشن کو منتقل ہوجائیں گے: جیو نیوز

تفصیلات کے مطابق بلوچستان سے سینیٹر عثمان کاکڑ نے سینٹ میں سوال کیا کہ دوہری شہریت کے حامل افراد قومی اسمبلی کے ممبر نہیں بن سکتے مگر یہ پابندی ججز، بیورو کریٹس اور دیگر شعبہ زندگی سے وابستہ افراد کے لئے کیوں نہیں ہے، وفاقی حکومت اس حوالے سے جواب دے۔سینٹر عثمان کاکڑ کے اس جواب کے بعد آج پارلیمنٹ میں جواب جمع کرایا گیا جس کے تحت گریڈ1سے گریڈ22کے3ہزار1سو93ملازمین بیرون ملک سے دلہنیں بیاہ کر لائے ہیں جبکہ غیر ملکی خواتین کے ساتھ سب سے زیادہ بیاہ گریڈ1سے8تک کے ملازمین نے رچائے جن کی تعداد 2ہزار 4سو 74ہے۔ رپورٹ کے مطابق گریڈ 9 سے 16 تک کے 653 اہلکار دوسرے ممالک سے دلہنیں لے کر آئے، اس کے ساتھ ساتھ گریڈ20اورگریڈ21کے 3،3افسران نے غیر ملکی دلہنوں سے شادیاں رچائیں اس کے علاوہ گریڈ 22کے صرف ایک افسر نے غیر ملکی خاتون سے شادی کی۔ اس رپورٹ میں وفاقی حکومت کے محکموں کی تفصیل بتائی گئی ہے اور نہ ہی ان کے نام پارلیمنٹ میں بتائے گئے جبکہ وفاقی حکومت کو ملازمین کا ڈیٹا اکٹھا کرنے میں 8ماہ کا عرصہ لگا۔

مزید : قومی