’میں بس پر سفر کررہا تھا کہ اچانک سامنے بیٹھی خاتون کھڑی ہوئی، اپنے کپڑے اتارے اور۔۔۔‘

’میں بس پر سفر کررہا تھا کہ اچانک سامنے بیٹھی خاتون کھڑی ہوئی، اپنے کپڑے ...
’میں بس پر سفر کررہا تھا کہ اچانک سامنے بیٹھی خاتون کھڑی ہوئی، اپنے کپڑے اتارے اور۔۔۔‘

  

سڈنی (نیوز ڈیسک) خود کو ترقی یافتہ کہنے والے ممالک تیسری دنیا میں بسنے والوں کو انسان سمجھنے پر بھی تیار نہیں، لیکن ان کے اپنے ہاں آئے روز ایسے شرمناک واقعات رونما ہوتے ہیں کہ سن کر پسماندہ سے پسماندہ ترین ملک کے باسی بھی دنگ رہ جائیں۔ ایک ایسا ہی حیا سوز واقعہ آسٹریلیا کے شہر میلبرن میں پیش آیا، جہاں ایک خاتون نے چلتی بس میں دیگر مسافروں کے سامنے ہی پتلون اتاری اور رفع حاجت شروع کر دی ۔

وہ مرد جن کے ساتھ مسلم خواتین ایک رات گزارنے کیلئے انہیں لاکھوں روپے دیتی ہیں، ایسا انکشاف منظر عام پر کہ ہر مسلمان کانپ اٹھے

بس میں درجنوں مسافر موجود تھے، جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد بھی شامل تھی۔ سیاہ جیکٹ، خاکستری ہیٹ اور جامنی رنگ کی پتلون میں ملبوس خاتون بظاہر تو پڑھی لکھی اور سمجھدار نظر آتی تھی، مگر اس کی بے حیائی نے سب مسافروں کے رونگٹے کھڑے کر دئیے۔

خاتون نے جونہی پتلون اتار کر رفع حاجت کا آغاز کیا تو اس کے پاس کھڑے مسافروں نے شور بلند کر دیا اور اسے باز آنے کو کہنے لگے، لیکن اس نے اپنا کام جاری رکھا۔ جب ایک خاتون مسافر نے چلاتے ہوئے کہا کہ ’یہاں بچے بھی موجود ہیں‘ تو رفع حاجت کرنے والی خاتون کا کہنا تھا ”مجھے تمہارے بچوں کی کوئی فکر نہیں۔“ اور جب ڈرائیور نے اسے بس سے نکل جانے کو کہا تو اس کا کہنا تھا ”ابھی میرا سٹاپ نہیں آیا۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس