ریسٹورنٹ میں کھانے میں ایسی چیز ڈال دی گئی کہ کھاتے ہی اس صحت مند خاتون کی حالت ہمیشہ کیلئے ایسی ہوگئی، کیا چیز تھی؟ جان کر آپ بھی بے حد احتیاط کریں گے

ریسٹورنٹ میں کھانے میں ایسی چیز ڈال دی گئی کہ کھاتے ہی اس صحت مند خاتون کی ...
ریسٹورنٹ میں کھانے میں ایسی چیز ڈال دی گئی کہ کھاتے ہی اس صحت مند خاتون کی حالت ہمیشہ کیلئے ایسی ہوگئی، کیا چیز تھی؟ جان کر آپ بھی بے حد احتیاط کریں گے

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) ایک برطانوی خاتون اپنے دوستوں کے ہمراہ سیاحت کے لیے یورپی ملک ہنگری گئی جہاں ریسٹورنٹ والوں نے کھانے میں ایسی چیز ڈال دی کہ ایک نوالہ کھاتے ہی خاتون ہمیشہ کے لیے ذہنی اپاہج بن گئی۔ میل آن لائن کے مطابق یہ چیز ’خشک میوہ جات‘ تھے۔ 29سالہ ایمی مے شیڈ کو خشک میوہ جات سے الرجی تھی۔ اس نے ہنگری کے دارالحکومت میں اس ریسٹورنٹ میں کھانا آرڈر کرتے ہوئے منیجر اور شیف کو اس سے متعلق آگاہ بھی کیا اور کہا کہ کھانے میں خشک میوہ جات مت ڈالنا۔ تاہم انہوں نے یقینی دہانی کے باوجود مونگ پھلی و دیگر میوے کھانے میں ڈال دیئے۔

بچے کو جنم دیتے ہی خاتون کا جسم ٹوٹ کر دو حصے ہوگیا، مگر کیسے؟ ایسی خبر آگئی کہ آپ کی آنکھوں میں بھی آنسو آجائیں گے

رپورٹ کے مطابق ایمی نے کھانے کا ایک لقمہ ہی لیا کہ اس کی حالت غیر ہونی شروع ہو گئی۔ خشک میوہ جات کا ری ایکشن اتنا شدید تھا کہ اس کے جسم 6منٹ کے لیے میں آکسیجن کی شدید کمی واقع ہو گئی اور وہ بے ہوش ہو گئی۔ اس کے دوستوں نے فوری طور پر ایمرجنسی سروسز کو بلایا جنہوں نے اسے ہسپتال پہنچایا۔ جسم میں آکسیجن کی شدید کمی ہونے کی وجہ سے اس کا دماغ شدید متاثر ہوا اور وہ ہمیشہ کے لیے ذہنی معذور ہو گئی۔

رپورٹ کے مطابق ایمی بڈاپسٹ میں 19دن تک آئی سی یو میں ’کوما‘ میں رہی۔ ہوش میں آنے کے بعد اسے واپس برطانیہ لیجایا گیا جہاں وہ 11ماہ تک سینٹ تھامس ہسپتال لندن میں زیرعلاج رہی۔ پھر اسے پیوٹنے نیورولوجیکل ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کا 316دن تک علاج ہوتا رہا۔ اس کے بعد اسے ایسیکس میں ذہنی معذوروں کی مخصوص علاج گاہ منتقل کر دیا گیا۔ اس الرجی کی وجہ سے ایمی کا ذہنی توازن بگڑ جانے کے باعث اس کا باقی جسمانی اعضاءپر کنٹرول نہیں رہا اور وہ اپنے ہاتھوں پیروں سے بھی کام نہیں لے سکتی اور ہمیشہ کے لیے اپنے والدین کی محتاج ہو کر رہ گئی ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس