ہائی کورٹ بار ملتان کے صدر کے وارنٹ گرفتاری کے خلاف اعلیٰ عدالتوں میں کال ناکام ،ماتحت عدالتوں میں وکلاءکی بھرپور ہڑتال

ہائی کورٹ بار ملتان کے صدر کے وارنٹ گرفتاری کے خلاف اعلیٰ عدالتوں میں کال ...
ہائی کورٹ بار ملتان کے صدر کے وارنٹ گرفتاری کے خلاف اعلیٰ عدالتوں میں کال ناکام ،ماتحت عدالتوں میں وکلاءکی بھرپور ہڑتال

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(نامہ نگارخصوصی/نامہ نگار)لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے لاہور ہائی کورٹ بار ملتان کے صدر شیرزمان قریشی کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ کے سوا اعلیٰ عدالتوں میں ہڑتال کی کال ناکام ہوگئی تاہم ماتحت عدالتوں میں بھرپور ہڑتال کی اطلاعات ہیں ۔

اطلاعات تک رسائی کے حق کا بل سینیٹ سے متفقہ طور پر منظور,وفاقی اداروں پر اطلاق فوری ہو گا

ہڑتال کی کال سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ،لاہور ہائی کورٹ بار ،لاہور ڈسٹرکٹ بار اور صوبائی بارکونسلوں نے دی تھی ۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں اس وقت دو بنچ کام کررہے ہیں جن میں وکلاءکی عدم پیروی کی بنا پر کسی ایک مقدمہ کی سماعت بھی ملتوی نہیں ہوئی ۔لاہور ہائی کورٹ لاہور پرنسپل سیٹ پر موسم گرما کی تعطیلات کے باعث 10عدالتیں کام کررہی ہیں جن میں وکلاءکی حاضری 95فیصد سے بھی زائد رہی۔ جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کی کورٹ میں 36مقدمات میں سے 33مقدمات میں وکلاءپیش ہوئے، جسٹس سید کاظم رضا شمسی کی عدالت میں 17مقدمات کی کاز لسٹ جاری تھی اور تمام مقدمات میں وکلاءپیش ہوئے جن میں سے سات مقدمات کے فیصلے بھی کئے گئے، جسٹس عبدالسمیع خان کی عدالت میں 42 مقدمات میں سے 35 مقدمات میں وکلاءمعمول کے مطابق پیش ہوئے، جسٹس عالیہ نیلم کی عدالت میں 33میں سے 32مقدمات کی سماعت ہوئی اور تمام مقدمات میں فریقین کے وکلاءپیش ہوئے۔ مزید برآں جسٹس عبدالستار کی عدالت میں 76، جسٹس اسجد جاوید گورال کی عدالت میں 61 اور جسٹس جواد حسن کی عدالت میں کاز لسٹ کے مطابق 50 مقدمات کی سماعت ہوئی اور تقریبا تمام مقدمات میں فریقین کے وکلاءمعمول کے مطابق پیش ہوئے۔ اسی طرح جسٹس مامون رشید شیخ کی عدالت میں میاں محمدنوازشریف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے سے متعلق بیرسٹراقبال جعفری کی جانب سے دائر درخواست سمیت دیگر مقدمات کی سماعت ہوئی جبکہ جسٹس حبیب اللہ عامر کی عدالت میں بھی زیر سماعت تمام کیسز میں فریقین کے وکلاءحاضر ہوئے۔لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بنچ اور بہاولپور بنچ میں بھی وکلاءکی اکثریت عدالتوں میں پیش ہوئی ۔لاہور کی ماتحت عدالتوں میں وکلاءنے ہڑتال کی اور اکثر مقدمات میں وکلاءپیش نہیں ہوئے جس کے باعث جج صاحبان اٹھ کر اپنے چیمبرز میں چلے گئے جبکہ سائلین عدالتوں کے باہراپنے وکلاءکاانتظارکرتے رہے لیکن وکلاءکی ہڑتال کے باعث مقدمات کی سماعت نہ ہوسکی موسم گرما کی 30روزہ تعطیلات ختم ہونے کے بعدگزشتہ روزسیشن عدالت میں کام شروع ہوگیاہے لیکن وکلاءکی ہڑتال سے مقدمات کی سماعت ممکن نہ ہوسکی ہے۔عدالتی اہلکارپیشی کے لئے آوازیں لگاتے رہے لیکن وکلاءعدالتوں میں پیش نہیں ہوئے ۔

مزید : لاہور