عدلیہ وکلاءتنازع ،لاہور ہائی کورٹ میں سخت حفاظتی اقدامات ،احاطہ عدالت میں وکلاءکا پرامن احتجاج ،کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا

عدلیہ وکلاءتنازع ،لاہور ہائی کورٹ میں سخت حفاظتی اقدامات ،احاطہ عدالت میں ...
عدلیہ وکلاءتنازع ،لاہور ہائی کورٹ میں سخت حفاظتی اقدامات ،احاطہ عدالت میں وکلاءکا پرامن احتجاج ،کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائی کورٹ میں 21اگست کو وکلاءکی ہنگامہ آرائی کے پیش نظر لاہور ہائی کورٹ میں سخت حفاظتی اقدامات کئے گئے تھے ،وکلاءکے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر لاہور ہائی کورٹ کے اندر چیف جسٹس کی عدالت کی طرف جانے والے تمام راستے کنٹینرز لگا کر بند کردیئے گئے جبکہ مال روڈ کو بھی ریگل چوک سے انارکلی چوک تک کنٹینرز لگا کر بند رکھا گیا تاہم وکلاءنے مال روڈ پر کسی قسم کا احتجاج نہیں کیا بلکہ لاہور ہائی کورٹ کے احاطہ میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ۔ہائی کورٹ میں پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری بھی تعینات تھی ۔

اطلاعات تک رسائی کے حق کا بل سینیٹ سے متفقہ طور پر منظور,وفاقی اداروں پر اطلاق فوری ہو گا

لاہور ہائی کورٹ کے احاطہ میں احتجاج کرنے والے وکلاءسے لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر چودھری ذوالفقار ،سیکرٹری عامر سعید راں ،پنجاب بارکونسل ملتان کے رکن جاوید ہاشمی اور لاہور بار کے سابق صدر اشتیاق خان نے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ شیر زمان کی گرفتاری کے احکامات فی الفور واپس لئے جائیں بصورت دیگر وکلاءکا احتجاج جاری رہے گا ،انہوں نے مختلف نیوز چینلز پر وکلاءکے احتجاج کی مخالفت کرنے والے سینئر قانون دانوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ،انہوں نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ جیسے لوگوں کو جب عدالتیں توہین عدالت کے نوٹس بھیجتی ہیں تو وہ مدد کے لئے بار کی طرف بھاگتے ہیں ،آج وہ ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر ہم پر تنقید کررہے ہیں ۔ان وکلاءرہنماﺅں نے شیرزمان کے معاملے پر میڈیا کے کردار پر بھی سخت تنقید کی ،اس موقع پر پنجاب بار کونسل کے رکن جاوید ہاشمی نے کہا کہ ہم نے لاہور ہائی کورٹ کو پسپا ہونے پر مجبور کردیا ہے ،یہ ہماری تحریک کا نتیجہ ہے کہ ہائی کورٹ شیرزمان توہین عدالت کیس کی سماعت8ستمبر تک ملتوی کرنے پر مجبور ہوئی ۔دوسری طرف بیرسٹر علی ظفر، بیرسٹر شاہ زیب مسعود، بیرسٹر منصور سرور اعوان اور میاں علی اشفاق ایڈووکیٹ سمیت دیگر سینئروکلاءکا کہنا ہے کہ ہنگامہ آرائی کرنے والے وکلاءکی حمایت نہیں کی جاسکتی ،ہماری عزت عدلیہ کی عزت میں ہے ۔ان وکلاءکا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک قانونی معاملے پر وکلاءکو سیاست نہیں کرنی چاہیے ۔

مزید : لاہور