بزرگ سیاسی رہنما بیگم نسیم ولی خان اور ان کے بیٹے اسفندیار ولی خان کے درمیان صلح ہوگئی

بزرگ سیاسی رہنما بیگم نسیم ولی خان اور ان کے بیٹے اسفندیار ولی خان کے درمیان ...
بزرگ سیاسی رہنما بیگم نسیم ولی خان اور ان کے بیٹے اسفندیار ولی خان کے درمیان صلح ہوگئی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

چارسدہ(ڈیلی پاکستان آن لائن)بزرگ سیاسی رہنما بیگم نسیم ولی خان اور ان کے بیٹے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان کے درمیان 4 سال بعد  صلح ہوگئی ہے,بیگم نسیم ولی نے اپنی پارٹی بیٹے اسفند یار کی جماعت میں ضم کرنے پر اتفاق کر لیا ۔

تفصیلات کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفندیارولی خان  کے اپنی والدہ اور اے این پی ولی گروپ کی سربراہ بیگم نسیم ولی خان کے مابین خاندانی تنازعہ و سیاسی اختلافات کے خاتمے اور دونوں پارٹیوں کے انضمام پر اتفاق ہوگیا ہے۔اسفند یار ولی خان نے سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی اور دیگر کے ہمراہ چارسدہ کے علاقے ولی باغ میں اپنی والدہ کے گھر  پہنچے جہاں پر وہ دیگر کے ساتھ کئی گھنٹے تک اپنی والدہ کے ہمراہ رہے اور ایک ساتھ کھانا بھی کھایا ،ملاقات میں اختلافات ختم کرتے ہوئے دونوں پارٹیوں کے  انضمام  پر اصولی اتفاق ہو گیا ہے جس کا باضابطہ اعلان جلد  بیگم نسیم ولی خان خود کریں گی  ۔واضح رہے کہ ولی خاندان میں اختلافات ختم کرانے کیلئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی رہنما مولانا محمد خان شیرانی بھی جرگہ کرچکے ہیں تاہم اے این پی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی، ایمل ولی خان، غزن خان اور لونگین ولی خان کی کوششوں سے خاندان کے بڑوں میں صلح کی راہ ہموار ہوئی ۔یاد رہے کہ بیگم نسیم ولی اور اسفندیارولی خان میں چار سال قبل شدید اختلافات پیدا ہو گئے تھے جس کے بعد بیگم نسیم ولی خان نے اے این پی ولی کے نام سے علیحدہ پارٹی بھی بنائی تھی، دونوں کے درمیان صلح کرانے میں خاندان کے افراد اور سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا امیر حیدر خان ہوتی نے اہم کردار ادا کیا۔ 

مزید : چارسدہ