’یہاں آنے والے عربیوں سے ہوشیار رہو، وہ تمہاری بیٹیوں کو۔۔۔‘ حیدر آباد کی مساجد سے لاﺅڈ سپیکر پر اعلانات، کیا کہا جارہا ہے؟ کوئی توقع بھی نہ کرسکتا تھا

’یہاں آنے والے عربیوں سے ہوشیار رہو، وہ تمہاری بیٹیوں کو۔۔۔‘ حیدر آباد کی ...
’یہاں آنے والے عربیوں سے ہوشیار رہو، وہ تمہاری بیٹیوں کو۔۔۔‘ حیدر آباد کی مساجد سے لاﺅڈ سپیکر پر اعلانات، کیا کہا جارہا ہے؟ کوئی توقع بھی نہ کرسکتا تھا

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی شہر حیدرآباد میں گزشتہ کچھ عرصے سے ایک باقاعدہ مہم چلی ہوئی ہے جس میں مساجد کے لاﺅڈ سپیکرز سے ایسے اعلانات کیے جا رہے ہیں کہ کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا۔ عالمی خبررساں ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق شہر کی مساجد سے ہونے والے اعلانات میں لوگوں کو عرب باشندوں کے ساتھ اپنی بیٹیوں کی رقم کے عوض شادیاں کرنے سے منع کیا جا رہا ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ یہ عربی ان لڑکیوں کو اپنے ملک لیجا کر ان پر کس طرح ظلم و تشدد کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حیدرآباد میں بوڑھے عربی مرد آتے ہیں اور غریب والدین کو رقم کا لالچ دے کر ان کی کم عمر بیٹیوں کو بیاہ کر لے جاتے ہیں اور پھر کچھ عرصہ بعد ہی ان لڑکیوں کی حالت زار کی خبریں آنے لگتی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ایک 65سالہ اومانی شخص حیدرآباد آیا اور 5لاکھ بھارتی روپے (تقریباً 8لاکھ 21ہزار پاکستانی روپے) کے عوض ایک 16سالہ لڑکی سے شادی کرکے اسے ساتھ لے گیا۔ کچھ عرصہ بعد لڑکی نے فون پر اپنی والدہ سے بات کی۔ وہ رو رہی تھی اور مدد کی درخواست کر رہی تھی، کہ اس کے ساتھ وہاں انتہائی ناروا سلوک روا رکھا جا رہا تھا۔

ڈیجیٹل ٹیکسی سروس کی آڑ میں کچھ کالی بھیڑیں اپنے ناجائز مقاصد کے حصول کیلئے سرگرم ،گزشتہ رات لڑکی کے ساتھ انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آ گیا

حیدرآباد پولیس کا کہنا ہے کہ ”بھارت میں 18سال سے کم عمر لڑکی کی شادی قانوناً جرم ہے۔ اس لڑکی کے باپ نے پیسوں کے لالچ میں جعلی کاغذات بنوائے ، جن میں بیٹی کی عمر زیادہ ظاہر کی اور اسے اومان کے اس عمررسیدہ شخص کے ساتھ بیاہ دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حیدرآباد میں ہر سال ایسی سینکڑوں شادیاں ہوتی ہیں اور ان کی تعداد میں ہر سال اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہاں منظم گروہ ہیں جو غریب والدین کو ورغلاتے ہیں اور انہیں بیٹیوں کو ان بوڑھے عربیوں کے ساتھ بیاہنے کی ترغیب دیتے ہیں، جن کے ساتھ بعدازاں عرب ممالک میں انتہائی غیرانسانی سلوک کیا جاتا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس