نئی وزارتِ اطلاعات کے لئے نیا چیلنج!

نئی وزارتِ اطلاعات کے لئے نیا چیلنج!
نئی وزارتِ اطلاعات کے لئے نیا چیلنج!

  

اگر آپ انٹرنیشنل الیکٹرانک (ای) انگلش میڈیا کے ناظر ہیں تو آپ کو بخوبی معلوم ہو گا کہ گلوبل نیوز میڈیا کے ٹاک شوز کے مزاج کی ترکیب ہمارے ہاں سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ ان کے موضوعات، پروگرام کے شرکائے مباحثہ کا صحافیانہ (یا غیر صحافیانہ) پس منظر اور بیانیہ بالکل مختلف ہوتا ہے۔ ان کا اندازِ گفتگو بڑا دھیما، ٹھہرا ٹھہرا اور بولنے والے کے علم و فضل کا غماز ہوتا ہے۔ ان کے ٹاک شوز کے اینکرز کے سوالات نہائت نپے تلے اور مختصر ہوتے ہیں۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ اینکر، کسی مہمان سے بھی زیادہ طویل تقریر فرماتا ہے اور نہ ہی اس کی تقریر کی رفتار کسی طوفان میل یا تیز گام کی رفتار کی یاد دلاتی ہے!ہمارے پاکستانی برانڈ کے ٹی وی ٹاک شوز، ساری دنیا کے شوز سے نرالے ہیں۔ مَیں نے اپنے گزشتہ کئی کالموں میں کئی بار ان پر تبصرہ کیا ہے لیکن آج کا یہ تبصرہ ’’نئے پاکستان‘‘ کے تناظر میں اس برانڈ کے مباحثوں کی چند ایک ’’نئی‘‘ خصوصیات سے آپ کو متعارف کروائے گا۔ یہ وہ برانڈ ہے جسے ہم روزانہ ایک طویل مدت سے اپنے ٹیلی ویژن کی سکرینوں پر دیکھتے اور سنتے چلے آئے ہیں۔ان ٹاک شوز کے پروڈیوسر حضرات کی SOP یعنی طریقۂ ارتکابِ واردات یہ ہے کہ پاکستان کے کسی (سیاسی) حالاتِ حاضرہ پر روزانہ بحث و مباحثہ کا ایک باب کھول دیا جاتا ہے۔ اس کا دورانیہ ویسے تو ایک گھنٹے کا ہوتا ہے لیکن کمرشلز کی برکات کے سبب یہ دورانیہ 35،36 منٹ کا ہوجاتا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ موضوع کتنا ہی اہم کیوں نہ ہو اور بحث کتنے ہی نازک مرحلے پرکیوں نہ پہنچ چکی ہو اگر پروڈیوسر کا اشارہ ہوتا ہے تو اینکر اس عجلت سے تعمیلِ حکم کرتا ہے جس طرح کوئی موذن، اذان دینے میں ایک سیکنڈ کی تاخیر نہیں کرتا اور ’’اللہ اکبر، اللہ اکبر‘‘ کا نعرہ سنتے ہی، سننے والے فوراً چپ چاپ ہو جاتے ہیں۔ کچھ ایسی ہی کیفیت دورانِ ٹاک شوز، شرکائے مباحثہ کی ہوتی ہے۔ وہ کتنے ہی حساس موضوع پر گفتگو کررہے ہوں اور کتنا ہی اہم نکتہ زیرِ بحث ہو، پروڈیوسر فی الفور ’’کٹ‘‘ کا حکم دیتا ہے اور اینکر کو لامحالہ تعمیلِ حکم کرنی پڑتی ہے۔ بسااوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اگر کوئی اینکر، تعمیلِ حکم میں دیر لگا دیتا ہے تو سکرین پر خودبخود کمرشلز کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔۔۔ اینکر کو یہ کہنے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی:’’ اب ایک چھوٹا سا وقفہ۔۔۔ ہمارے ساتھ رہئے۔‘‘

پاکستان میں سب کے سب نیوز چینل عموماً 7بجے شام سے شروع ہوکرگئی شب تک، ایک ہی موضوع پر بحث و تکرار کررہے ہوتے ہیں۔ اگر کسی کو شک ہو تو گزشتہ ہفتے کے ٹی وی پروگراموں کی وہ ریکارڈنگ دیکھ لے جو پرائم ٹائم کے دوران ہوچکی ہے۔ شرکائے مباحثہ اور اینکرز حضرات/خواتین بدل جاتی ہیں، روزانہ کاموضوع نہیں بدلتا۔ اگر نئے پاکستان کے نئے وزیر اعظم کی پہلی تقریر ہو تو یہ بیک وقت تمام نیوز چینلز پر ڈسکس ہورہی ہوگی۔ بھانت بھانت کی بولیاں سنائی دیں گی جن کو آپ بخوبی دو اقسام میں تقسیم کرسکتے ہیں۔یعنی ایک اگر سفید ہے تو دوسری سیاہ ہے، بیچ میں سرمئی(Gray)رنگ غائب ہوتا ہے!ہم زمانۂ طالب علمی سے تعلیمی اداروں میں بحث و مباحثے دیکھتے، سنتے اور کرتے چلے آئے ہیں۔اساتذہ کرام، مختلف طلبا/طالبات کو کسی ایک موضوع کے حق یا مخالفت میں تقریر کرنے کی ذمہ داری سونپ دیتے ہیں۔ صد در صد طلبا اور طالبات یہ تقریر نویسی خود نہیں کرتیں بلکہ اپنے والدین، بزرگوں یا اساتذہ سے لکھواتی ہیں اور پھر ان کو ’’رٹا‘‘ لگانا شروع کردیتی ہیں۔ بار بار کی دہرائی سے ایک وقت آتا ہے کہ مقرر، موضوعِ زیرِ بحث کا مواد اگلنے پر کماحقہ قادر ہو جاتا ہے۔ اس کو سمجھایا اور بتایا جاتا ہے کہ تقریر کا آغاز کیسے کرنا ہے، مخالف کی دلیل کا بطلان کیسے کرنا ہے، آواز کا زیر و بم کہاں کہاں بدلنا ہے، اشعار کی قرات کیسے کرنی ہے:ہاتھوں کی حرکات کو کیسے آپریٹ اور کنٹرول کرنا ہے اور خاتمہ کیسے کرنا ہے۔ مباحثہ کے جو جج صاحبان ڈائس کے سامنے بیٹھے ہوتے ہیں، ان کے آگے شرکائے مباحثہ کے نام لکھے ہوتے ہیں۔ ہر نام کے سامنے مختلف کالم/خانے بنے ہوتے ہیں جن میں مواد، تلفظ، طرزِ ادا، اشعار کا تڑکا، دلائل و براہین کی جدت وغیرہ جیسے کوائف درج ہوتے ہیں۔ جج صاحبان نے کل 10 نمبروں میں سے ہر مقرر کواس کی کارکردگی کے مطابق نمبر دینے ہوتے ہیں۔ آخر میں تینوں جج صاحبان کے ایوارڈ جمع کرکے اول، دوم اور سوم آنے والے مقررین کا اعلان کردیا جاتا ہے۔ یہ ایکسر سائز ہائی سکول سے شروع ہو کر یونیورسٹی لیول تک جاتی ہے اور ان میں حصہ لینا کسی بھی طالب علم کی اوور آل تعلیمی کامیابی کی سند بن جاتا ہے۔یہ ایکسر سائز زندگی میں بار بار کام آتی ہے۔ آپ اپنی تعلیم مکمل کرکے کسی بھی شعبے میں چلے جائیں، یہ مباحثے اور یہ ریاضت آپ کے فرائض منصبی میں بالواسطہ یا بلاواسطہ مدد ضرور دیتی ہے۔ آہستہ آہستہ آپ اس فن میں اتنے مشّاق ہو جاتے ہیں کہ کسی تقریر نویس، کسی اتالیق اور کسی نگران کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔۔۔ اور یہ سب کام آپ خود کرنے لگتے ہیں۔ ٹی وی ٹاک شوز میں جو سیاست دان یا جو دانشور حصہ لیتے ہیں ان کی اکثریت اپنے زمانۂ طالب علمی میں ان مراحل سے گزر چکی ہوتی ہے۔

سطورِ بالا میں جو کچھ کہا گیا وہ کسی بھی قاری کے لئے ہرگز نیا نہیں ہوگا۔۔۔ آپ اور میں، سب اس رَٹ سے گزر کر یہاں تک پہنچے ہیں۔ میں اپنی طالب علمی کا زمانہ یاد کرتا ہوں اور پھر اپنے بچوں کی طالب علمی کی یاد آتی ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ گردش ایام گھوم پھر کے سال کے تمام موسموں کو وقفے وقفے سے زندگی بھر دہراتی رہتی ہے۔۔۔۔ اگر بارِ خاطر نہ سمجھیں تو میں آپ کو ایک ذاتی واقعہ سناتا ہوں۔ میری پوسٹنگ راولپنڈی میں تھی اور میری دوبیٹیاں سی بی کالج راولپنڈی میں زیر تعلیم تھیں۔ ایک ایم اے (انگلش) کے فائنل ائر میں تھی اور دوسری گریجویشن کر رہی تھی۔ کالج کی طرف سے دونوں کو کہا گیا کہ ایک تقریری مقابلے میں حصہ لیں۔ یہ مباحثہ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں تھا اور ملک گیر لیول پر انٹر کالجیٹ مباحثہ تھا۔ ملک کے بہت سے کالجوں سے طالبات کی ٹیمیں اس مباحثے میں حصہ لینے آئی ہوئی تھیں۔ اردو اور اگلش مباحثوں کا موضوع ایک ہی تھا۔مجھے دونوں بیٹیوں نے کہا کہ تقریریں لکھ دیں۔ میں پہلے بھی یہ ’’تقریر نویسی‘‘ کرتا رہتا تھا اور دونوں بیٹیاں مختلف سطح کے تقریری مقابلوں میں حصہ لے کر کوئی نہ کوئی ایوارڈ حاصل کرلیا کرتی تھیں۔ جب یہ مباحثہ ہو چکا تو کالج کی پرنسپل صاحبہ نے ایک دن مجھے کالج آنے کی دعوت دی۔ وہاں بڑی بیٹی کی ایک استاد مسز شائستہ زید بھی بیٹھی تھیں جو کالج میں ہیڈ آف دی انگلش ڈپارٹمنٹ تھیں اور جو ریڈیو پاکستان سے عرصے تک انگریزی میں خبریں پڑھتی رہیں۔ کئی بار میں نے انہیں قاسم مارکیٹ کی سبزی مارکیٹ سے زمین پر بیٹھے سبزی فروشوں سے سبزی خریدتے اور جھگڑتے دیکھا۔ دوکانداروں سے ٹھیٹھ پنجابی میں گفتگو کیا کرتی تھیں۔ لیکن جہاں تک ان کے انگریزی زبان کے علم و فضل اور لب و لہجے کا تعلق تھا تو اس کا شہرہ تو پاکستان گیر تھا۔میں کالج میں گیا تو پرنسپل صاحبہ نے مجھے ایک شیشے کی الماری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:’’کرنل صاحب! اس میں جتنی شیلڈیں پڑی ہیں، ان میں سے آدھی آپ کی بیٹیوں نے تقریری مباحثوں میں جیتی ہیں اور مَیں اس حوالے سے آپ کی ممنون ہوں کہ آپ کی لکھی تقریروں میں کمال کا ربط اور روانی ہوتی ہے اور انتخابِ الفاظ و محاورات تواتنا باعثِ رشک ہوتا ہے کہ میری یہ دونوں سٹوڈنٹس جس شہر/کالج میں جاتی ہیں وہاں پوچھا جاتا ہے کہ یہ تقریرلکھی کس نے تھی؟‘‘۔۔۔ مَیں اس غیر متوقع ستائش پر خوش ہوا تو شائستہ زید صاحبہ نے کہا:’’ اس بار انگلش اور اُردو مباحثے کا عنوان چونکہ ایک ہی تھا۔ آپ کی دونوں بیٹیوں نے اُردو اور انگریزی میں جو تقاریر کیں ان میں ایک موضوع کے حق میں تھی اور دوسری مخالفت میں۔لیکن دونوں کو اول انعام ملا اور ہم نے آپ کو اسی لئے مبارک باد دینے کے لئے یہاں آنے کی زحمت دی ہے کہ آپ نے ایک ہی موضوع کے حق اور مخالفت میں ایسے دلائل دیئے ہیں جو عالمگیر صداقتوں (Universal Truths) پر مشتمل تھے۔‘‘

مَیں نے یہ واقعہ خود ستائی کے لئے نہیں بلکہ اس لئے آپ کو سنایا ہے کہ ٹی وی ٹاک شوز میں جو صاحبان شرکت کرتے ہیں وہ اپنے حریف کے استدلال کو اس طرح کاؤنٹر کرتے ہیں کہ ہر سامع اور ناظر کو اپنا طرفدار بنا لیتے ہیں۔اور حیران کن بات یہ ہوتی ہے کہ جب وہ ایک سیاسی پارٹی چھوڑ کرکسی دوسری سیاسی پارٹی میں شامل ہوتے ہیں تو دورانِ مباحثہ اپنی ہی گزشتہ دلیلوں کو رد کرنے میں دیر نہیں لگاتے اور ایسا موثر کاؤنٹر ہوتا ہے کہ سننے والا حیران رہ جاتا ہے۔۔۔معلوم ہوتا ہے جیسے ’’میری طرح‘‘ ایک چہرے پرکئی ماسک چڑھائے ہوئے ہیں!مَیں ایک عرصے سے پاکستانی برانڈ ٹی وی مباحثوں میں سیاسی اور دوسرے غیر سیاسی موضوعات کو سنتا رہا ہوں۔اگر ایک فریق اپنی پارٹی کے منشور کے مطابق کسی نکتے کے حق میں بھرپور دلائل دیتا ہے تو دوسرا فریق اسی زور دار طریقے سے اس کا ابطال (Negrtion) کر دیتا ہے۔۔۔ پون گھنٹے کی گفتگو کے بعد جب کسی ٹاک شوز کا خاتمہ ہوتا ہے توسامع سخت کنفیوز ہو کے اٹھتا ہے۔ طرفین کی آراء میں وہی رنگ ہوتا ہے جو سچ اور جھوٹ میں یا سفید اور سیاہ میں ہوتا ہے۔سامع کو کچھ سمجھ نہیں آتی کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے۔ دونوں طرف کے دلائل یکساں موثر، مدلل اور معتبر ہوتے ہیں۔آپ دیکھ رہے ہیں کہ دو تین روز سے ایک ایسی نئی پارٹی حکومت میں آئی ہے،جس کی تاریخ اور جس کا جغرافیہ ہم سب کو معلوم ہے۔عمران خان صاحب نے جو کابینہ تشکیل دی ہے اس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ جنرل مشرف کی باقیات ہیں اور جو کچھ وہ لوگ، مشرف کے دورِ اقتدار میں کرتے رہے ہیں، وہی کچھ اب بھی کریں گے،یہی ان کا سرمایۂ سیاست ہے، وہ تبدیل کیسے ہو سکتا ہے، نام بدلنے سے کام کی نوعیت تو نہیں بدل جاتی، یہ پرانے لوگ نئی پارٹی میں آ کر پرانے کام ہی کریں گے ناں،لہٰذا نئے پاکستان کی نوید سنانے والوں کے تمام دعوے باطل ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔ 

اکثر ٹاک شوز میں ایک ہی بیانیہ دہرایا جا رہا ہے کہ وزیراعظم نے جو وعدے کئے ہیں وہ محض ان کی چرب زبانی ہے، وہ کبھی وفا نہیں ہوں گے اور ’’نئے پاکستان‘‘ کا نعرہ آج نہیں تو چند ماہ بعد اپنے منطقی انجام کو پہنچ جائے گا۔دوسری طرف پی ٹی آئی کا وہ ووٹر ہے جس نے ایک طویل عرصے سے عمران خان سے امیدیں لگا رکھی ہیں کہ وہ آئے گا تو پاکستان بدل جائے گا۔ آپ کسی بھی چینل کو آن کرکے کسی ٹاک شو کو دیکھ لیں،25جولائی سے پہلے والے شوز اور بعد والے شوز میں آپ کو کوئی فرق نظر نہیں آئے گا۔۔۔مجھے اس بات کا مکمل یقین ہوچکا ہے کہ ٹی وی مالکان نے اپنے چینل کسی قومی نصب العین کے حصول کے لئے شروع نہیں کئے تھے۔ یہ ایک بزنس تھا جس میں منافع کے امکانات نوشت�ۂ دیوار تھے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا چینل کھلتا چلا گیا اور پھر پورا ایک قافلہ بن گیا!یہ درست ہے کہ ای میڈیا نے پاکستان کے اوسط سمجھ بوجھ والے ناظر کو ایک شعور دیا ہے، لیکن اس شعور کے ڈانڈے صرف اور صرف پاکستان کی داخلی سیاسی صورتِ حال ہی سے ملے ہوئے ہیں۔خارجی، بین الاقوامی یا معروضی معاملات اورمعاشی یا دفاعی معاملات پر کوئی ٹاک شو اس لئے دیکھنے میں نہیں آتا کہ اس کی مانگ ہی نہیں۔(مستثنیات تو ہمیشہ ہوتی ہیں)

یہ صورتِ حال وزارت اطلاعات کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے۔ اگر پی ٹی آئی نے ای میڈیا کو داخلی سیاسی موضوعات کی دلدل سے نکال کر علاقائی یا بین الاقوامی موضوعات پر بھی بحث و مباحثے اور ٹاک شوز منعقد کرنے کا دروازہ کھول دیا تو یہ نئے پاکستان کا واقعی ایک نیا روپ ہو گا!

مزید : رائے /کالم