کھوتے دی دولتی

کھوتے دی دولتی
کھوتے دی دولتی

  

آپ سب کو عید مبارک، اگر آج گوشت کھاتے ہوئے ذائقہ مختلف محسوس ہو تو سمجھ لیجئے گا کہ قربانی کا گوشت کسی کو کچھ سبق سکھائے نہ سکھائے، حلال اور کھوتے کے گوشت کا فرق ضرور سمجھا دیتا ہے، لیکن میرا مسئلہ زیادہ گھمبیر ہے۔

قربانی کے گوشت کیلئے ایک جہاں آپ کی جیب میں اپنے اخراجات سے کہیں زیادہ ہزاروں روپے درکار ہوتے ہیں اور اگر آپ اس مرحلے سے بخیر و خوبی نکل ہی آئیں۔ آپ کا بکرا چوگا اوردوندا نکل آئے تو شکر منائیں اور اگر وہ ٹھمک ٹھمک کر چلے تو آپ اس کا لنگڑا پن تلاش نہ کریں۔ سمجھ لیں کہ وہ عمران خان کی فتح پر خوشی میں لچک لچک کر چل رہا ہے۔

میں عرض کر رہا تھا اگر آپ جانور لے بھی آئیں تو اس کا اگلا مرحلہ زیادہ کٹھن ہے۔ پاکستان میں ایک نمبر قصائی ملنا بے حد مشکل ہے۔ زیادہ تر قصائی آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک میں ملازم ہوگئے ہیں۔

جو بچے انہوں نے پرائیویٹ تعلیمی ادارے کھول لئے ہیں، کچھ سپیشلسٹ ڈاکٹر بن گئے ہیں۔ آپ نے دیکھا نہیں کس خوبصورتی سے کھال اتارتے ہیں کہ ذبح ہونے والا خود لہرا کر مسکرا کے خود کو پیش کرتا ہے۔ مجھے بھی اس وقت ایک قصائی کی تلاش ہے، کیونکہ مجھے اپنے بکرے کی آنکھوں میں وہی بے بسی نظر آرہی ہے جو خود میں اکثر تنخواہ ختم ہونے کے بعد مہینے کی آخری تاریخوں میں پاتا ہوں۔

مجھے ایک قصائی کی تلاش ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کے چاروں طرف زیر تعمیر قصائی بہترین دعوؤں اور بازار سے بارعایت کھال اتارنے کی پیشکشوں سے مزین گھومتے نظر آئیں گے، لیکن مجھے ان کے ریڈ وارنٹ نکلوانے کے لئے لندن جانا پڑا۔

اسحاق ڈار جیسے نرم و نفیس بندے کی ضرورت ہے لیکن خدا گواہ، اس کی تازہ ویڈیو دیکھ کر میرا دل پسیج جاتا ہے۔ وہ تو بے چارے خود آج کل ایسے گھبرائے پھرتے ہیں جیسے سمجھدار بکرے، جنہیں ڈر ہوتا ہے کہ ان پر اب چھری چلی کہ چلی۔

اسحاق ڈار پر کھربوں روپے کی منی لانڈرنگ اور نجانے کیسے کیسے الزامات ہیں، لیکن ان کی تازہ ویڈیو دیکھ کر مجھے ان سے دلی ہمدردی ہوگئی ہے، جتنی سستی سی ٹوپی انہوں نے پہن رکھی ہے، اکثر اس طرح کے لوگ مساجد میں آکر کہتے ہیں، بھائیو! میری جیب کٹ گئی، وہ ساہیوال تک دا کرایہ دے دیو۔

چلیں وہ اسحاق ڈار، ہیں سپیشلسٹ، لیکن مجھے زیادہ خوف اپنے اردگرد زیر تعمیر قصائیوں سے آتا ہے، کوئی ثقافت سنبھال رہا ہے کوئی خزانہ، اللہ خیر کرے۔ بس میری التجا یہ ہے کہ اتارنی آپ نے بھی کھال ہے، بس سابقین کو یہ ہنر آگیا تھا کہ کھال اتارو اور جتنی مرضی اتارو، بکرا بس خوشی خوشی ایک ہی صدا بلند کرتا تھا، ’’اک واری فیر‘‘ ویسے تو اقبال بڑا ابدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے۔

ایک شخص نے اعلان کیا وہ مینار پاکستان اپنے کاندھوں پر اٹھا کے دکھائے گا، شرط والے دن دوست جمع ہوگئے۔ وہ آیا اور بولا اٹھاتا ہوں تسی بس ذرا ہتھ لوا دو، میرے ہیرو وزیراعظم نے جتنے بڑے دعوے کر دئیے ہیں، کہیں انہیں اب ہتھ لوا دو والوں کی ضرورت نہ پڑ جائے۔

چلیں بندہ گڑ نہ دے گڑ کی سی بات ہی کر دے تو کافی۔ ہم تو ہیں ہی اس قوم کے جو ستر سال سے کہہ رہی ہے، جو دے اس کا بھلا جو نہ دے اس کا بھی بھلا۔

بات کھوتے سے شروع ہوئی، کھوتے پر ہی ختم ہوگئی۔ میں اپنے کپتان کی طرح لفظ گدھا استعمال نہیں کرونگا، کیونکہ مزا کھوتا کہنے اور کھوتا کھانے کا ہے وہ گدھے میں نہیں۔ اس لئے ہم اپنے بچوں کو بھی کبھی کبھی پیار سے کھوتے دا پتر کہہ دیتے ہیں۔

ایک بار کھوتا کھڑا تھا، اس کے زخم پر مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں۔ ہمارے مہربانو، قدردانو جیسے ایک عظیم آدمی کا ادھر سے گزر ہوا اسے کھوتے صاحب کی حالت زار پر ترس آگیا، اس نے وہ مکھیاں اڑا دیں۔ اچانک کھوتے صاحب نے اپنے محسن کا اپنی دولتیاں جھاڑ دیں۔

صاحب کپڑے جھاڑتے ہوئے اٹھے اور بولے واقعی تو کھوتے کا کھوتا رہے گا۔

میں نے تجھ پر احسان کیا اور تو نے مجھے دولتی مار دی۔ کھوتا تھا تو کھوتا، لیکن تھا ماہر لسانیات وہ انسانی زبان بھی سمجھتا تھا۔ بولا تم نے یہ احسان نہیں، ظلم کیا ہے، کیونکہ یہ مکھیاں میرا زخم کھا کھا کر رج گئی تھیں۔ اب ان کی جگہ نئی مکھیاں آئیں گی اور نئے حوصلے، ہمت اور بھوک کے مطابق میرا زخم چاٹیں گی۔ اللہ بیس کروڑ کھو،،،،، پر رحم کرے۔

ستر سال سے ہر بار نئی مکھیاں آتی ہیں، زخم کھاتی ہیں، پیٹ بھرتی ہیں اور اڑ جاتی ہیں۔ اب دیکھیں تحریک انصاف ہمارے ساتھ کیا کرتی ہے، ہم تو کسی کو دولتی بھی نہیں مارسکتے۔

مزید : رائے /کالم