میاں صاحب خیر مبارک

22 اگست 2018 (11:08)

شاہد نذیر چودھری

 عید الفطر ہویا عید قرباں ،ہمارے ہاں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو عیدین پر بھی گھر میں سویا پڑا ہوتا ہے ،جب سہ پہر کے بعد رنڈیوں کی طرح ان کی سویرہونا شروع ہوتی ہے تو کسملمندی اتارتے ہوئے اپنا فلسفہ عید بیان کرتے ہیں ” عید تو سونے کا نام ہے ،کیا کرنا ہے باہر جاکر گھر میں نماز پڑھ لی سو پڑھ لی،بھائی باہر خطرہ ہے ۔میں نے اپنے بیٹے کو اجتماعات میں جانے سے روک رکھا ہے لیکن ضد پکڑ گیا تو کہا تھا کہ ماموں کے ساتھ چلے جانا مگر ایسی مسجد میں جہاں بارود کی بو سونگھنے والے آلات ہوں اور پولیس بھی موجود ہے لیکن ایسی نماز کا کیا فائدہ جو خوف میں پڑھی جائے ۔“ایسے افسردہ خیال اور کم ہمت لوگوں نے ہی دراصل پاکستانیوں کے دلوں میں خوف پیدا کررکھا اور ان کے بدنوں سے عزم صمیم کی روح چھین لی ہے ۔وہ ساری زندگی خوف نفرت اور پست ذہنی کے ساتھ گزارتے ہیں اوراک قطرہ خون بھی ملک کے نام پر بہانے سے گریزاں نطر آتے ہیں ،البتہ انگلی کٹوائے بغیر شہید کہلوانے والا یہ طبقہ مفادات سمیٹنے کی دوڑ میں سب سے آگے نظر آتا ہے ۔اس فکری قماش کے لوگوں کو یہ کوئی غرض ہی نہیں کہ جس ملک سے وہ بدگماں رہتے ہیں وہاں 60 ہزار سے زائد شہدا کا خون دیکر امن کی فصل کاشت کی گئی ہے اور 12 بلین ڈالر سے زائد مالی نقصان اٹھا کر پچھلے سولہ سترہ سالوں میں اپنے عزم صمیم پر ڈٹا ہوا ہے ۔پاکستان نے اپنی جنگ لڑی ہے ۔اس جنگ میں شہید ہونے والے امن کی قیمت کا درست اندازہ رکھتے ہیں ،وہ عیدکی نمازیں اجتماعات میں پڑھتے ہیں اور قومی تہواروں پر بھی پورے جوش و خروش کا مظاہرہ دکھاتے ہیں۔پاکستان دراصل انہی زندہ دلوں کا وطن ہے جن کی سویر رات کو نہیں فجر کے بعد طلوع ہوتی ہے۔وہ پاکستان کے جانثار ہیں متاثرین نہیں ۔

عید قربان پر اے این پی کے سیکرٹری جنرل میاں افتخارحسین کا پیغام پڑھ کر دل کو بڑی ڈھارس ملی ہے کہ ایسے قوی العزم پاکستانیوں کی وجہ سے ہی یہ ملک اپنے قدموں پر کھڑا ہے ۔وہ لکھتے ہیں ”میرا اکلوتا بیٹا شھید ہوا۔گھر پر خودکش حملے میں خاندان کے دو انیس سالہ نوجوان شھید ہوئے،ایک خودکش حملے میں خود محفوظ رہا۔ 2009 سے ابتک تھریٹس مل رہے ہیں ۔مگر میں متاثرین میں نہیں،دھشتگردی کے خلاف لڑنےوالا نظریاتی سپاہی ہوں جس پر مجھے فخر ہے۔عالمی سطح پر دھشتگردی کے متاثرین کو سلام“،میاں صاحب  کی جانب سے پوری قوم اور دہشت گردی کی جنگ میں شہید ہونے والوں  کے نام عید مبارک  کا  پیغام ،پیام بیداری کی دلیل ہے ،قوم انہیں خیر مبارک کہتی ہے ۔ اے این پی کے ہارون بلور کا خاندان بھی دہشت گردی کے زخموں کو سہہ کر عید منارہا ہے ،بلوچستان میں سراج رئیسانی جیسے محب وطن شہید نے بھی بیٹے کے بعد شہادت کا رتبہ پایا ہے لیکن ان کے خاندان کی بھی پاکستان سے انمٹ محبت کے چراغ عید پرفروزاں ہیں اور وہ عید قرباں منارہے ہیں ،اسیطرح اجتماعات میں جاکر عید پڑھ رہے ہیں ۔انہیں اپنی جانوں کا کوئی خطرہ نہیں کیونکہ انکے عقائید پختہ اور ایمان سے لبریز ہیں ،وہ   موت کو سہیلی سمجھتے ہیں ۔دراصل پاکستان کی تقدیر انہٰیں لوگوں کے ہاتھوں سے سنور سکتی ہے جو قربانی دینا جانتے ہیں،عید پر نوحے نہیں پڑھتے بلکہ مبارکبادیں دیکر رب العزت کی رضا پر راضی نظر آتے ہیں۔دیکھا جائے تو عید قربان کا فلسفہ انہی  شہداکے وارثوں کا اثاثہ ہے۔دعا ہے کہ نئے پاکستان کی پہلی عید قربان پراس پژ مردہ طبقہ کی روح بھی بیدار ہوجائے جو دوسروں کی زندہ روحوں پر انحصار کرتے اور اپنے حصہ کا چراغ جلانے سے کتراتے ہیں۔

..

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزیدخبریں