بھارت نواز نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نماز عید پڑھنے درگاہ حضرت بل میں گئے تو کشمیریوں نے ان کے ساتھ ایسا سلوک کر دیا کہ نئی دہلی میں بیٹھے نریندرا مودی بھی پریشان ہو جائیں گے 

بھارت نواز نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نماز عید پڑھنے درگاہ ...
بھارت نواز نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نماز عید پڑھنے درگاہ حضرت بل میں گئے تو کشمیریوں نے ان کے ساتھ ایسا سلوک کر دیا کہ نئی دہلی میں بیٹھے نریندرا مودی بھی پریشان ہو جائیں گے 

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سری نگر(ڈیلی پاکستان آن لائن) ہندوستان قابض فوج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں جاری پر تشدد کارروائیاں اور تحریک آزادی کو ختم کرنے کے ہر حربے آزمانے کے باوجود کشمیری عوام کے دلوں سے پاکستان کی محبت ختم کرنے میں بری طرح ناکام ہو گیا ،ہندوستان کا جبر ،تشدد ،شہادتیں ،گرفتاریاں ،جیلیں اور نام نہاد پولیس مقابلے بھی مظلوم کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں کر سکے ، بھارت نواز نیشنل کانفرنس کے صدراور مقبوضہ کشمیر کے سابق کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبد اللہ کو ہندوستان سے محبت مہنگی پڑ گئی ،نماز عید پڑھنے درگا حضرت بل شریف میں گئے تو نمازیوں نے ایسا سلوک کر دیا کہ نئی دہلی میں بیٹھے بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کی نیندیں بھی اڑ جائیں گی ۔

تفصیلات کے مطابق بھارت نواز نیشنل کانفرنس کے صدر اور مقبوضہ وادی کے سابق کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبد اللہ کو بدھ کے روز سری نگر میں واقع درگاہ حضرت بلؒ میں اس وقت شدید ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا جب نمازعیدالاضحی کے اجتماع کے شرکاء نے ان کی موجودگی پر احتجاج کرتے ہوئے ’کشمیر کی آزادی‘ اور ’پاکستان کے حق میں‘ شدید نعرے بازی کی۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے گزشتہ روز نئی دہلی میں سابق وزیراعظم آنجہانی اٹل بہاری واجپائی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے سلسلے میں منعقدہ ایک تقریب میں ’بھارت ماتا کی جے‘ اور ’جے ہند‘ کے نعرے لگائے تھے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق سری نگر کے مضافاتی علاقہ حضرت بل میں واقع درگاہ حضرت بل میں بدھ کو نمازعیدالاضحی شروع ہونے سے عین قبل نمازیوں کی ایک بڑی تعداد نے فاروق عبداللہ کی موجودگی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے شدید نعرے بازی شروع کردی۔ اگرچہ درگاہ کے امام نے صورتحال کو پرسکون بنانے کی کوششیں کیں، لیکن وہ کامیاب نہیں ہوسکے اور نماز عید کے شرکا مسلسل پاکستان اور آزادی کے حق میں نعرے لگاتے رہے ۔احتجاج کرنے والے کشمیری حریت پسند چاہتے تھے کہ فاروق عبداللہ کو درگاہ کے صحن سے باہر نکالا جائے،ان کی جانب سے ’کشمیر کی آزادی‘ اور’پاکستان کے حق میں‘ شدید نعرے بازی کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق درگاہ میں شدید افراتفری کے عالم میں نمازعیدالاضحی ادا کی گئی۔صورتحال کی کشیدگی کو دیکھتے ہوئے فاروق عبداللہ عید کی دو رکعت نماز ادا کرنے کے فوراً بعد درگاہ حضرت بل سے اپنے گھر کے لئے روانہ ہوگئے۔ انہوں نے نماز عید کا خطبہ بھی نہیں سنا۔ واقعہ کی متعدد ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہیں۔

مزید : قومی /علاقائی /آزاد کشمیر /مظفرآباد