بہاول پور، بیس برس اور میونسپل کارپوریشن

بہاول پور، بیس برس اور میونسپل کارپوریشن

”12 جون 1998 کی روشن صبح تھی۔ ماڈل ٹاؤن اے بہاول پورکے پلاٹس کی نیلامی جاری تھی۔ میونسپل کارپوریشن بہاول پور کے افسران نیلامی کے لئے موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر،کمشنراور 1997ء کے انتخابات میں کامیاب ایم این اے صاحبزادہ فاروق انور عباسی بھی جلوہ افروز تھے۔ نیلامی میں کامیاب ہونے والوں کی خوشی دیدنی تھی، لیکن ان کو معلوم نہیں تھا کہ خریداگیا پلاٹ درخت پر بیٹھی چڑیا کی مانندہے نجانے کب ہاتھ آئے؟ میں نے ساڑھے 9 مرلے پلاٹ نمبر 19 خرید لیا۔ پلاٹ کی مکمل رقم چھ لاکھ نو ہزار باون روپے مقررہ میعادمیں ادا کردی۔ 5 اکتوبر 1998ء کو قبضہ موقع پر مجھے دے دیا گیا۔پلاٹ کنٹونمنٹ ایریا میں واقع تھا۔ کنٹونمنٹ آفیسر نے بغیر پٹہ ملکیت تعمیر کی اجازت نہ دی۔ میونسپل کارپوریشن بہاول پور سے پٹہ جاری کرنے کی گزارش کی۔افسران اور اہل کار تقریباً 2 سال تک مجھے ٹرخاتے رہے کہ آپ کو پٹہ ملکیت جاری کرتے ہیں۔“کرسی سے ٹیک لگا کر وہ سن رسیدہ شخص بوجھل آواز اور دھیمے لہجے میں داستان سنا رہا تھا۔

”پھر انکشاف کیا گیا کہ11 موضع جات کے انتقال خارج ہوگئے ہیں۔ آپ کے موضع کا انتقال بھی خارج ہو گیا ہے۔ معاملہ ریونیو بورڈ کے پاس ہے۔ جیسے ہی ریونیو بورڈ انتقال بحال کرتا ہے ہم آپ کوپٹہ ملکیت جاری کر دیں گے۔ اس دوران 3 الاٹیز نے رقم واپس وصول کرنے کی درخواست دی اور رقم وصول کر لی۔ میں نے 2004ء میں رقم واپسی کی درخواست دی تو مجھے امید دلائی گئی کہ جلدریونیو بورڈ سے انتقال بحال ہو جائیں گے۔میں نے کئی بار لاہور کا سفر کیا سینکڑوں کلومیٹر ماپے اور ریونیو بورڈ کے دفتر میں حاضریاں دیں۔ 2014ء میں ریونیو بورڈ سے انتقال بحال ہو گئے۔ ریونیو بورڈ کے فیصلے پر عمل درآمد کروانے کے لئے کمشنر بہاولپور کے پاس حاضری دی۔ 14 دسمبر 2015 کوایڈیشنل کمشنر Consolidation بہاول پور نے ریونیو بورڈکے فیصلے پرعمل درآمد کروا دیا۔“اس نے پلکیں جھکاتے ہوئے بات مکمل کی۔

”دوسری طرف ہم تین افراد نے پٹہ ملکیت کے حصول کے لئے ہائی کورٹ بنچ بہاول پور میں سن 2000ء میں رٹ دائر کی۔7 مارچ 2012ء کوعدالت نے یہ حکم صادر کیا کہ پٹہ ملکیت جاری کیا جائے۔ ہم نے عدالتی فیصلے کو بنیاد بنا کرمیونسپل کارپوریشن کو پٹہ ملکیت کے اجراء کے لئے درخواست دی، لیکن ہائی کورٹ کے حکم پر عملدرآمد نہ کیا گیا۔ یوں پہلی بار میونسپل کارپوریشن بہاول پور نے عدالتی فیصلے پراپنے عمل سے سیاہی پھیر دی۔بہاول پور بینچ کے دروازے پر پھر دستک دی گئی اور رٹ پٹیشن دائر کی۔ عدالت نے 18 جون 2015ء کو فیصلہ سنایا۔کارپوریشن کو دو ماہ میں پٹہ ملکیت جاری کرنے کا حکم صادر کیا۔ لیکن کارپوریشن نے اس حکم پر بھی عملدرآمد نہ کیا اورمجھے جمع شدہ رقم مع سود واپس لینے کی تجویز دی گئی۔

میرے انکار پرپٹہ ملکیت جاری نہ کیا گیا۔ یوں دوسری بار میونسپل کارپوریشن نے عدالتی فیصلے پر اپنے عمل سے سیاہی پھیر دی۔ہم نے ایڈمنسٹریٹر میونسپل کارپوریشن کے خلاف توہین عدالت کی درخوات دائر کی۔ 18 جنورری 2016ء کو عدالت نے ہمارے حق میں فیصلہ کیا۔عدالتی احکامات کے پیش نظر ایڈمنسٹریٹرنے24 اگست 2016ء کو بھی پٹہ ملکیت جاری کرنے کاحکم دیا،لیکن اس کے باوجود متعلقہ عملے نے عمل درآمد نہ کیا۔تیسری بار میونسپل کارپوریشن بہاول پور نے عدالتی فیصلے پراپنے عمل سے سیاہی پھیر دی۔“ وہ بات کرتے کرتے رک گیا۔

”سابق مئیر میونسپل کارپوریشن بہاول پور عقیل انجم ہاشمی کا رویہ نامناسب اور حیران کن تھا۔ مئیر کو عدالتی احکامات پر عمل درآمد کی گزارش کی۔ کان پر جوں تک نہ رینگی۔ عدالت عالیہ کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیا۔ فرمایا: جہاں مرضی چلے جاؤ میں آپ کو پٹہ ملکیت جاری نہیں کروں گا۔ ہم نے سابق مئیرعقیل انجم ہاشمی کے خلاف بہاول پور بینچ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی۔ عدالت نے 11 اکتوبر 2017ء سابق مئیر کو 30 دن میں پٹہ ملکیت جاری کرنے کا حکم دیا، لیکن اس پر بھی عمل درآمد نہ ہوا۔چوتھی بار میونسپل کارپوریشن بہاول پور نے عدالتی فیصلے پراپنے عمل سے سیاہی پھیر دی۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آئی کہ میونسپل کارپوریشن بہاول پور کے فرض شناس اور ذمہ داران ملازمین، عوامی نمائندے، ایڈمنسٹریٹرز کیوں ہماری زمین ہمیں دینے پر آمادہ نہیں؟نیلامی ہوئی، رقم ادا کی، قبضہ دیا، سرکاری افسران نے حکم جاری کیا،عدالتی فیصلے آئے، لیکن عمل درآمد سے گریز کیوں ہے؟“ کرب کے آثار اس کے چہرے پر تھے۔

اب اس کی آواز میں ایک درد تھا۔ جو مجھے محسوس ہو رہا تھا۔ اپنی بے بسی کا درد اور اہل اختیار کی بے حسی کا درد۔ اس کی آواز بھرا گئی: ”پلاٹ کی قیمت میں یقینا کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ بیوروکریسی کے دھکے کھاتے مجھے بیس برس ہو چکے۔ لاکھوں روپے خرچ کر چکا ہوں۔ 1998ء میں ایک تولہ سونا پانچ ہزار کے لگ بھگ تھا، اب پچاسی ہزار سے اوپر ہو چکاہے۔میری مالی حالت بہتر تھی سو میں نے جیسے تیسے اخراجات کر لئے۔ کیا میونسپل کارپوریشن بہاول پور مجھے یہ اخراجات واپس کرے گی؟ جو مجھے میرا پلاٹ دینے پر آمادہ نہیں وہ اخراجات کی رقم کیسے دیں گے؟

صورت حال یہ ہے کہ جن 3 افراد نے پلاٹس کے حصول کے لئے کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ ان میں سے ایک کی بیوہ اور بیٹی آس لگائے بیٹھی ہیں۔ دوسرے کو پلاٹ سے قبل دو گز زمین کا پٹہ ملکیت مل گیا اور وہ اس میں دفن ہو گیا، اب اس کا پوتا دوڑ دھوپ کر رہا ہے۔ تیسرا میں ہوں، جو لاٹھی ٹیک کر چلتا ہوں۔ بیس برس میں کتنی امیدوں کے گھروندے بکھرے؟کتنی تمناؤں کا خون ہوا؟ کتنی گھڑیاں، کتنے گھنٹے اور کتنے دن تار تارہوئے؟ بیس برس کادنوں میں تول کروں تو سات ہزار تین سو دن بنتے ہیں۔ کس وجہ سے حق داروں کے حق کو ان سے روکا گیا ہے؟ہم نے 2018ء میں پھر توہین عدالت کی درخواست دائر کی۔ جو تاحا ل عدالت میں ہے“۔

”تبدیلی کا شور آیا۔ میں نے 18نومبر 2018ء میں پہلی بار درخواست پاکستان سٹیزن پورٹل میں دی۔ اس کا جواب ساڑھے تین ماہ کے بعد 7 مارچ 2019ء وصول ہوا۔ جواب تھا کہ درخواست میونسپل کارپوریشن میں زیر عمل ہے اور جزوی ریلیف کا سٹیٹس بیان کیا گیا۔دوسری بار درخواست 25 اپریل 2019ء کو دی۔26 جون 2019ء کو جواب تھا کہ معاملہ عدالت میں ہے اور میونسپل کارپوریشن نے یہ سوال کیا ہے کہ درخواست گزار کو رقم چاہئے یا پٹہ؟ ریلیف کا سٹیٹس بیان کیا گیا اور درخواست کو کلوز کر دیا گیا۔(یاد رہے کہ میں نے 2004ء میں رقم واپسی کی درخواست دی تھی، جس کو میونسپل کارپوریشن نے 15 برس قابل اعتناء نہ جانا۔ ان پندرہ برسوں میں پٹہ کے اجراء کے عدالتی احکامات بھی جاری ہوئے۔

اب رقم کی واپسی کے معاملے پر بلا وجہ حساسیت کو میونسپل کارپوریشن کی جانب سے تاخیری حربہ ہی قراردیا جا سکتا ہے۔) تیسری بار درخواست 4 جولائی2019 ء کو دی۔ 8 اگست 2019 کوجواب تھا کہ معاملہ عدالت میں ہے اور میونسپل کارپوریشن نے یہ سوال کیاہے کہ درخواست گزار کو رقم چاہئے یا پٹہ؟ ریلیف کا سٹیٹس بیان کیا گیا اور درخواست کو کلوز کر دیا گیا۔ گویا پاکستان سٹیزن پورٹل پر ان 3 درخواستوں پر ساڑھے آٹھ ماہ کی مدت گزرچکی۔" بوڑھا داستان سنا کر خاموش ہو چکا تھا، میں بھی خاموش تھا۔کمرے میں بھی خاموشی تھی۔ ظلم کی داستان سننے کے باوجود کیااہل اقتداربھی خاموشی کی چادر اوڑھ لیں گے؟اگر ذمہ داری کا احساس حکام کے دل پر دستک دے تو وہ اس عمر رسیدہ سے رابطہ کر سکتے ہیں 0300-8744690

مزید : رائے /کالم


loading...