چنار شعلے اُگل رہے ہیں

چنار شعلے اُگل رہے ہیں
چنار شعلے اُگل رہے ہیں

  


2008ء کی بات ہے۔ مَیں فلاسفی آف سوشل سائنس پڑھا رہی تھی۔ یہ مضمون، ایم اے میڈیا سٹڈیز کے طلباء پڑھ رہے تھے۔ میڈیا ایتھکس کی بات ہو رہی تھی توایجنڈا سیٹنگ اور پروپیگنڈے پر بحث ہونے لگی۔ کچھ دیر طلباء کو نئی صدی میں نئے ٹی وی چینل، آزادیء اظہار، معلومات تک سب کی رسائی وغیرہ کی بحث میں الجھے دیکھا، پھر انہیں ٹوک کر ان سے پوچھا کہ خبر کے اس تیز زمانے میں کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ نے آخری مرتبہ کشمیر کے بارے میں کوئی خبر کب سنی تھی؟ کمرے میں کچھ دیر خاموشی رہی، سب نے ایک دوسرے کو دیکھا، مگر کسی کو کوئی نئی خبر یا بات یاد نہیں تھی۔ ہم سب نے جب سے ہوش سنبھالا ہے، ایسا کبھی نہیں ہوا کہ سرکاری ٹی وی کا خبرنامہ کشمیر کی خبرسے خالی ہو، بلکہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ سات بجے انگریزی کی خبروں میں بھی بلاناغہ کشمیر کی صورت حال بتائی جاتی۔ اس کے بعد سوا سات بجے پندرہ منٹ کا وقت کشمیر کے لیے مختص تھا۔ اس وقت ”چنار شعلے اگل رہے ہیں …… سری نگر کے ہر ایک گھر میں وفا کے چشمے ابل رہے ہیں“ اور”مرے وطن تری جنت میں آئیں گے اِک دن، ستم شعاروں سے تجھ کو چھڑائیں گے اِک دن“…… جیسے نغموں کی آواز ہر روز کانوں میں پڑتی تھی، تو بچوں کو اس کے ساتھ ایک خاص نسبت پیدا ہو جاتی تھی۔ لوک گیتوں کی طرح ان نغموں کے بول اور ان کی دھنیں دل سے اْگتی اور لہو میں ترتیب پاتی محسوس ہوتی تھیں۔ تقاریر میں ”یارانِ جہاں کہتے ہیں کشمیر ہے جنت، جنت کسی کافر کو ملی ہے نہ ملے گی“، جیسے اشعار اور ریلیوں یا جلسوں میں ”کشمیر بنے گا پاکستان“ جیسے نعرے ہمارے شعور کی سب سطحوں میں سمائے ہوئے تھے۔

ہمیں  اپنے ارد گرد کبھی ایسا کوئی شخص نہیں ملا تھا، جس نے اس کے برعکس کوئی بات کی ہو یا ہم میں سے کوئی بھارتی ظلم و تشدد اور ہندو ذہن کی چالیں نہ سمجھتا ہو۔ یہ سب یاد دلانے پر طلبا ء کو یاد آیا اور چند طلباء نے کہا کہ ایسا بہت غیر محسوس طریقے سے ہوا اور شاید اتنے چینل ہونے کی وجہ سے احساس ہی نہیں ہوا کہ کوئی اہم خبر ہے جو نہیں سنائی جا رہی۔ یہ اب سے ایک دہائی پہلے کی بات ہے۔کیا ظلم بند ہو گیا تھا؟ کیا کشمیر کے ان لہو رنگ نظاروں میں  واقعی صرف خالص سبزے کی بہار ہی رنگ دکھا رہی تھی؟ کیا ان بیٹیوں کے دکھ درد کم ہو گئے تھے؟ نہیں ایسا تو نہیں تھا، تو پھر یہ خاموشی کیوں تھی؟……خیر! جو بھی تھا، پھر وہ وقت دوبارہ لوٹ آیا اور بوجوہ کشمیر کی خبریں دوبارہ سنائی دینے لگیں۔ تحریکِ آزادی کی شدت میں پھر سے تیزی آگئی۔برہان وانی کی شہادت پر کئی دن تک ہر طرف ایک ہی خبر تھی اورہم پیلٹ گن کی گولیوں سے چھیدے ہوئے جسم اور بینائی سے محروم آنکھیں دیکھ دیکھ کر تڑپنے لگے۔نئی نسل بھی، سب کچھ حیرت سے دیکھنے لگی اور دکھ محسوس کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو سمجھنے لگی۔انھوں  نے بھی ہماری طرح نئے دور کی سہولتوں کے مطابق سوشل میڈیا پر ہندی فلموں کے اداکاروں کے اسی طرح چھدے ہوئے چہروں والی تصاویر پوسٹ کر نا شروع کر دیں،لیکن شاید انھیں اس جدوجہداوردکھ کی کہانی اس طرح معلوم نہیں جس طرح ہماری نسل کو ہے۔

جہادِ کشمیر کی بنیادوں میں ہمارے اپنوں کا لہو ہے۔کشمیر کی وادی، ڈل کی جھیل، چناروں کے رنگ، کشمیری شالیں اور گیت؛ یہ خطہء جنت نظیر کسی خوب صورت خواب کی طرح پاکستان بننے کے بعد کی سب نسلوں کے ساتھ رہا ہے۔ شاید سب کو اپنی زندگی میں ایسا لگتا ہو کہ ہم بھی کشمیر کو آزاد ہوتا دیکھیں گے اور موت کی وادی میں اترنے سے پہلے جنت دیکھیں گے۔ان کے دلوں میں شاید یہ خدشہ اور سوال بھی سر اٹھاتا ہو کہ کیا کشمیر کی صورتِ حال ہماری زندگیوں میں ایسے ہی رہے گی؟ ہم تو عمر بھر اس خواب کے ساتھ ساتھ چلتے اور بڑے ہوتے رہے اور لگتا تھا کہ اس خواب کے ساتھ ساتھ چلتے رہیں گے، اپنے بڑوں کی طرح۔پھر اچانک کسی نے ہمیں جھنجھوڑ کر اس خواب سے جگا دیا۔ جس دن بھارت میں آرٹیکل 370اور آرٹیکل35اے کو معطل کیا گیا، اس دن مجھے 2008ء کی وہ کلاس اور اپنے طلباء سے گفتگو یاد آئی۔ مَیں نے لکھنا چاہا، لیکن میں نے سوچا کہ چند دن دیکھنا ہو گا کہ مَیں جو سوچ رہی ہوں، کیا واقعی ایسا ہونے جا رہا ہے۔ اب جب چند دن گزر گئے ہیں تو معلوم یہ ہوا ہے کہ واقعی ایسا ہی ہو رہا ہے اور بہت تیزی سے ہو رہا ہے۔ابھی تو چند دن ہوئے اور حسب معمول چند دن کے شور شرابے کے بعد بتدریج خاموشی چھانا شروع ہو چکی ہے، بلکہ ہمارے ذہنوں میں تو یہ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ہم آزاد کشمیر کی فکر کریں۔مجھے ڈر ہے کہ یہ خاموشی دوبارہ اسی طرح گہری ہو گئی تو خدانخواستہ کہیں مستقل نہ ہو جائے۔اپنی ایک پرانی نظم جو اسی دکھ کا اظہار ہے:

کیا حال ہوا ہے مرے خوابوں کے نگر کا

ویران دریچوں میں لرزتی ہے اْداسی

آنگن کسی وحشت کی سزا کاٹ رہے ہیں

آئینوں سی یہ جھیلیں ہوئیں اور بھی پیاسی

جو سبز روِش تھی یہاں کل، آج وہیں پر

جلتے ہوئے اشجار کا انبار پڑا ہے

کب رْت کے بدلنے سے بھلا بدلے نظارے

وادی سے جو موسم بھی گزرتا ہے‘ کڑا ہے

تارے بھی زمیں دیکھ کے اب ہونے لگے ماند

جگنو بھی نہ چاہیں کہ وہ اِس راہ پہ آئیں

اب تتلیاں اِس سمت بھی دیکھیں نہ پلٹ کر

پھولوں کو میسر نہیں خوش رنگ قبائیں

یہ لوگ دہل جاتے ہیں آہٹ سے صبا کی

اب شہر میں ہر سو ہیں عجب خوف کے پہرے

اک باس بھٹکتی ہے ہواؤں میں لہو کی

جھونکا کوئی خوشبو کا یہاں کس طرح ٹھہرے

سینے میں سمیٹے ہوئے کھوئی ہوئی یادیں

خاموش نگاہیں تو اب آنسو ہی بہائیں

جھکتے ہوئے کاندھے بھی اٹھا لائے ہیں موت آج

کرتی ہیں نئے بین نئی لاش پہ مائیں

چاہیں توسجا لیں مجھے نیزے کی اَنی پر

لیکن مری آنکھوں میں بھرے خواب تو دیکھیں

چاہیں تو اسے جلتی چتاوں میں دھکیلیں

لیکن مرے شعلے کی تب و تاب تو دیکھیں

مزید : رائے /کالم


loading...