حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کی دوریاں جاری

حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کی دوریاں جاری
حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کی دوریاں جاری

  


قریباً تین ماہ قبل بات ہوئی تو سوال آیا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے بعد چیف آف آرمی سٹاف کون ہوں گے،مَیں نے برملا کہا کہ ان کے عہدہ میں تین سال کی توسیع ہو گی اور اطمینان بخش طریقے ہی سے ہو گی۔ساتھی حیران ہوئے اور بعض دانشور حضرات نے اعتراض کیا کہ اتنی دیر پہلے ہی کیسے یہ کہا جا سکتا ہے،مَیں نے عرض کیا کہ حالات تو یہی بتاتے ہیں۔بہرحال میرا یہ اندازہ تجربے، بعض معلومات اور مشاہدے کی بنا پر تھا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ بہت متحرک تھے، وہ نہ صرف اپنی تقریروں کے ذریعے ملکی معیشت سے استحکام تک کی بات کرتے اور پرزور وکالت کرتے تھے، پھر وزیراعظم عمران خان سے لے کر ان کے وزیر اطلاعات/اب معاون خصوصی تک بھی فوج اور حکومت کے ایک صفحہ پر ہونے کی بار بار دہائی دیتے تھے۔ یوں بھی اس دور میں شاید پہلی بار ایسا ہوا کہ غیر ملکی مندوبین وزیراعظم سے ملتے تو ان کی ملاقات جنرل باجوہ سے بھی ہوتی،جہاں تک جنرل قمر جاوید باجوہ کا اپنا تعلق ہے تو انہوں نے جتنے تواتر کے ساتھ وزیراعظم عمران خان سے ملاقاتیں کیں، ماضی میں اس کی کوئی اور مثال نہیں، جنرل قمر جاوید باجوہ ہمہ وقت ایسے سرگرم بھی تھے کہ ہر تہوار مرکزی دفتر یا گھر پر گزارنے کی بجائے، سرحدوں پر جوانوں کے ساتھ گزارتے تھے۔اب اگر ان تمام حالات کو جنرل(ر) پرویز مشرف کی کتاب کے ساتھ ملا کر دیکھا جاتا تو واضح تھا کہ ایسا ہی ممکن ہے،اس کے بعد جب وزیراعظم کے سہ روزہ دورہئ امریکہ کا مرحلہ آیا تو جنرل کی موجودگی اور امریکہ میں پذیرائی کے ساتھ پینٹاگون اور وزارتِ دفاع میں مصروفیت اور بات چیت بھی معنی خیز تھی،اس حوالے سے خبریں بھی نہیں آئیں، ماسوا اس کے کہ جنرل باجوہ پینٹاگون گئے اور وزارتِ دفاع میں اعلیٰ حکام سے بھی بات کی۔

یہ سب ابتدا ہی سے واضح تھا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی ہمہ گیر مصروفیت ان کو ناگزیر کی سطح تک لے جا رہی ہے اور اسی سے مَیں نے یہ اخذ کیا کہ بہتر تعلقات کار کی وجہ سے وزیراعظم اور حکمران یہی بہتر خیال کریں گے کہ یہ سلسلہ آگے بڑھے،اس کے بعد مودی نے بھی کوئی کسر نہ چھوڑی اور ان کی حرکتوں سے معروضی حالات کا تازہ مرحلہ بھی آ گیا اور اسی سے چین آف کمانڈ کی بات کی گئی۔یوں یہ دیوار پر لکھا تھا، جہاں تک ایک دوسرے خیال کا تعلق ہے تو وہ بھی بجا ہے کہ ایک سطح پر تو یہ طے ہو چکا تھا کہ توسیع نہیں ہو گی اور پہلے سے ہی ڈپٹی چیف کا تقرر ہو گا اور پھر تین نام بھیجے جائیں گے، تاہم دہشت گردی کی بڑھتی وارداتوں اور قلع قمع کرنے کے اقدامات نے ایک اور سبب پیدا کر دیا تھا۔ بہرحال ایسا نہیں کہ منفی کام نہیں ہوا۔ یہ تھوڑا عرصہ پہلے کی بات ہے کہ ایک صاحب نے سوشل میڈیا پر شوشہ چھوڑا۔ اب یہ فیصلہ جلدی کیا گیا کہ مودی کی شر انگیز اور ہٹلرانہ حرکات کی وجہ سے خطے کے امن ہی کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں اور جو فیصلہ ستمبر میں کئے جانے کا طے تھا وہ اگست ہی میں کر دیا گیا،اور اب یہ سب معمول نظر آیا ہے،اگر کوئی دِل شکنی کا مسئلہ ہے(جو فطرتاً اور قدرتاً ہوتا ہے) تو وہ بھی ظاہر نہیں ہوا، سب کچھ معمول کے مطابق اور لوگ اسے درست جانتے ہیں۔

یہ حالات اپنی جگہ، تاہم حکومتی کارکردگی کا اپنا الگ سوال ہے۔ ایک سال ہو گیا، حکومت اپنی کامیابیاں گنوا رہی ہے،اس میں معاشی استحکام کا بھی دعویٰ ہے، جب مہنگائی اور بے روزگاری کی بات ہوتی ہے تو فوراً کہا جاتا ہے کہ سابقہ ادوار کے باعث ہوا،کسی اور خرابی کا ذکر کیا جائے تو بھی ایسا ہی جواب ملتا ہے۔اس سے پہلے تمام تر زور کرپشن پر تھا۔شریف خاندان اور زرداری فیملی کے خلاف نیب کے مقدمات اور ان میں کارروائیاں بھی سامنے ہیں،اپوزیشن جب انتقام کی بات کرتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ نیب خود مختار ادارہ اور یہ کیسز تحریک انصاف کے دور میں نہیں بنے،دوسری طرف حد درجہ افتخار سے کہا جاتا ہے کرپٹ عناصر کو حساب دینا ہو گا، وزیراعظم کہتے ہیں،نہیں چھوڑوں گا، یوں سیاسی منظر نامے میں یہی سلسلہ ہے۔

دوسری طرف شریف خاندان اور زرداری فیملی احتساب میں جکڑے چلے جا رہے ہیں، شریف خاندان کا طرزِ عمل ذرا الگ اور زرداری کا مختلف ہے،شریف خاندان کی جواں سال قیادت نے تحرک پیدا کر کے دباؤ بڑھانے کی کوشش کی،لیکن آصف علی زرداری نے جیل میں رہ کر حالات کا مقابلہ کرنے کی پالیسی اختیار کی،اب دونوں ”ٹبروں“ کا معاملہ عدالتوں ہی میں ہے اور چل رہا ہے۔اس کی کوئی مدت متعین نہیں،قانونی لڑائی طویل ہوتی ہے۔اپوزیشن اور حزبِ اقتدار کے درمیان محاذ آرائی ہے، کل جماعتی اتحاد بن چکا اور کل جماعتی کانفرنس بھی ہوئی ہے،دو روز قبل ہونے والی اس کانفرنس میں بلاول بھٹو اور محمد شہباز شریف نہیں تھے،باتیں ہوئیں،اسے چھوڑ جانا تک کہا گیا،لیکن یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ بلاول کہتا کیا ہے اور شہباز شریف کی زبان سے کیا نکلتا ہے،مَیں نے گزشتہ ماہ ہی عرض کیا تھا کہ اے پی سی نے جو حکمت ِ عملی تیار کی وہ دو پہلوؤں کی حامل ہے، پہلا مرحلہ تو یہ ہے کہ تمام جماعتیں مظاہروں، کارکنوں کے اجلاسوں اور عام جلسوں کے ذریعے لوگوں کو متحرک کرنے کی کوشش جاری رکھیں اور دوسرے مرحلے میں کسی لانگ مارچ یا دھرنے کا فیصلہ ہو گا۔ اب مولانا فضل الرحمن نے لاک ڈاؤن کا نام دیا۔

اپوزیشن کے لئے جو مشکل اب آن کھڑی ہوئی وہی حزبِ اقتدار کے لئے بھی ہے کہ مودی نے یکطرفہ اقدام کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کی اور وہاں ظلم کا بازار مزید گرم کر دیا، ہنگامی حالات مزید گہرے ہو گئے،ہر طرف سے اتحاد کا کہا گیا اور سب نے مسئلہ کشمیر پر یکساں موقف اختیار کیا،لیکن یہ ایک پلیٹ فارم سے نہ ہوا اور محاذ آرائی مزید بڑھتی نظر آ رہی ہے، چنانچہ عوام اور دُنیا کی نظر میں یہ سب بھارت کو موقع دینے والی بات ہے، اب سلامتی کونسل کے اجلاس اور ٹرمپ کی ٹرمپیوں کے بعد حالات میں سنگینی اور تبدیلی پیدا ہوئی تو حکومت کی طرف سے اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے کا عندیہ دیا گیا۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے یہ فریضہ انجام دینے کا ارادہ ظاہر کیا اور سپیکر قومی اسمبلی نے ایک پارلیمانی اجلاس بھی منعقد کر ڈالا،تاہم اب تک یہی واضح ہے کہ وزیراعظم اپوزیشن سے ہاتھ ملانے کو تیار نہیں ہیں، اور یہ مشکل مرحلہ ہے کہ اپوزیشن بھی مصر ہے۔بہرحال حالات کا تقاضہ تو اتفاق رائے ہے۔اب شاہ محمود قریشی عقابوں کو کیسے روکتے اور اپوزیشن کو ہاتھ ملانے پر راضی کرتے ہیں،آنے والاوقت بتا دے گا۔

مزید : رائے /کالم


loading...