پنجاب: گڈ گورننس…… ہنوزدور است

پنجاب: گڈ گورننس…… ہنوزدور است
پنجاب: گڈ گورننس…… ہنوزدور است

  


تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے سال کا ذکر تو ہوا، مگر پنجاب میں کپتان کے وسیم اکرم عثمان بزدار کے بارے میں نہ تو کپتان نے کچھ کہا اور نہ ہی اپوزیشن نے توجہ دی۔سب وفاقی حکومت کی کارکردگی یا اپوزیشن کی نگاہ سے نا اہلی کے تذکرے تک محدود رہے۔ اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں …… یا عثمان بزدار کی کارکردگی اس قابل ہی نہیں رہی کہ اس کا ذکر کیا جائے، یا پھر کارکردگی اتنی اچھی ہے کہ اپوزیشن کو بھی تنقید کے لئے کوئی مواد نہیں مل رہا…… عمومی طور پر تاثر یہی ہے کہ پنجاب ہموار چل رہا ہے۔ ہچکولوں کے بغیر اپنی رفتار میں مگن، ہاں یہ ضرور ہے کہ عثمان بزدار ہر روز ایک نہیں، کئی اجلاس بلاتے ہیں، تجاویز مانگتے ہیں اور کچھ نئے کام بھی کر جاتے ہیں۔ پنجاب میں ایسی کوئی ہلچل نظر نہیں آتی، جیسے سندھ میں کھچڑی پکی ہوئی ہے۔

مون سون کا موسم بھی عثمان بزدار کامیابی سے گزار گئے ہیں اور اب سیلاب کا موسم بھی گزر جائے گا۔ ایک سال بعد نہیں لگتا کہ یہ وہی نوجوان وزیراعلیٰ ہیں، جن کے بنائے جانے پر لوگوں نے دانتوں میں انگلیاں دبا لی تھیں کہ اتنا بڑا صوبہ اتنے اناڑی کے حوالے کیسے کر دیا گیا ہے؟ یہاں تو ایک غدر مچ جائے گا اور ”جس کی لاٹھی اس کی بھینس“ کا منظر ہر شعبے میں دکھائی دے گا۔ اس وقت عمران خان کو یہ فائدہ ہوا تھا کہ اپوزیشن اور میڈیا کی توپوں کا رخ ان کی جانب سے ہٹ کر عثمان بزدار کی طرف ہو گیا تھا۔ کپتان اس صورت حال کا مزا لیتے تھے اور عثمان بزدار کی پیٹھ پر تھپکی دے کر کہتے تھے: ”دیکھنا یہ پنجاب کا سب سے بہترین وزیر اعلیٰ ثابت ہو گا“…… اس وقت لوگوں کو ہنسی آتی تھی اور ہر ایک کے ذہن میں ایک ہی سوال مچلتا تھا کہ آخر کپتان نے یہ کھلاڑی ڈھونڈا کیسے اور اس کے پیچھے ہاتھ کس کا ہے؟

اب ایک سال بعد پنجاب تو گویا ناقدین کو بھول ہی گیا ہے اور ساری توپیں عمران خان کی طرف سیدھی ہو چکی ہیں۔ آج تک کسی نے عثمان بزدار کو سلیکٹڈ وزیراعلیٰ نہیں کہا، حالانکہ وہ عمران خان کے سلیکٹڈ ہیں۔ البتہ کپتان کو سلیکٹڈ وزیراعظم کہہ کہہ کر اپوزیشن والوں کے ہونٹ خشک ہو گئے ہیں …… جس طرح ویگن چلنے کے بعد سب اپنی اپنی جگہ تلاش کر کے بیٹھ جاتے ہیں، اسی طرح پنجاب کا حال بھی ہوا ہے۔ جب اقتدار کی ویگن ابھی چلی نہیں تھی تو کیا کچھ نہیں کہا جا رہا تھا۔ اس ویگن کا ڈرائیور کون ہوگا، فرنٹ سیٹ پر کون بیٹھے گا۔ کنڈکٹر کس کے ساتھ ہو گا؟ سوالات ہی سوالات تھے۔ کبھی گورنر پنجاب، کبھی سپیکر پنجاب اسمبلی، کبھی سینئر وزیر اور کبھی وفاقی قوتوں کا نام لیا جاتا تھا کہ وہ پنجاب چلائیں گی، عثمان بزدار کا تو کہیں ذکر ہی نہیں ہوتا تھا، مگر آج سال بعد سب اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے ہیں اور پنجاب عثمان بزدار چلا رہا ہے۔

اس میں عمران خان کا بھی بڑا ہاتھ ہے، انہوں نے بار بار یہ واضح پیغام دیا کہ پنجاب کا کپتان عثمان بزدار ہی ہے، اس کے ساتھ چلنا پڑے گا، سو اب عثمان بزدار کو کوئی چیلنج درپیش نہیں۔وہ کپتان کی بدستور گڈ بکس میں ہیں، کیا یہ ماننا پڑے گا کہ عمران خان نے ایک نو آموز کو پنجاب کا وزیراعلیٰ بنانے کا جو حیران کن فیصلہ کیا تھا،وہ درست ثابت ہوا ہے۔ کیا عمران خان کسی منجھے ہوئے کھلاڑی کو پنجاب کی وزارتِ علیا سونپ کر اتنا سکون محسوس کرتے، جتنا وہ عثمان بزدار کو وزیر اعلیٰ بنا کے مطمئن ہیں،جس طرح یہ مشہور ہو گیا تھا کہ سرفراز دھوکہ نہیں دے گا، اسی طرح عثمان بزدار کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ عمران خان کے دیئے گئے راستے سے ایک انچ بھی اِدھر اُدھر نہیں ہوں گے۔

یہ تو ہے ایک پہلو ……دوسرا پہلو اس سوال پر مبنی ہے کہ کیا عثمان بزدار پنجاب کو ایک اچھی حکومت دے سکے ہیں؟ ٹھیک ہے وہ خود تو مضبوط ہو گئے، پنجاب پر ان کی گرفت بھی نظر آتی ہے، مگر یہ سب کچھ تو کافی نہیں، اصل چیز تو گڈ گورننس ہے جو عوام کو ریلیف دے سکے۔ اس حوالے سے یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ پنجاب میں گڈ گورننس کی صورت حال قابل رشک نہیں، وہی بیورو کریسی کی منہ زوری، وہی پولیس کی بے لگامی اور وہی خلقِ خدا کی بے چارگی، اس میں تبدیلی نظر آنی چاہئے تھی، مگر کہیں نظر نہیں آ رہی۔ آج بھی میرٹ پر تعیناتی نہیں ہو رہی، سفارشی کلچر پنجے گاڑے ہوئے ہے۔ کپتان کی مکمل سپورٹ حاصل ہونے کے باوجود عثمان بزدار ارکانِ اسمبلی کے سامنے بے بس ہو جاتے ہیں۔ حال ہی میں ایک سیاسی شخصیت کے ایماء پر ڈی پی او خانیوال سرفراز خان کا تبادلہ کیا گیا۔ پورا خانیوال اس پر احتجاج کرتا رہا کہ صرف تین ماہ بعد ایک اچھے افسر کو تبدیل کیوں کیا گیا، مگر تبادلہ نہ رک سکا۔

وجہئ تبادلہ یہ بنی کہ ڈی پی او سیاسی شخصیت کی سفارش پر ایک کرپٹ انسپکٹر کو ایس ایچ او لگانے سے انکاری تھے۔ یہ تو ایک حالیہ مثال ہے، نجانے اور کتنی ایسی مثالیں ہو ں گی، جو اندر خانے قائم کی جا رہی ہیں۔ بیورو کریسی بالکل غیر فعال نظر آتی ہے، آئے روز وزیر اعلیٰ کی طرف سے ایک انتباہی بیان جاری ہوتا ہے کہ افسران دفاتر میں نہ بیٹھیں،بلکہ عوام کے مسائل حل کرنے کے لئے فیلڈ میں جائیں۔ مہنگائی کے حوالے سے چھاپے مارنے کا حکم تو روز ہی جاری کیا جاتا ہے، مگر بیورو کریسی ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتی ہے۔ ذخیرہ اندوزوں، بلیک میلروں اور ناجائز منافع کمانے والے مافیا نے عوام کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے، اسے کوئی پوچھنے والا نہیں۔

مجسٹریٹس کاغذی رپورٹیں دے کر کام چلا رہے ہیں، حالانکہ مہنگائی ایک ایسا مسئلہ ہے جس نے تحریک انصاف کی مقبولیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔کچھ تو مہنگائی ہوئی بھی ہے،تاہم زیادہ تر ناجائز منافع خوروں نے ات مچا رکھی ہے،انہیں کسی حکومتی ادارے کا خوف نہیں۔کوئی بتائے کہ مرغی کے گوشت کی قیمت یکدم سو روپیہ کلو کیسے بڑھ جاتی ہے اور چار چھ دن بعد واپس کیسے آ جاتی ہے؟پھل، سبزیاں، دالیں، مرچیں، چینی کے نرخوں میں اچانک اضافہ کون کرتا ہے، اس کا میکنزم کیا ہے؟ پنجاب حکومت کے پاس ایسے تمام اختیارات موجود ہیں، جو بے جا مہنگائی اور ناجائز منافع خوری نیز ذخیرہ اندوزی پر گرفت کرتے ہیں،مگر بیورو کریسی حکومت کا حکم ماننے کو تیار ہو، تب یہ اختیارات استعمال ہو سکیں گے۔

گڈ گورننس میں دوسرا بڑا محکمہ جو رکاوٹ بنا ہوا ہے، وہ پولیس ہے۔ پولیس کو آج بھی سیاسی آلہئ کار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اوپر ڈی پی او خانیوال کی مثال دی گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی ضلع میں پولیس سربراہ کو فری ہینڈ نہیں دیا گیا۔وہ آج بھی روایتی ڈگر پر چل رہا ہے۔ ایم این اے اور ایم پی اے کی سفارش پر ایس ایچ او تعینات کرتا ہے، نہ کرے تو اُس کی منزل سی پی او آفس ہوتی ہے اور وہ بھی کھڈے لائن لگنے کے لئے۔عمران خان نے اپنی انتخابی مہم میں بڑے بلند بانگ دعوے کئے تھے کہ پنجاب پولیس کو سفارشی کلچر سے آزاد کر دیا جائے گا۔ کوئی تقرری یا تبادلہ سیاسی دباؤ پر نہیں ہو گا۔ وہ خیبرپختونخوا کی پولیس کا ذکر بہت کرتے تھے کہ وہاں آئی جی اس معاملے میں مکمل آزاد ہے۔

اس پر کسی قسم کا کوئی سیاسی پریشر نہیں، کیا پنجاب کے آئی جی کو یہ فری ہینڈ دیا گیا ہے؟ کیا پنجاب کے تھانہ کلچر میں سیاسی مداخلت ختم کر دی گئی ہے؟ کیا ضلع کا پولیس سربراہ اپنی مرضی سے ایس ایچ اوز تعینات کرنے میں بااختیار ہو گیا ہے؟……نہیں صاحب کچھ بھی نہیں ہوا۔پنجاب پولیس کے آئی جی اور اُن کے افسران اپنے تئیں مختلف اصلاحات متعارف کرا کے بہتری لانے کی کوشش کر رہے ہیں،لیکن وہ تھانے تک ان اصلاحات کے ثمرات اس لئے نہیں پہنچا سکتے کہ وہاں جو ایس ایچ او بیٹھا ہے، وہ اپنے افسران کی بات کم اور سیاسی سرپرست کی زیادہ مانتا ہے۔ کاش وزیراعلیٰ عثمان بزردار اپنی اس کمزوری پر قابو پا لیں،پولیس اور بیورو کریسی میں سیاسی مداخلت روک دیں اور میرٹ پر تقرریوں کا اختیار چیف سیکرٹری اور آئی جی کو دے کر گڈ گورننس کے نتائج مانگیں۔اگر اس شعبے میں وہ تبدیلی لے آئے تو اس صورت میں کپتان کی یہ بات درست ثابت ہو گی کہ عثمان بزدار صوبے کا بہترین وزیراعلیٰ ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...