اسرائیلی پائلٹ اور انڈین جنرل کی ہلاکت؟

اسرائیلی پائلٹ اور انڈین جنرل کی ہلاکت؟
اسرائیلی پائلٹ اور انڈین جنرل کی ہلاکت؟

  


ان دنوں پاکستان میں ایک ساکن وڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک معروف اسرائیلی اخبار ہارٹز (Haartez) کا صفحہ اول دکھایا گیا ہے (ساکن اور موبائل وڈیو کلپ میں فرق یہ ہے کہ ساکن (Static) کلپ میں صرف ایک تصویر یا تحریر دی ہوتی ہے جبکہ موبائل کلپ میں باقاعدہ متحرک فلم چلتی ہے جس میں ساز اور آواز بھی شامل ہوتی ہے)…… اس اسرائیلی اخبار کے اس صفحے کی شہ سرخی ہے:

Pakistan should return our pilot

]پاکستان ہمارا پائلٹ واپس کرے[

اس کے ساتھ جو تصویر دی گئی ہے اس میں ایک اسرائیلی پائلٹ دکھایا گیا ہے جو کافی لحیم و شحیم ہے، توند نکلی ہوئی ہے اور رخسار پھولے ہوئے ہیں۔ اس کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ وہ کسی لڑاکا جنگی جہاز کا پائلٹ بھی ہو سکتا ہے۔ فائٹر ائر کرافٹ کا کاک پٹ زیادہ کشادہ نہیں ہوتا اور پائلٹ کا جسمانی وزن اور ڈیل ڈول بالعموم ایسا گرانڈیل نہیں ہوتا جیسا کہ اس کلپ میں دکھایا گیا ہے۔اس پائلٹ کی تصویر کی پشت پر ایک اسرائیلی طیارہ پارک ہے جس پر اسرائیلی فضائیہ کا لوگو بنا ہوا ہے۔ صفحہ ء اول کی اس خبر کے ساتھ دو خبریں اور بھی ہیں جن کا تعلق اس Main خبر سے نہیں ہے۔

اگر آپ کو یاد ہو تو 27فروری 2019ء کو میڈیا پر یہ خبر بھی چلائی گئی تھی کہ پاکستان نے دو پائلٹ پکڑے ہیں۔ لیکن شائداز راہِ مصلحت اس وقت (27فروری)یہ خبر عام نہیں کی گئی تھی کہ اس فضائی معرکے میں ونگ کمانڈر ابھی نندن کے علاوہ کوئی دوسرا پائلٹ بھی پکڑا گیا ہے اور نہ ہارٹز کی اس اشاعت کے بعد پاکستان کی طرف سے اب تک کوئی تردید جاری کی گئی ہے۔جب پاک فضائیہ نے انڈیا کا مگ۔21 اور ایس یو۔30 مار گرایا تھا تو مگ کے جلتے ملبے کی جھلکیاں تو آج بھی ٹی وی سکرینوں پر دکھائی جاتی ہیں۔ لیکن ابھی نندن کی گرفتاری کی وڈیو ان ایام میں تو بڑے تواتر سے آن ائر کی جاتی رہی تھی لیکن بعد میں ایسا کرنے سے گریز کیا گیا۔ اس گریز کی وجوہات کیا تھیں (اور ہیں) ان پر قیاس کے گھوڑے دوڑائے جا سکتے ہیں۔جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ان سیال (Fluid) ایام میں کئی ٹی وی چینلوں پر دو انڈین پائلٹوں کی گرفتاری کی ضرور خبر چلی تھی جو بعدازاں رک گئی یا ”روک دی گئی“۔

جہاں تک یہود و ہنود کی فوجی ملی بھگت کا تعلق ہے تو اس سے پاکستان کا ہر شہری واقف ہے۔اسرائیلی فضائیہ اور بھارتی فضائیہ کے مابین شروع ہی سے عسکری ایکتا پائی جاتی ہے۔ اس میں کوئی دو رائیں نہیں ہیں۔ اسرائیل بھارت کو ہر طرح کی عسکری امداد فراہم کرتا ہے اور خاص طور پر اسرائیلی طیارہ شکن میزائلوں کی ایک بڑی تعداد ہر انڈین ائر بیس میں ہمہ وقت موجود رہتی ہے۔ انڈیا کے فضا سے زمین اور زمین سے فضا تک مار کرنے والے اکثر میزائل، اسرائیلی نژاد ہیں اور ان کی ایک بڑی کھیپ اسرائیلی ماہرین کی نگرانی میں بھارت کی اسلحہ ساز فیکٹریوں میں تیار کی جا رہی ہے۔ اسرائیلی پائلٹ اور گراؤنڈ کریو بھی (ماقبل انڈو پاک وار 1965ء) بھارتی فضائیہ کی ٹریننگ میں شریک رہے ہیں۔ اندریں حالات اس میں کچھ عجب نہیں کہ 27فروری 2019ء کی بھارتی جارحیت میں اسرائیلی پائلٹ بھی شامل ہوں۔ یہ بات کچھ اس لئے بھی انہونی نہیں کہ عرب اسرائیل جنگوں میں پاکستانی پائلٹ (اور گراؤنڈ کریو) اسرائیل کے خلاف آپریشنوں میں حصہ لیتے رہے ہیں اور اس شراکت کے دستاویزی اور تصویری ثبوت موجود ہیں۔ اور یہی کام اسرائیلی پائلٹ وغیرہ بھی پاکستان کے خلاف کرتے رہے ہیں۔1999ء کی کارگل جنگ میں بھی اسرائیلی فضائیہ کی ٹیکنیکل، لاجسٹک اور آپریشنل سپورٹ نے انڈین ائر فورس کے ”آپریشن سفید ساگر“ میں حصہ لے کر اس جنگ کا پانسہ بھارت کے حق میں پلٹ دیا تھا!

اب سوال یہ ہے کہ یا تو یہ ساکن وڈیو جو اسرائیلی اخبار کی شکل میں وائرل کی گئی ہے جعلی ہے یا ڈاکٹرڈ ہے اور اس کے پیچھے اسرائیل کے وہ عزائم ہیں جن سے ہر پاکستانی واقف ہے۔ دوسری طرف پاکستان نے یا تو جان بوجھ کر خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور اسرائیلی پائلٹ واقعی ہی اس کی تحویل میں ہے اور اسے اس وقت کا انتظار ہے جب بارٹر ڈیل کا کوئی ”سنہری موقع“ یا مواقع پیدا ہو جائیں۔ آخر اسامہ بن لادن کو بھی تو ہم نے کئی برس تک ”سنبھال“ کر رکھا ہوا تھا۔اس یہودی پائلٹ کو ”سنبھالنے“ کی اہلیت بھی ہماری انٹیلی جنس کے پاس ضرور ہو گی۔ موساد اور آئی ایس آئی کی پروفیشنل باہمی رقابت افسانہ نہیں ایک حقیقت ہے۔ تاہم مجھے اس افسانے کے بے بنیاد ہونے کا گمان اس لئے بھی گزرتا ہے کہ اسرائیل نے ابھی تک اپنے گرفتار پائلٹ کے کوائف کا کوئی سراغ نہیں دیا۔ اسرائیلی پائلٹ کا نام، نمبر اور رینک ابھی تک کسی بھی میڈیا آؤٹ لیٹ پر نہیں آیا۔اور اس افسانے کے بے سروپا ہونے کا دوسرا سبب یہ ہے کہ اس باب میں امریکہ ابھی تک کیوں خاموش ہے؟ یا تو اس کی خاموشی معنی خیز ہے یا اسرائیل نے امریکہ کو بھی ابھی تک اپنے پائلٹ کی فائل نہیں دی۔اگر اسرائیل کا یہ اخبار (Haartez) کوئی نئی گیم نہیں کھیل رہا تو تصویر کے ساتھ پائلٹ کا نام وغیرہ بھی آنا چاہیے تھا۔میرا خیال ہے اسرائیل نے اب تک بیک ڈور ڈپلومیسی آزمائی ہو گی،امریکہ کو بھی ضرور مطلع کیا ہو گا لیکن شائد ابھی تک کوئی برف نہیں پگھلی۔

اس معاملے کا ایک تیسرا پہلو سوشل میڈیا کی بوقلمونی ہے۔ آج کے میڈیا کا یہ پہلو عالمی شعبہ ء ابلاغیات کا سب سے پاور فل آرگن ہے۔ اس ذیل میں انگریزی زبان کی جدید لغت میں کئی الفاظ کا اضافہ ہو چکا ہے۔ مثلاً وائرل، ای میڈیا، واٹس آپ، فیس بک، یوٹیوب، انسٹا گرام، ٹویٹر، اَپ لوڈ، ڈاؤن لوڈ، وائی فائی اور نجانے کیا کیا الابلا اور بھی ہے جس کو ایک اوسط سوجھ بوجھ کا پاکستانی سمجھنے اور جاننے سے قاصر ہے۔ بین الاقوامی ابلاغی میدان میں اس تیزی، تواتر اور کثرت سے نئے نئے صحیفے ’آسمان‘ سے اتر رہے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔ آج مواصلاتی سیاروں کے کئی جھرمٹ، آسمانوں پر پائے جاتے ہیں جن کو انسان اپنی ننگی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا لیکن جو کچھ دیکھ، سن اور جان سکتا ہے وہ تو حقیقت ہے۔ آخر خدا بھی تو کسی نے نہیں دیکھا! لیکن خدا کی ہستی کا انکار(نعوذ باللہ) اسفل ترین کفر ہے۔

بہت تھوڑے عرصے میں انسان نے اس ابلاغی علم و فن کو اپنے فائدے (یا نقصان) میں استعمال کرنا سیکھ لیا ہے۔ آج بالکل اَن پڑھ انسان بھی موبائل فون کے استعمال پر قادر ہے۔ وہ حروفِ ابجد والا علم تو نہیں جانتا لیکن اس کے قلب و نظر کی امکانی قوتیں تو اس خدائے بزرگ و برتر کی دین ہیں جس نے بڑے بڑے ان پڑھ فلاسفر اور دانشور پیدا کئے۔ چند نسلیں پیچھے چلے جائیں تو انسانی آبادیاں زیادہ لکھی پڑھی نہیں ہوتی تھیں لیکن مطلق جاہل بھی نہ تھیں۔ آج سوشل میڈیا پر جو آڈیو، ویڈیو کلپس (Clips) وائرل کئے جاتے ہیں ان کی کماحقہ تفہیم کے لئے ضروری نہیں کہ ہر صاحبِ سمارٹ فون، پڑھا لکھا بھی ہو۔

مجھے یہ کالم لکھنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ گزشتہ کئی روز سے بہت سے قارئین کے فون آ رہے تھے کہ اس وڈیو کلپ کے اصلی یا جعلی ہونے پر ”طبع آزمائی“ کریں۔ اس موضوع پر قارئین کا استفسار کرنا اور اس کی حقیقت تک پہنچنا یا پہنچنے کی کوشش کرنا پاکستانی عوام کی عمومی فکری بیداری کا غماز ہے۔ اکثر لوگوں نے تو یہ بھی پوچھا کہ اگر ہمارے پاس واقعی کوئی اسرائیلی پائلٹ ہے تو اس خبر کو صیغہء راز میں رکھنے کا فائدہ کیا ہے؟ ہم نے اگر کلبھوشن کو پکڑ کر بھارت کو اقوامِ عالم کی برادری میں رسوا کر دیا ہے تو کیا اس اسرائیلی پائلٹ کی گرفتاری کی خبر کو بلو اپ کرکے دنیا پر یہ واضح نہیں کر سکتے کہ جس ”یہود و ہنوز گٹھ جوڑ“ کا ڈھنڈورہ پاکستان کئی عشروں سے پیٹتا چلا آتا ہے، وہ آج سچ ثابت ہو رہا ہے؟ اگر یہ پائلٹ ہماری تحویل میں ہے تو اس کو منظرِ عام پر لانا چاہیے،اور اس سے تفتیش کے دوران جو بہت سے راز ہائے سربستہ معلوم ہوئے ان کی تفصیل دنیا کو بتانی چاہیے۔ اگر اسرائیل کھلے بندوں یہ کہہ رہا ہے کہ ”پاکستان ہمارا پائلٹ رہا کرے“…… تو آئی ایس پی آر کی طرف سے اس کا انکار یا اقرار تو ہونا چاہیے۔

قارئین کا یہ استدلال بجا ہو گا اور ان کی بے تابی بھی بجا ہو گی لیکن یا تو آئی ایس پی آر اس طرح کے بے سروپا افسانوں کا نوٹس لینا تضیعِ اوقات گردانتا ہے یا خواہ مخواہ ایک فضول بحث میں الجھ کر دشمن کو یہ باور کروانا چاہتا ہے کہ پاکستانی فوج اس قسم کی ڈاکٹرڈ خبروں میں الجھ کر رائے عامہ کو گمراہی کے راستے پر لے جانا نہیں چاہتی……

اسی طرح کی ایک اور ساکن وڈیو کلپ دو ہفتوں سے سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ اس کا لب لباب یہ ہے کہ انڈین آرمی کے ایک انفنٹری ڈویژن (19ڈویژن) کا GOC (جنرل آفیسر کمانڈنگ) اور اس کا ADC ہمارے توپخانے کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس جنرل کا نام میجر جنرل روات ہے(اس کی تصویر بھی کلپ میں موجود ہے) اور یہ 19ڈویژن 15انڈین کور کا حصہ ہے۔یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ اس آفیسر نے 7ڈوگرہ بٹالین کمانڈ کی تھی اور بعد ازاں 161بریگیڈ بھی کمانڈ کیا۔ ایک اور قاری نے ٹویٹ کیا کہ انڈین وزیر دفاع راج ناتھ کا وہ بیان کہ جس میں انہوں نے اپنے جوہری ڈاکٹرین (فرسٹ یوز) میں تبدیلی کا ذکر کیا تھا، وہ اسی جنرل روات کی ہلاکت کے بعد آیا!…… واللہ اعلم!!

مزید : رائے /کالم


loading...