آل پارٹیز کانفرنس کے دوران آرمی چیف کی توسیع کی اطلاع

آل پارٹیز کانفرنس کے دوران آرمی چیف کی توسیع کی اطلاع
 آل پارٹیز کانفرنس کے دوران آرمی چیف کی توسیع کی اطلاع

  


ایک عرصہ ہوا کالم لکھے، آج قلم اٹھایا تو ایک جھجھک سی محسوس ہوئی، یہ نہیں کہ کوئی قدغن تھی یا لکھنا بھول گیا تھا، بس ایک ذمہ داری محسوس کرتا رہا ہوں، باتوں کو راز رکھنے کی۔ اپوزیشن کے اندرون و بیرون کی کئی خبروں اور سرگرمیوں کا چشم دید گواہ ہوں، بہت کچھ دیکھا بھی، پرکھا بھی، بلکہ خود ایک حصہ رہا ہوں۔

حالیہ دنوں کی سیاست اور سیاسی ماحول میں کئی اہم فیصلوں اور معاملات کے پس منظر اور پیش منظر سے بخوبی آگاہ ہوں، صحافتی اضطراب کا تقاضا تھا کہ تہلکہ خیز رپورٹنگ کروں، مگر ”رازداری“ کی ”ذمہ داری“ نے ہاتھ باندھے رکھے اور زبان پر تالا لگائے رکھا۔ شاید اندرون خانہ کی یہ سرگرمیاں اپنے حقائق کے ساتھ کبھی طشت ازبام ہو ہی جائیں، فی الحال تو ان سے متعلق خبریں رپورٹیں اور تحاریر جو سامنے آتی ہیں وہ زیادہ تر قیاس آرائیوں اور من گھڑت تجزیوں و تبصروں پر مشتمل ہوتی ہیں، بعض اوقات تو خلاف واقعہ، رپورٹنگ کو دیکھ کر حیرانی سے زیادہ ہنسی کو راہ دیتے ہیں۔

آج جو قلم تھاما ہے تو ایک مشاہدہ رقم کرنے کی خاطر تقاضا ہے اگرچہ یہ بھی اپوزیشن کی ”آل پارٹیز کانفرنس“ ہی کے حوالے سے ہے۔ مگر اس میں کوئی معاملہ ”رازداری“ سے تعلق نہیں رکھتا، یہ ایک صحافتی تجزیہ ہی ہے اور کچھ نہیں۔ مگر یہ تجزیہ ایک بہت بڑی خبر یا ملکی و قومی پیش رفت کے حوالے سے نہایت اہمیت کے حامل معاملہ کے بارے میں ہے اور وہ ہے۔ ”چیف آف آرمی سٹاف جناب جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں کی جانے والی توسیع“۔

جناب جنرل قمر جاوید باجوہ ایک دبنگ چیف ہیں جو اپنی ملاحت آمیز شخصیت اور مسکراتے چہرے کے اچھے تاثر کے ساتھ ایک تاریخی کردار ادا کر چکے ہیں اور ہنوز ادا کر رہے ہیں۔ ہمارے ہاں کے آرمی چیف اپنی اپنی الگ پہچان اور الگ الگ تاریخ رکھتے ہیں۔ جناب جنرل قمر جاوید باجوہ کے دور میں ہماری قومی و ملکی تاریخ کے کئی باب رقم ہوئے اور کئی رقم ہو رہے ہیں۔

ان کی قیادت میں فوج نے کیا کیا معرکے سر کئے اور کیا کیا قومی و ملکی خدمات سرانجام دیں۔ ان پر میں کماحقہ کچھ لکھنے، کچھ کہنے اور کسی بھی تبصرہ کی چنداں حیثیت نہیں رکھتا، نہ ہی اس بارے میری کوئی معلومات ہیں اور نہ ہی اس وقت وہ زیر بحث ہے۔ وہ گھمبیر حالات میں جس طرح پاک فوج کی قوت و صلاحیت کا مان بڑھا رہے ہیں وہ انہی کا حصہ ہے۔ بھلا نازک اور حساس حالات میں ملک و قوم کے وقار، تحفظ اور استحکام کے لئے کارہائے نمایاں سرانجام دینے سے بڑھ کر کوئی معرکہ کیا ہوگا!

چیف آف آرمی اسٹاف جناب جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ نہایت اہمیت کا حامل ہے، اندرون ملک و بیرون ملک اس حوالے سے خاصی چہ می گوئیاں زوروں پر رہی ہیں اور اس حوالے سے گرما گرم تجزیئے و تبصرے ہوتے رہے ہیں۔ اپنے پرائے، ہر ایک کی اس پر نظر تھی کہ ”توسیع ہوگی یا نہیں!“ اور اگر نہیں ہوتی تو ملکی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، کیا تبدیلیاں ہوں گی؟ اور اگر توسیع ہو جاتی ہے تو کیا کیا معاملات کہاں تک پہنچیں گے؟ کیا کیا کمیاں دور کرنے کی کوشش کی جائے گی اور کیا کیا ادھورے معاملات کس حد تک پورے ہوں گے؟ ……

بین الاقوامی نگاہیں تو جو سوچتی اور کرتی ہوں گی سو ہوں گی، اندرون ملک سیاسی حالات کا زیادہ تر دارومدار پاک فوج ہی کے گرد گھومتا دکھائی دیتا ہے۔ اس لئے یہاں بہت اضطراب پایا جاتا تھا۔ بالخصوص اپوزیشن اور حکومت مخالف حلقوں میں تو پاک فوج اور آرمی چیف کے حوالے سے جو خیالات و تاثرات پائے جاتے ہیں وہ ڈھکے چھپے نہیں، یہ ذہن عام ہے کہ موجودہ حکومت اور حکومتی پارٹی بغیر آشیرباد کے کچھ بھی نہیں۔ کوئی بات کرے یا نہ کرے اور اگر ملفوف الفاظ میں بھی کچھ کہے تو بھی اسی طرف اشارہ کرتا دکھائی دیتا ہے۔

اس لحاظ سے بھی آرمی چیف کا ریٹائر ہونا یا توسیع حاصل کرلینا نہایت اہمیت کا حامل معاملہ رہا ہے۔ مگر حیران کن مرحلہ تھا کہ 19اگست کو جب اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس ہو رہی تھی اور حکومت کے خلاف گرما گرم بحث جاری تھی، مسئلہ کشمیر خراب کرنے کی ذمہ داری حکومت پر ڈالی جارہی تھی، دھاندلی نااہلی اور مہنگائی کے الزامات کے ساتھ، حکومت کے خاتمے کی خاطر اسلام آباد کے گھیراؤ کے فیصلے پر غور وخوض جاری تھا کہ اسی دوران میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی خبر آگئی …… اس اہم ترین خبر پر اپوزیشن لیڈروں کا ردعمل بذات خود ایک اہم ترین خبر ہے جس پر کسی کی نظر نہیں گئی۔

19اگست کی آل پارٹیز کانفرنس سے پہلے ”رہبر کمیٹی“ کے کئی اجلاس ہو چکے تھے، بالخصوص سینیٹ میں چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کے حوالے سے 11جولائی کے ایک اجلاس میں ایک اور حوالے سے آرمی چیف کی توسیع کا ذکر چلا تو شاہد خاقان عباسی نے چیف کی تعریف کرتے ہوئے بڑے وثوق سے کہا تھا ”میں جنرل قمر جاوید باجوہ کو اچھی طرح جانتا ہوں، وہ حقیقتاً ایک پیشہ ور فوجی ہیں وہ فوج کے وقار اور استحکام کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھا سکتے، میں نہیں سمجھتا کہ وہ کوئی ایسا فیصلہ کریں گے جس سے فوج کی آن پر حرف آئے“۔

19اگست آل پارٹیز کانفرنس، پوری محویت سے جاری تھی کہ میاں افتخار حسین نے اپنا موبائل فون اٹھایا اور اسکرین کی طرف دیکھنے کے بعد مسکراتے ہوئے کہا: ”آرمی چیف کو توسیع دے دی گئی ہے“۔احسن اقبال نے اپنے فون کو دیکھتے ہوئے، انگلیوں کے اشارے سے کہا 3سال کی توسیع، احسن اقبال کے چہرے پر بھی مسکراہٹ تھی، ہم نے بھی اپنے سیٹ اٹھائے، یہ خبر واٹس اپ گروپوں میں آگئی تھی۔

اس خبر کے اتنا سا سنانے اور سننے کے بعد آل پارٹیز کانفرنس میں اس پر کوئی تبصرہ، کوئی ردعمل سننے اور دیکھنے کو نہیں ملا …… نہ ہی کوئی گھمبیرتا یا فکر مندی کے آثار کسی کے چہرے پر دکھائی دیئے۔ اجلاس اپنے ایجنڈے کے مطابق جاری رہا، اپنے فیصلے کئے اور پریس کانفرنس کے لئے باہر لان میں آگئے۔

لان میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کا ایک ہجوم تھا، ان میں سے اکثر اس ٹوہ میں تھے کہ اجلاس میں آرمی چیف کی توسیع پر کیا ردعمل ہوا؟ مولانا فضل الرحمن تمام اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ تشریف فرما ہوئے، کشمیر کے حوالے سے اپنا سخت موقف دیا، حکومت کو ”کشمیر فروش“ تک کہہ دیا، اسلام آباد گھیراؤ کا ذکر کیا۔

مگر ان سے پہلا سوال ہی آرمی چیف کی توسیع کے بارے میں کیا گیا اور انہوں نے کمال بے نیازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس سوال کے جواب میں عام سے لہجے اور عام سے انداز میں فرمایا۔ ”یہ کوئی ایسا معاملہ نہیں جس پر تبصرہ کیا جائے، محکموں میں ایسے معاملات چلتے رہتے ہیں، ہم اس پر کوئی سیاست نہیں کرنا چاہئے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ فوج سیاست میں نہ آئے تو ہم پاک فوج کو سیاست میں کھینچنے کے بھی حق میں نہیں“ اتنا سا جواب دے کر وہ پھر اپنی باتیں کرنے اور صحافیوں کے ساتھ گھل مل کر باتیں کرنے لگے۔

میں ایک صحافی ہونے کی حیثیت میں، اپوزیشن رہنماؤں کے اس اہم تر معاملہ پر اس طرح کے رویئے پر حیران ہوں کہ وہ لوگ جو ملکی سیاست اور حکومت و حکومتی پارٹی پر، کئی پہلوؤں سے طنز کرتے اور ”خلائی مخلوق“ وغیرہ کے اشاروں اور کنایوں سے کھل کر باتیں کرتے ہیں وہ اہم ترین توسیع پر نہ صرف کوئی ردعمل اور تبصرہ نہیں کرتے بلکہ اس پر کچھ کہنے اور کہلوانے سے بھی روکتے ہیں، کیوں، بھلا کیوں؟

رانا شفیق پسروری

مزید : رائے /کالم


loading...