کشمیری نوجوان برہان وانی کی شہادت کو 2 سال مکمل لیکن دراصل کس نے اس مجاہد کی جاسوسی کی اور بدلے میں کتنی رقم حاصل کی؟ سینئر صحافی نے تہلکہ خیز انکشاف کردیا

کشمیری نوجوان برہان وانی کی شہادت کو 2 سال مکمل لیکن دراصل کس نے اس مجاہد کی ...
کشمیری نوجوان برہان وانی کی شہادت کو 2 سال مکمل لیکن دراصل کس نے اس مجاہد کی جاسوسی کی اور بدلے میں کتنی رقم حاصل کی؟ سینئر صحافی نے تہلکہ خیز انکشاف کردیا

  


سری نگر، اسلام آباد (ویب ٰڈیسک) کشمیری مجاہد برہان وانی کی شہادت کو دو سال بیت گئے ہیں اور اب ان کی شہادت اور جاسوسی کی داستان صحافی وکالم نویس محمد عرفان صدیقی سامنے لے آئے ہیں۔ 

روزنامہ جنگ میں انہوں نے لکھا کہ ’’ سات جولائی، دو ہزار سولہ کی رات تھی، مقبوضہ کشمیر کے ضلع اننت ناگ(اسلام آباد) کے علاقے کوکرناگ کے گائوں بمدورا رات کی تاریکی میں پوری طرح ڈوبا ہوا تھا۔ کسی کو خبر نہ تھی کہ اس گائوں میں کچھ دیر بعد مقبوضہ کشمیر کی جدوجہدِ آزادی میں مصروف اکیس سالہ نوجوان ہیرو برہان وانی یہاں پہنچنے والا ہے، برہان وانی کو بھی معلوم نہ تھا کہ اسے بمدورا کے اس گائوں تک اس کی شہادت کھینچ لائی ہے، بمدورا نامی اس گائوں میں برہان وانی کے قریبی ساتھی سرتاج احمد شیخ کے ماموں کی رہائش گاہ تھی اور برہان وانی کو اپنے ساتھی سرتاج احمد شیخ پر مکمل بھروسہ تھا اور سرتاج احمد شیخ کو اپنے ماموں اور ان کے اہل خانہ پر مکمل بھروسہ تھا لیکن اس رات نہ صرف سرتاج احمد شیخ کے ساتھ دھوکا ہونے والا تھا بلکہ برہان وانی بھی اس دھوکے کی زد میں آنے والا تھا۔ برہان وانی پر بھارتی فوج نے دس لاکھ روپے کا انعام رکھا تھا اور یہ دس لاکھ روپے سرتاج احمد شیخ کے ماموں اور ان کے اہل خانہ کے لئے بہت بڑی رقم تھی اور اسی رقم کے لئے کشمیر کی آزادی کی جدو جہد کے عظیم سپوتوں کو بھارتی فوج کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔

رات کے آخری پہر جب سرتاج احمد شیخ برہان وانی کے ہمراہ اپنے ماموں کی رہائش گاہ پہنچا تو پہلے کئی فٹ دور سے اس نے ماموں کے گھر کی کھڑکی پر چھوٹے سے پتھر کے ذریعے اپنی آمد کی اطلاع دی، جس کے بعد اس کی کزن امل نے دروازہ کھولتے ہوئے سب ٹھیک ہونے کا سگنل دیا جس کے بعد سرتاج احمد شیخ اور برہان وانی گھر میں داخل ہو گئے، امل کشمیر کے مقبول ترین نوجوان یعنی برہان وانی سے مل کر بہت خوش تھی، آزادیٔ کشمیر کی باتیں، برہان وانی کی جدوجہد کی داستانیں اور اپنے ہیرو کے ساتھ وقت گزارنے پر امل بہت خوش نظر آرہی تھی؛ تاہم گھر میں کچھ پُراسرار سی خاموشی بھی تھی، جسے برہان وانی اور اس کے دوست سرتاج احمد شیخ نے بھی محسوس کیا لیکن رشتہ داری کی ایسی قربت تھی کہ سوال بھی نہ کر سکا۔ رات کا کھانا کھایا گیا پھر برہان وانی اور سرتاج احمد شیخ کو ایک الگ کمرے میں سلا دیا گیا، ابھی چند ہی گھنٹے گزرے تھے کہ گائوں میں فوجی گاڑیوں، ٹرکوں حتیٰ کہ ہیلی کاپٹروں کی آوازوں نے سوتے ہوئے لوگوں کو جگا دیا، برہان وانی اور سرتاج شیخ بھی کمرے سے باہر آگئے تھے۔ وہ اب بھی اپنے ساتھ ہونے والے دھوکے پر یقین نہیں کر پا رہے تھے اور سرتاج شیخ کے ماموں اور ممانی ان سے آنکھیں نہیں ملا پارہے تھے جبکہ چھوٹی امل اب تک حالات اور حقیقت سمجھنے سے قاصر تھی۔ اس سے پہلے کہ سوال جواب ہوتے بہت بڑی تعداد میں بھارتی فوجی ان کے گھر کے باہر جمع ہو چکے تھے۔

لائوڈ اسپیکر پر برہان وانی اور سرتاج شیخ کو ہتھیار ڈالنے کا حکم دیا جا رہا تھا، زندگی اور شہادت کے بیچ میں اب صرف چند لمحوں کا فاصلہ باقی تھا، اب لائوڈ  سپیکر سے سرتاج شیخ کے ماموں کا نام لیکر گھر سے باہر آنے کا کہا جارہا تھا، ساتھ ہی ان کی اہلیہ اور بیٹی امل کو بھی نام لے کر پکارا جارہا تھا، سرتاج شیخ کے ماموں اور ان کے اہل خانہ باہر جانے کے لئے اجازت بھری نظروں سے برہان وانی کی جانب دیکھ رہے تھے اور پھر کشمیری قوم کے ہیرو نے دس لاکھ کے لئے اسے بھارتی فوج کے ہاتھوں بیچنے والے غدار کو باہر جانے کی اجازت دے دی، باوجود اس کے کہ سرتاج شیخ اپنے ماموں کو اپنے ہاتھوں اس غداری کی سزا دینا چاہتا تھا لیکن برہان وانی نے سرتاج شیخ کو روکتے ہوئے انھیں باہر جانے کی اجازت دے دی۔ باہر سے صرف اتنا ہی سنائی دیا کہ انہیں زندہ گرفتار کیجئے گا اور اس کے جواب میں ایک زناٹے دار تھپڑ بھارتی فوجی کی جانب سے سرتاج شیخ کے ماموں کو رسید کیا گیا اور پھر اس گھر پر چاروں طرف سے فائرنگ شروع ہوگئی، برہان وانی اور سرتاج شیخ نے بھی جوابی فائرنگ کی لیکن اب گھر کے اندر بم پھینکے جانے لگے اور پھر بم اور فائرنگ کی شدت کے دوران برہان وانی اور سرتاج شیخ نے شہادت کا درجہ حاصل کر لیا۔ ایک بار پھر دھوکہ اور لالچ جیت گئی لیکن وہ مر کر بھی امر ہوگئے اور ان کو دھوکہ دینے والے رشتہ دار زندہ رہ کر بھی نشان عبرت بن چکے ہیں۔

آج برہان وانی کو شہید ہوئے دو سال سے زائد گزر چکے ہیں لیکن بمدورا میں سرتاج شیخ شہید کے ماموں کے گھر کے باہر ہر روز لوگ جمع ہوتے ہیں اور انہیں کشمیر کا غدار قرار دیتے ہیں جبکہ برہانی وانی کی برسی کے دن یہ تعداد ہزاروں تک پہنچ جاتی ہے۔ ایک بین الاقوامی میڈیا ادارے سے گفتگو میں اس خاندان کا کہنا تھا کہ ہماری زندگی موت سے بدتر ہو چکی ہے لیکن ہم سے موت بھی ناراض لگتی ہے، ہمیں روز ہی غدار، لالچی اور بے ایمان جیسے القاب سے نوازا جاتا ہے، بس زندگی کی گاڑی گزر رہی ہے۔ آہ! برہان وانی جسے صرف دس لاکھ کی لالچ میں شہید کروا دیا گیا، کشمیر کی جنگ آزادی کو ایک نئی تازگی دینے والا ہیرو برہان وانی جس نے کشمیر کے جوانوں میں ایک نیا عزم، ایک نیا جذبہ اور آزادی کی ایک نئی امنگ پیدا کی شہید ہوکر أمر ہو چکا ہے، جب تک کشمیر اس خطے پر رہے گا، برہان وانی کا نام بطور کشمیری ہیرو باقی رہے گا‘‘۔

مزید : بین الاقوامی


loading...