مسئلہ کشمیر اور جنرل باجوہ کا تسلسل

مسئلہ کشمیر اور جنرل باجوہ کا تسلسل
مسئلہ کشمیر اور جنرل باجوہ کا تسلسل

  


کچھ لوگ آرمی چیف کو تین سال کی توسیع دینے پر چیں بہ چیں ہیں،مگر موجودہ حالات میں ایک ایسے آرمی چیف کی موجودگی ضروری تھی جو اس حوالے سے ہر قسم کی معلومات تفصیل سے جانتا ہو،جنرل قمر جاوید باجوہ بھارت سے تنازعات کے ہر مد و جزر سے آگاہ ہیں ان حالات میں نئے آرمی چیف کی تقرری کا مطلب مسئلہ کا نئے سرے سے جائزہ لینا تھا ممکن ہے نئے آرمی چیف اپنے حساب سے سٹریجی میں بھی تبدیلیاں کرتے جو موجودہ حالات کے تناظر میں سود مند نہ ہوتیں،جنگی حکمت عملی کا تقاضا ہے کہ جو جہاں ہے جیسے ہے اسے اسی انداز سے آگے بڑھایا جائے۔

دوسری طرف پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو عالمی عدالت میں لے جانے کا اعلان کر دیا ہے، کشمیر میں تیزی سے تبدیل ہوتی صورتحال کسی انہونی کا پتہ دے رہی ہے،تاریخ کے صفحات الٹ پلٹ کر دیکھ لیں جب بھی کسی قوم کی شامت اعمال آتی ہے اس کی قیادت کو انتقام کی آگ میں جھلسانے کا فطری عمل شروع ہو جاتا ہے اور آخر کار ایسی قیادت اپنی نفرت اور انتقام کی آگ میں جھلس کر خود ہی خاکستر ہو جاتی ہے۔بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی اور انتہاپسند ہندو جنونی بھی آج قدرت کے اسی چکر میں مبتلاء ہیں،انجام دیوار پر جلی حروف میں لکھا ہے ،’’کشمیریو تمہاری آزمائش کے دن ختم،کشمیریو اب تم اپنی دھرتی پر اپنی مرضی کی زندگی جینے کے حقدار قرار دئیے جا چکے ہو،تمہاری قربانیاں اللہ رب العزت کی بارگاہ میں قبولیت کا درجہ حاصل کر چکی ہیں‘‘مگر انتقام اور نفرت کی آگ میں اندھے مودی کو یہ سب کچھ دکھائی نہیں دے رہا ۔

کشمیری بھی انسان ہیں ،ان کے جسم میں بھی لہو دوڑتا ہے،دل میں ارمان ہیں،آنکھیں خواب بنتی ہیں،ممکن نہیں کہ ایک قوم مجموعی طور پر ایک خواب 70سال سے دیکھ رہی ہو اور قدرت اس خواب کو تعبیر نہ دے۔ اب قدرت کے انتقام کا مرحلہ شروع ہونے کو ہے شائد شروع ہو چکا ہو اور کسی کو محسوس نہ ہو رہا ہو،مگر یہ طے ہے کہ مودی اور اس کے جنونی ساتھی قدرت کے انتقام کی زد میں آنے والے ہیں۔

عمران خان کا وزیر اعظم بننا بھی قدرت کے اسی منصوبہ کا حصہ ہے،ناقدین کو تنقید کا حق ہے مگر عمران خان پہلے وزیر اعظم ہیں جنہوں نے اس حوالے سے وقت کی ضرورت کے مطابق موقف اختیار کیا اور اپنی توانائی بھارتی شدت پسندوں کے الزامات اور بیانات کا جواب دینے کی بجائے عالمی برادری کو اس حوالے سے احساس دلایا کہ اگر اب بھی کشمیریوں کی داد رسی نہ کی گئی تو ہم بھی وقت اور قدرت کے انتقام سے محفوظ نہیں رہیں گے۔سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی واضح اور کلئیر کٹ موقف اپنایا اور بھارتی قیادت پر واضح کر دیا کہ تم جنگ چاہتے ہو تو ہم بھی تیار ہیں مگر کشمیریوں کو آپ کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے،پاکستانی قیادت کے پہلی بار لگی لپٹی رکھے بغیر موقفٖ نے بھارت کو شملہ معاہدے کے تحت کشمیر پر بات کر نے کی پیشکش کرنے پر مجبور کر دیا جبکہ پہلے بھارت اس معاہدے کو بھی

اہمیت نہیں دیتا تھا،بھارتی پیشکش سے لگتا ہے ، بھٹو نے بھارتی خواہش کے مطابق یہ معاہدہ کیا ہو گا ورنہ بھارت کبھی اس پر بات کرنے پر راضی نہ ہوتا،اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش نے بھارت کو پہلی مرتبہ جارحانہ کے بجائے دفاعی پوزیشن پر آنے کو مجبور کیا ہے،پانچ عشروں کے بعد سلامتی کونسل کا کشمیر کے مسئلہ پر اجلاس بھی بہت بڑی پیش رفت ہے اگرچہ اس حوالے سے فوری اقدامات کی امید کم ہے مگر یہ بھی بڑی بات ہے کہ عالمی طاقتوں کو مسئلہ کشمیر کی سنگینی کا احساس تو ہوا۔

کشمیر سمیت تمام ملکی اور عالمی ایشوز پر اس وقت ملک کے تمام ادارے ایک پیج پر ہیں

موجودہ حکومت کی کشمیر دوست پالیسیوں کا ایک نتیجہ خیر یہ بھی ہے کہ بھارت نواز کشمیری،کانگریس اور بی جے پی کے اتحادی بھی اب حریت پسندوں کے حامی ہو رہے ہیں،بھارتی مظالم کی نہ صرف مذمت کر رہے ہیں بلکہ کشمیریوں کی نسل کشی پر مودی کو تنقید کا نشانہ بھی بنا رہے ہیں ،یہ عمران خان کی کشمیر کے حوالے سے بڑی کامیابی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تمام کشمیری اب یک زبان ہو کر آزادی کا نعرہ بلند کر رہے ہیں،دنیا بھارتی مظالم پر بھارت کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے ،پاکستا ن کی سیاسی اور عسکری قیادت آزادی کشمیر پر متفق اور اس حوالے سے اقدامات جاری رکھنے پر یکسو ہے اسی رفتار سے اگر پاکستان حکومت چلتی رہی تو کشمیریوں کو ان کے دیرینہ آزادی کے خواب کی تعبیر ملے گی،اب آزادی کی منزل دور نہیں،بس ضرورت ہے کشمیری اور پاکستانی اپنی کوششوں کو جاری رکھیں اور بھارت کو اس کے اپنے ملک میں الجھا دیں۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ


loading...