مقبوضہ کشمیر میں کرفیواورمکمل بلیک آوَٹ کا 19واں روز،بھارت نے مقبوضہ وادی کو سب سے بڑی جیل بنا دیا ،دفتر خارجہ

مقبوضہ کشمیر میں کرفیواورمکمل بلیک آوَٹ کا 19واں روز،بھارت نے مقبوضہ وادی کو ...
مقبوضہ کشمیر میں کرفیواورمکمل بلیک آوَٹ کا 19واں روز،بھارت نے مقبوضہ وادی کو سب سے بڑی جیل بنا دیا ،دفتر خارجہ

  


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیواورمکمل بلیک آوَٹ کا 19واں روز ہے،مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ اور ذرائع ابلاغ مکمل بند ہیں ،بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو سب سے بڑی جیل بنا دیا ،مقبوضہ کشمیرمیں کرفیو نافذ ہے اور نظام زندگی معطل ہے،ہم کشمیریوں کی جسمانی اور ذہنی اذیت کا اندازہ نہیں لگا سکتے، ترجمان دفتر خارجہ نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری مقبوضہ وادی کی صورتحال پر توجہ دے ،بھارتی ظلم و بربریت سے کشمیری بری طرح متاثر ہورہے ہیں،9لاکھ سے زائد بھارت افواج کشمیر میں مظالم میں مصروف ہے،ایک ہفتے میں کریک ڈاوَن اور سرچ آپریشنز میں 4کشمیری شہید ہوئے،مقبوضہ کشمیر میں ادویات اور خوراک کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے، ایک کروڑ 40لاکھ کشمیریوں کو محصور کر دیا گیا ہے۔

ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی کشمیر کی صورتحال پر امریکی صدر سے2بار بات ہوئی ،وزیر خارجہ شاہ محمودنے کئی ممالک کے وزرائے خارجہ سے بات کی ، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے روسی ہم منصب کو بھی ٹیلی فون کیا،شاہ محمود قریشی نے روسی ہم منصب کو مقبوضہ کشمیر سے متعلق صورت حال سے آگاہ کیا،ترجمان کا کہناتھا کہ مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان کا موقف ہمیشہ ایک ہی رہا ہے ،مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان کا یہی جذبہ رہے گا،ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ بھارت کرفیوکب تک رکھے گا ،ایک وقت تو ہٹانا پڑے گا،بھارت کتنا ظلم کرے گا ،ظلم بڑھے گا تو مٹ جائے گا،انہوں نے کہا کہ خواہش اور کوشش ہے کرتار پور بارڈر وقت پر کھل جائے ،بھارت مانے گا تو بات آگے بڑھے گی ،ترجمان دفتر خارجہ کا کہناتھا کہ بس اور ٹرین سروس بند ہونے کے بعد بھارت میں پاکستانیوں کے پھنسے ہونے کی اطلاع نہیں،انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن کےلئے عالمی کوششوں کی حمایت کرتاہے،سندھ طاس معاہدے کی اس سال بھارت نے ابھی تک تجدید نہیں کی،ترجمان کا کہناہے کہ پاکستان نے جلال آباد دھماکے کی مذمت کی ،پاکستان ہر طرح کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے،ہمسائے ملک میں داعش کی موجودگی پر تشویش ہے،پاکستان میں داعش کا وجود نہیں، ان کا کہناتھا کہ متحدہ عرب امارات کامودی کےلئے ایوارڈدو ملکوں کاباہمی معاملہ ہے۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد


loading...