صحت انصاف پروگرام،اچھی بات لیکن…………

 صحت انصاف پروگرام،اچھی بات لیکن…………

  

وزیراعظم عمران خان نے خیبرپختونخوا میں صحت انصاف پروگرام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غریب آدمی بیمار ہو جائے تو اس کی ساری جمع پونجی علاج معالجے پر لگ جاتی ہے، بھوک و افلاس کے باعث وہ غربت کی لکیر سے نیچے چلے جا ر ہے ہیں۔صحت انصاف کارڈ کے حامل خاندان سرکاری و نجی ہسپتالوں میں دس لاکھ روپے تک مفت علاج کروا سکیں گے۔ خیبرپختونخوا میں مستحق گھرانوں کو کارڈ کی فراہمی کا کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ خیبرپختونخوا پہلا صوبہ ہے جہاں ہر خاندان کو انصاف کارڈ فراہم کیا جا رہا ہے، بے روزگاری اور مہنگائی کے اس دور میں یہ کارڈ کسی نعمت سے کم نہیں اور یقینا اِس سے غریب اور مفلس لوگوں کے علاج معالجے میں خاصی  مدد ملے گی۔  

تحریک انصاف کی حکومت اپنے دو سالوں میں غریب عوام کو وہ ریلیف نہیں دے سکی، جس کا اس نے عوام سے وعدہ کیا تھا، اِس کے پیچھے وجوہات و محرکات جو بھی ہوں، حقیقت یہی ہے گو کہ ہم عوام کو مختلف شعبوں میں آسانیاں فراہم کرنے کی حکومتی کوششوں سے انکار نہیں کرتے، لیکن ابھی بھی طویل سفر طے کرنا باقی ہے۔صحت انصاف کارڈ ایسے غریب گھرانوں کے لئے فائدہ مند ہے،جو معمولی بیماریوں کا علاج بھی کرانے کی سکت نہیں رکھتے،ان کے لئے تو پیناڈول خریدنا بھی مشکل ہے، کسی اچھے ڈاکٹر سے علاج تو دور کی بات ہے، اُن کے لئے گلی، محلے میں موجود ڈاکٹر کے پاس جانا بھی محال ہے۔ اکثر مریض علاج نہ کروانے اور دوائی نہ خریدنے کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار گئے۔ ایسے مشکل وقت میں دس لاکھ روپے تک علاج کی سہولت اندھیرے میں امید کی کرن معلوم ہو رہی ہے۔ہم امید کرتے ہیں کہ خیبرپختونخوا کے بعد حکومت  سندھ، پنجاب اور بلوچستان میں بھی ہر مستحق خاندان کو اس کارڈ کی فراہمی یقینی بنائے گی۔مہنگائی، بے روزگاری اور کورونا کے باعث مخدوش کاروباری حالات میں ایک عام پاکستانی کو کٹھن صورتِ حال کا سامنا ہے۔ ایسے میں صحت انصاف کارڈ ایک اچھی کاوش ہے،لیکن قابلِ غور بات یہ ہے کہ پرائیویٹ ہسپتالوں میں تو معمولی علاج کا بِل  لاکھوں روپے بن جاتا ہے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کارڈ کے حامل مریض ایک بار تو پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج کروا سکیں گے، لیکن اس کے بعد کیا ہو گا؟بہتر یہ ہو گا کہ پہلے ان پرائیویٹ ہسپتالوں کے ریٹ مقرر کئے جائیں تاکہ وہ ان کارڈز کے حوالے سے من مانی نہ کر سکیں۔ اگر عوام کو صحت کے مواقع دینا  مقصود ہیں تو پھر بہتر یہ ہو گا کہ سرکاری ہسپتالوں کو اَپ گریڈ کیا جائے، ان میں پرائیویٹ ہسپتالوں جیسی سہولتیں مہیا کی جائیں، عملے کی تربیت اسی طرح کی جائے جس طرح پرائیویٹ ہسپتالوں میں کی جاتی ہے۔ کورونا کی وبا کے دوران پبلک ہیلتھ سیکٹر کی کارکردگی قابل ِ ذکر رہی۔سرکاری ہسپتالوں نے کورونا کا بخوبی مقابلہ کیا اور عوام کو بہترین خدمات مہیا کیں، اس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر پبلک ہیلتھ سیکٹر کو مضبوط کیا جائے،وہاں ڈاکٹروں کی موجودگی اور ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے تو غریب عوام کو کسی حد تک سکون حاصل ہو سکتا ہے۔ہمارے سرکاری ہسپتالوں میں پریشان حال لوگوں کے علاج معالجے کی گنجائش موجود ہے۔ تحصیل ہیڈ کوارٹرز میں قائم ہسپتالوں کو اَپ گریڈ کر کے شہر میں موجود ہسپتالوں پر آنے والے بوجھ کو کم کیا جا سکتا ہے۔یہاں یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ ماضی میں اس طرح کی سکیموں میں کافی بدانتظامی اور بے ضابطگی دیکھنے میں آئی۔صحت انصاف کارڈ کی تقسیم میں اس بات پر خصوصی نظر رکھنے کی ضرورت ہے،اگر مستحقین کو امداد مل ہی رہی ہے تو اس کو ہر حال میں حق دار تک ہی پہنچنا چاہئے۔ عموماً ایسے مواقع پر غیر مستحق سیاسی کارکنوں کو نواز دیا جاتا ہے۔اِس حوالے سے شفافیت کو برقرار رکھنا بڑی آزمائش اور خیبرپختونخوا حکومت کا اولین فرض ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -