ٹیوٹا: مثبت تبدیلی و اعلیٰ کار کردگی کے دو سال 

ٹیوٹا: مثبت تبدیلی و اعلیٰ کار کردگی کے دو سال 
ٹیوٹا: مثبت تبدیلی و اعلیٰ کار کردگی کے دو سال 

  

 عمران خان کی وزارت عظمیٰ میں تحریک انصاف کی حکومت نے دو سال پورے  کر لئے ہیں ان دو سالوں کے دوران حکومت نے گوورننس معاملات میں تبدیلی لانے اور کرپشن کے خاتمے کے لئے بھر پور کاوشیں کی ہیں اپنے انتخابی منشور کے مطابق پی ٹی آئی حکومت نے کرپشن کے خاتمے کو اولیت دئیے رکھی ہے ملک کی دوبڑی حکمران جماعتوں کے اکابرین کی کرپشن کے قصے زبان زدِ عام رہے،نیب کے ذریعے کرپشن کی حیرت ناک کہانیاں قوم کے سامنے لائی گئیں، ایسی ایسی ہستیوں کو نیب کے دفتر کے چکر لگاتے ہوئے دیکھا گیا ہے جن کے بارے میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا کہ وہ احتساب کے کٹہرے میں کھڑے کئے جا سکتے ہیں لیکن پی ٹی آئی حکومت نے ایسا کر دکھا یا اور اس طرح تبدیلی کے نعرے کو عملی شکل دینے کی بھر پور کوشش کی  اور ان کی ایسی کاوشوں کو نہ صرف کامیابی ملی بلکہ عوامی پذیرائی بھی حاصل ہوئی ہے۔

تبدیلی کے حوالے سے حکومت کی دو سالہ کار کردگی کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (TEVTA) کے چیئر پرسن علی سلمان صدیق نے بتایا،ٹیوٹا پنجاب پاکستان میں فنی تعلیم اور ووکیشنل تربیت فراہم کرنے کا ایک اہم ادارہ ہے ہماری آبادی  کا 60فیصد حصہ نوجوان لڑکے اور لڑکیوں پر مشتمل ہے جنہیں گورنمنٹ سیکٹر میں کھپاناممکن ہی نہیں ہے اس لئے ہم نے انہیں لوکل اور بین الاقوامی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق فنی تعلیم اور ووکیشنل تربیت دینے کا بیڑہ اٹھایا ہے تا کہ وہ قابل روزگار ہنر مند بن کر چاہیں تو خود روزگاری کے تحت اپنا کام شروع کر لیں اور چاہیں تو انڈسٹری میں چلے جائیں جو لوگ اپنا کاروبار کرنا چا ہتے ہیں توہم انہیں قرضے کی سہولت بھی فراہم کرتے ہیں اخوت کے ساتھ ہمارا معاہدہ ہے 500ملین روپے کا قرض حسنہ فنڈ قائم کیا گیا ہے جس سے ہزاروں  تربیت یافتہ نوجوان فائدہ اُٹھا رہے ہیں دوسری طرف جو نوجوان ملازمت حاصل کرنا چاہتے ہیں ان کی رہنمائی اور سہولت کے لئے ٹیوٹا کا پلیسمنٹ سیل قائم ہے گزرے دو سالوں کے دوران ٹیوٹا نوجوانوں کیلئے 277صنعتی اداروں کا اہتمام کر چکا ہے 436ورکشاپس اور میٹنگز میں انڈسٹری لیڈر ز کو طلبہ سے گفتگو کرنے کے مواقع دے چکا ہے یہی وجہ ہے کہ ہم نے ان کاوشوں کے ذریعے 2367 نوجوانوں کو ملازمتیں دلوائی ہیں اب روایتی انداز کی فنی ٹریننگ کے ذریعے مثبت نتائج حاصل نہیں کئے جا سکتے، فنی تعلیم اور ووکیشنل تربیت کے شعبے میں کلیدی تبدیلیاں ہو چکی ہیں صنعتی شعبہ ہمہ گیر تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے اب وہی بچے گا جو بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ اپنے آپ کو ایڈجسٹ کرے گا۔ہم نے ایسے ٹرینڈز کو دیکھتے ہوئے ٹیوٹا کو درست اور نئی سمت میں آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے اس معاملے میں تمام سٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں ۔“

پنجاب: ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی TEVTA مہارتیں مہیا کرنے والا پاکستان کا سب سے بڑا ادار ہ ہے جس کے زیر اہتمام تحصیل اور ضلع کی سطح پر قائم 403چھوٹے بڑے ادارے 90ہزار نوجوانوں کو سالانہ کی بنیاد پر فنی تعلیم اور ووکیشنل تربیت فراہم کر رہے ہیں۔ پاکستان کی مجموعی آبادی کا 60فی صد نوجوان لڑکے لڑکیوں پر مشتمل ہے جن کی کثیر تعداد صوبہ پنجاب میں بستی ہے اتنی بڑی تعداد کو معاشرے کا کار آمد حصہ بنانے کیلئے موجودہ حکومت نے وژن 2025کے تحت تاریخ میں پہلی قومی فنی تعلیمی پالیسی کا اجراء کیا ہے جس کے مطابق لاکھوں نوجوانوں کو قابل روزگار  فنی اور ووکیشنل مہارتوں سے آراستہ کیاجائے گا۔وژن 2025کو عملی صورت دینے کیلئے پنجاب گروتھ سٹریٹجی 2023ترتیب دی جا چکی ہے جس کے تحت 25لاکھ نوجوانوں کو مقامی اور بین الاقوامی مارکیٹوں کی ضروریات کے مطابق تیار کیا جانا ہے۔گروتھ سٹریٹجی دستاویز کے مطابق ٹیوٹا نے 8لاکھ 75ہزار نوجوانوں کو قابل روزگار ہنر مند بنانا ہے۔ طے شدہ اہداف کے حصول کیلئے ٹیوٹا نہ صرف جاری سکیموں کے تحت 18شعبوں میں ہنر مندوں کی تیاری کر رہا ہے بلکہ کئی ایک نئے منصوبے بھی شروع کئے گئے ہیں۔ تاکہ طے شدہ اہداف حاصل کئے جا سکیں۔اس حوالے سے ٹیوٹا نے گزرے دو سالوں کے دوران کافی پیش رفت کی ہے۔

ہنر مند نوجوان پروگرام حکومت پنجاب کا ایک قابل فخر اقدام ہے جس کے تحت ٹیوٹا کے اداروں میں شام کی کلاسوں کے اجراء کے ذریعے ان اداروں کی فنی تعلیم اور ووکیشنل  تربیت دینے کی صلاحیت کو 9000ہزار سے بڑھا کر 1لاکھ 57ہزار سالانہ تک لایا جا رہا ہے۔اس حوالے سے بھی ٹیوٹا ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہا ہے۔

ویسے ٹیوٹا عمرا ن خان کی اعلان کردہ پالیسیوں پر ان کی روح کے مطابق عمل پیرا ہے اگر تبدیلی اور ہمہ گیر تبدیلی دیکھنی ہو تو ٹیوٹا کو ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے ٹیوٹا کے قیام سے لے کر اب تک گزری ہوئی دو دہائیوں کے دوران اس ادارے کے درجن بھر کے قریب سر براہ گزرے ہیں جن میں سکندر مصطفی،عارف سعید جیسے کار پوریٹ سیکٹر کے لوگ بھی تھے جنہیں اس ادارے کی قیادت کرنے کا اعزاز حاصل ہوا اس میں خالد محمود،سعید علوی (مرحوم) جیسے نامور بیورو کریٹ بھی شامل ہیں لیکن ٹیوٹا کے موجودہ چیئر مین علی سلمان صدیق کو دو اعزاز حاصل ہیں ایک تو وہ نجی شعبے سے، بیورو کریٹ باپ کے بیٹے ہیں ان کے والد سلمان صدیق پاکستان کی بیورو کریسی کے نیک نام اور کار کردگی دکھانے والے سرکار ی ملازم رہے ہیں اور دوسرا اعزاز انہیں یہ حاصل ہے کہ ٹیوٹا کے اب تک کے سربراہان میں یہ ایک حقیقی نوجوان سربراہ ہیں۔اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ برد بار اور متحمل مزاج انسان ہیں۔انڈسٹری منسٹر میاں اسلم اقبال بھی جواں سال اور متحرک وزیر ہیں۔ٹیوٹا کے چیف آپر یٹنگ آفیسر اختر عباس بھروانہ کا شمار بھی جواں ہمت،فعال اور ہر دل عزیز  افسروں میں ہوتا ہے۔وزیر صنعت،چیئر مین ٹیوٹا اور چیف آپریٹنگ آفیسر ٹیوٹا جیسے ذمہ داران کی مثلث نے گزرے دو سالوں 2018-20کے دوران ٹیوٹا کی کایا کلپ کر کے دکھا دی ہے۔ٹیوٹا اب ایک بدلا ہوا فعال اور متحر ک ادارہ ہے۔

مزید :

رائے -کالم -