ذہن اور ہم

ذہن اور ہم
ذہن اور ہم

  

جرمنی کی ایک یو نی ورسٹی جس کا نام روہر یونی ورسٹی بوکم Ruhr University Bochum ہے بوکم جرمنی کا ایک علاقہ ہے۔ یہ یونی ورسٹی بوکم کے پہاڑی علاقے روہر  میں موجود ہے اور جو ریسرچ کے حوالے سے جرمنی کی لیڈنگ Leading یونی ورسٹی مانی  جاتی ہے۔ 1945کی جنگ عظیم کے بعد یہ واحد جرمنی کی عوامی یونی ورسٹی ہے جو کہ روہر  میں قائم ہو ئی، جس وجہ سے اس یونی ورسٹی کو روہر یونی ورسٹی بو کم (R.U.B)کہاجاتاہے۔اس یو نی ورسٹی کے اندر 42000طالب علم پڑھتے ہیں،20 کے قریب faculities،   3300  Researchers اور پانچ سو   Neuro-Scientist تحقیق اور جستجو میں مگن ہیں۔اس یو نی ورسٹی کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے اندر ایک ایسا ریسرچ ڈیپا رٹمنٹ ہے جو  ہر وقت انسان کے دماغ کے متعلق نئی نئی تحقیق کر رہا ہے جس کا نام The Research Department of Neuro-Scienceہے۔اس ڈیپا رٹمنٹ میں دیگر جدید ترین مشینوں کے ساتھ ساتھ دنیا کی ایک جدید ترین  مشین Electroencephalographyبھی رکھی گئی ہے۔اس یونی ورسٹی کی جو تازہ تر ین ریسرچ 21 جولائی 2020ء کو پوری دنیا کے سامنے آئی، اس ریسرچ میں بتایا گیاہے کہ انسانی نیوروسائنس جو کہ ہر انسان کے اندر ایوریج 100 Billion Neuronپائے جاتے ہیں، انسانی نیوروسائنس میں انھوں نے دیکھا کہ سیکھنے کا عمل دہرائی کے ذریعے Learning Through Repetition اپنے انجام کو پہنچتا ہے۔اس تحقیق کو  ہم آسان لفظوں میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ جن چیزوں کی ہم باربار دہرائی کر تے ہیں یا کسی چیز کو باربار Revise کر تے ہیں تو ہمارا دماغ اُس کو زیادہ بہتر اور بہت اچھے انداز سے یاد رکھتاہے۔

روہر یونی ورسٹی کے سائنسدان مزید کہتے ہیں کہ روزمرہ کی زندگی میں لو گ پریکٹس اور دہرائی کے ذریعے ہی سیکھتے ہیں اور اس سارے عمل کے لیے دماغ ایک ٹائم لیتا ہے۔اس سارے پر اسیس کو Neuroplasticityکہاجاتاہے۔عرب دنیا میں لکھنے کارحجان نہیں تھا،زیادہ تر لین دین کے معا ملات محض یاد رکھے جاتے تھے یہ خطہ یادداشت کے حوالے سے قبل از اسلام بھی ایک خاص پہچان رکھتا تھا۔حفظ القرآن کو باربار دہررانے کے عمل سے محفوظ بنایا گیااورقرآن کے بعد پو ری دنیا میں آج بھی جو کتاب سب سے زیادہ پڑھی جاتی ہے اُسے صحیح بخاری کہتے ہے اور اس کے مصنف حضرت امام اسماعیل بخاریؒ، جن کے متعلق آتا ہے کہ اُن کو لاکھوں احادیث حوالہ ومتن  کے سا تھ زبانی یاد تھیں۔ایک دن کسی شخص نے ان سے پو چھا کہ آپ کو اتنی احادیث کیسے یاد ہیں؟تو آپ نے اُس شخص کو جو اب میں کہا    " کہ میں ان پر نظر کر تا رہتا ہوں "۔لاکھوں احادیث کے حافظ جن کاکئی سو سال کے بعد بھی مقام ومرتبہ کم نہ ہو ا وہ بھی کہتے ہیں کہ میں بھی دہرائی یعنی Repetition پر یقین رکھتا ہوں۔اللہ پاک نے انسان کو بہت بڑی طاقت دی ہے جس کو ہم دماغ یا عقل کہتے ہیں، جس کی مدد سے وہ بہت بڑے اور زور آور جانوروں اور ستاروں پر کمندیں ڈال دیتا ہے۔جو شخص اپنے نیورون کو جتنازیادہ Activeرکھتا ہے مطلب اپنے دماغ کو زیادہ استعمال کرتاہے وہ اپنی روز مرہ زندگی میں نئے سے نئے کمالات کودیکھتا ہے۔

نفسیات والوں نے ذہن کو تین حصوں میں تقسیم کیاہو اہے جس کو وہ شعور Consicious، لاشعور Unconsicious اور تحت الشعور Subconsicious کا نام دیتے ہیں، اور میموری کے حساب سے اس کو Long-Term Memory اور Short-Term Memoryکے نام دیے ہیں۔ایک تحقیق کے مطابق ایک عام انسان کو روزانہ 60 ہزار خیالات کاسامناکرناپڑتا ہے اور اُس میں سے 70%فیصد سے زیادہ خیالات منفی آتے ہیں۔دنیا کو فتح کر نے کے بعد سکندرِاعظم ایک بزرگ کے پاس گیا یہ سوچ کر کہ میں دنیا کا واحد شخص ہو  ں جس نے دنیا کو فتح کیاہے۔جب وہ اُس بزرگ یا عقلمند شخص کے پا س پہنچا، تو وہ یہ سب سننے کے بعد سکندرِاعظم کو کہنے لگاتم نے جو کیا وہ کو ئی بڑاکام نہیں ہے۔سکندر کہنے لگا کہ میں نے پو ری دنیا کو فتح کرلیا ہے اور آپ کہتے ہو کہ یہ کو ئی بڑا کا ر نامہ نہیں ہے۔بزرگ نے کہا"اس سے بہتر تھا تم خود پر قابو رکھتے۔جب اپنی ذات /نفس پر کنڑول کرنا سیکھ جاؤ پھر میر ے پاس آنا"۔انسان کے لیے دماغ سونے کی چڑیا ہے یا دوسرے لفظوں میں یہ کہہ لیں کہ اللہ پاک کی بڑی نعمت ہے۔اس میں لامحدد طاقت موجود ہے، جس کو استعمال کر کے انسان کائنات کی ہر چیز کو اپنے لیے آسان بنا سکتا ہے۔ آپ دماغ کا جدید نقطہ نگاہ Law of Attratction ہی دیکھ لیں۔یہ لاء کہتا ہے کہ جو کچھ بھی آپ دماغ کو استعمال میں سو چتے ہیں، وہ فوراً یاآہستہ آہستہ حقیقت میں واقعہ ہو نے لگ جاتا ہے۔چند چیزیں ایسی ہیں جن کو استعمال کر کے ہم اس نعمت سے بے شمار فائدہ اور لاتعداد کام لے سکتے ہیں۔پہلی بات یہ کہ جو بات ہم خود سے کر یں، جس کو  Self talkکہتے ہیں، وہ معیاری اور اعلی قسم کی ہونی چاہیے۔

کیونکہ ہم جس طرح کی خود سے باتیں کرتے ہیں، دماغ ہمارے لیے اُسی طرح کی راہیں بنانے اور بتانے لگ جاتاہے۔ انتھونی روبنس نے کیاخوب کہاہے کہ" جیسے معیار کی باتیں آپ اپنے ساتھ کرتے ہیں، ایسے ہی معیا ر کا مستقبل آپ کا منتظر ہو تا ہے"۔ دوسری بات" دماغ کو ایک واضح ہدف دینا"، یعنی  Clear Goal جس میں کو ئی بھی دوسری رائے موجود نہ ہو۔جب ہم اپنے دماغ کو کو ئی چیلنج دے کر رکھتے ہیں تو یہ اُس کو پورا کرنے  کے لیے ہر ممکن کوشش میں لگا رہتا ہے۔خلیل جبران نے بڑ ی خوبصورت بات کہی تھی کہ  "جب آپ کاکام آپ کا شوق ہو تو کام کرنا ایسے ہوگا جیسے اپنے دل سے لیے گئے دھاگوں سے کپڑا بُناجائے"۔تیسری بات "آپ کا تخیل" یعنی Self Image بہت ہی واضح اور صاف ہو نا چاہیے۔جو کچھ بھی آپ بنناچاہتے ہیں اُس کے متعلق اپنے دماغ میں تصویر بنالیں کہ آپ وہ چیز یا منزل پہلے سے ہی حاصل کر چکے ہیں۔پھر آپ کا دماغ بھی آپ کے سا تھ آپ کے خواب کو پورا کرنے کے لیے پو ری کو شش کر ے گا۔ایمرسن نے کہا تھا "کہ انسان وہی بنتا ہے جو پو را دن وہ سو چتا رہتا ہے"۔ 1957کی بات ہے جب ایک 10 سالہ بچے کے پاس فٹ بال کا میچ دیکھنے کے لیے ٹکٹ کے پیسے نہیں تھے۔

اس طرح وہ گروانڈ کے باہر کا فی گھنٹے انتظار کر تا رہاکہ عام لو گو ں کے لیے بغیر ٹکٹ کے گیٹ کھلے اور وہ با قی کا میچ دیکھ سکے۔اس طر ح سے کچھ وقت کے لیے اُس نے میچ دیکھا اور اپنے سب سے پسندیدہ کھلاڑی جم براؤن سے آٹوگراف لینے کے لیے اُس کی طرف بڑھا۔جس وقت وہ جم براؤن سے آٹوگراف لے رہا تھا تو اُسے کہنے لگا کہ جم میرا بھی ایک خواب ہے،جم نے پوچھا وہ کیا؟کہنے لگا کہ میں بھی بہت بڑا کھلاڑی بنوں گا اور تمہارے سارے ریکاڈتو ڑ دوں گا۔ جم براؤن حیرت سے اُس بچے کو دیکھنے لگا اور جواب میں کہا کہ کیا تم یہ کر سکو گے!بچے نے کہا " یہ میراخواب ہے"۔کچھ سالو ں بعد حقیقت میں اُس بچے نے جم براؤن کے بہت سے ریکاڈ توڑ دیے اور اُس بچے کانام تھا، اوجے سمپسن۔انسان کی خود سے Self Talk اور تخیل کی دنیا بہت زیادہ اہمیت کی حا مل ہو تی  ہے۔اسی لیے کہا جاتا ہے کہ انسان کو ہمیشہ بڑے خواب دیکھنا چا ہئیں اور اُن کو پو را کر نے کے لیے ہر ممکن کو شش کرنی چاہیے۔جدید تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ انسان کا دماغ 20%سے25%  energy استعمال کرتاہے۔اس لیے انسان کو اپنی خوراک کا Brain Foodبہت خیال رکھنا چاہیے اوراپنی میموری کو بہتر بنانے کے لیے روزانہ ورزش ضرور کرنی چاہیے تا کہ وہ ذ ہنی دباؤ Stress سے خود کو محفوظ رکھ سکیں۔

مزید :

رائے -کالم -