اسلام سے کمیونزم تک!

اسلام سے کمیونزم تک!
اسلام سے کمیونزم تک!

  

بنی نوع انسان کی پوری تاریخ لوٹنے والوں اور لوٹے جانے والوں سے بھری پڑی ہے۔ ایک طرف ظالم اور دوسری طرف مظلوم ہیں۔ ”کمیونسٹ مینی فیسٹو“ کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز کی مشترکہ کاوش ہے،جو گویا دُنیا میں ان کی جماعت کا اعلان نامہ تھا۔یہ منظرِ عام پر آیا تو مستقبل میں جھانکنے والا ہر فرد چونک گیا۔کمیونسٹ جماعت کا منشور و دستور منصہ  شہود پر آیا تو مشرق و مغرب میں ایک دھوم مچ گئی۔ اِن دِنوں یورپ میں کمیونزم کو بھوت کے طور پر جانا گیا۔پھر اس خیالی و تصوراتی واہمہ نے ایک سائنٹیفک حقیقت کا روپ دھار لیا، اور آگے چل کر قریباً آدھی دُنیا پر اس نظریہ نے اپنا اقتدار و اختیار قائم کیا۔کمیونزم گزشتہ صدی کے اندر ایک عقیدے کی صورت میں اُبھرا۔ اس کے فکری اثرات و ثمرات تاریخ انسانی کا لازوال حصہ ہیں۔کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز کا براہِ راست واسطہ یہودیت و عیسائیت سے پڑا تھا، اور چونکہ ان میں معاشی و معاشرتی اعتبار سے کوئی واضح اور ٹھوس لائحہ عمل  نہیں پایا گیا،لہٰذا اُن کے نقطہ ئ  نظر سے مذہب ایک افیون ہے۔ ہم بنظرِ غائر عموماً مذہب مزاج لوگوں کے اعضاء شل اور قویٰ مفلوج دیکھتے ہیں، حالانکہ عملاً یہ مذہب نہیں، اہل ِ مذہب کا قصور ہے،جنہوں نے مذہبی افکار کو دھیرے دھیرے اپنی تعبیرات میں ڈھال دیا!

ہم تاریخ آدمیت کے سفر میں جاگتی آنکھوں سے یہ دیکھ چکے ہیں کہ جوں جوں کوئی الہامی پیغام اپنے نقطہ  آغاز سے ذرا سا آگے نکلتا ہے، تو اس میں کسی نہ کسی درجہ پر کسی نہ کسی انداز میں تغیر رونما ہونا شروع ہو جاتا ہے اور تبدل در آتا ہے۔ ہادی حق کے دُنیا سے تشریف لے جانے پر مادیت سہج سہج اپنے پَر کھول دیتی ہے!ہمیں ازمنہ  قدیم سے یہ ثبوت ہاتھ لگتے ہیں کہ ربع صدی سے بھی کم عرصہ میں روحانیت و خلوص کی راہ ہمیشہ سکڑنا شروع ہو جاتی رہی ہے۔ ایک تو پچھلوں میں اگلوں جیسی بے لوثی و جذبہ قربانی موجود نہیں ہوتا،دوسرا مرکز سے فاصلہ بھی طبائع پر اپنا اثر لازمی چھوڑتا ہے، چونکہ فطرتِ انسانی پر مادی رنگ غالب ہے، اور حواس و عقل پر آخرت کی بجائے دُنیا کا راج، لہٰذا دائرہ ہدایت سے زمانی بُعد کے نتائج شاید لابُدی ہیں، اس صورت میں استثنیٰ سے قطع نظر اکثریتی عناصر شعوری و لاشعوری طور پر جنسی ہیجانات اور ذاتی و طبقاتی معاشیات کو احکام شریعہ میں ہی ڈھونڈتے ہیں، نتیجتاً حقیقی نظریات دم توڑ دیتے اور شخصیات کو  فروغ ملتا ہے۔ نفوس قدسیہ، جو عجز و انکساری اور توحید پرستی کا شاہکار ہوا کرتے ہیں، کا حوالہ استحصال کے لئے بطورِ خاص استعمال کیا کرتے ہیں۔ بدلتے وقت کے ساتھ ایک  نیا عقیدہ و عمل! گرجا گھروں کے نام پر نو عمر رہبائیں اور مندروں کی عظمت کے تصور میں ”نیوگ“ کی کارستانی!! حتیٰ کہ مسلمانوں میں بھی متعہ و حلالہ نے جڑ پکڑ لی!توبہ! توبہ!! اسلام کے نام پر ہم کیا کیا کچھ کرتے چلے آتے ہیں۔ ایسے ایسے موضوعات اور عنوانات مروج ہیں کہ صدرِ اول میں کسی کے حاشیہ   گمان میں بھی نہیں ہوں گے۔

کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز کا آمنا سامنا چونکہ یہودیت و عیسائیت سے ہوا، باایں سبب وہ ہر مذہبی فکر و نظر کو رجعت پسندانہ سمجھا کئے۔معاملہ مگر یہ  ہے کہ اسلام کا تصورِ معیشت زندہ و تابندہ ہے۔بس ایک ذرا کھلے دِل دماغ کے ساتھ سمجھنے اور سمجھانے کی ضرورت باقی ہے۔ یہ درست ہے کہ خلافت ِ راشدہ کے جاتے ہی بادشاہت و ملوکیت نے سر اٹھا لیا اور اگر حضرت عثمانؓ کے عہد میں کچھ نامانوس ہونے لگا تو حضرت ابو ذر غفاریؒ نے کمال فقر و درویشی سے ”رُخ برگ گلاب“ نکھار دیا۔ ”متاعِ اسلامیت“ اپنی پوری آن بان اور شان کے ساتھ ہنوز چلی آتی ہے۔ بدقسمتی سے واقعہ کربلا کے حقیقی اسباب و علل پر کبھی غور وفکر نہیں ہوا۔ یزید ظالموں کا نمائندہ تھا اور حسینؓ مظلوموں کے سرخیل!گویا درحقیقت یہ بھی ایک ظالم اور مظلوم کی جنگ تھی، جو ہمیشہ سے چلی آئی ہے۔ ہابیل و قابیل، ابراہیم و نمرود، موسیٰ و  فرعون اور مصطفی و ابو لہب کے عنوان سے! یہ جنگ اب بھی جاری ہے اور جانے کب تک رہے گی۔

لوگو! بنیادی طور پر اسلام تو مظلوم کا دین ہے، جو غریبوں میں شروع ہوا، میرے کریم آقاؐ نے فرمایا تھا: ”اور عنقریب غریبوں میں ہی رہ جائے گا“۔ بنی نوع انسان کی پوری تاریخ لوٹنے اور لوٹے جانے والوں سے بھری پڑی ہے۔ ایک طرف ظالم اور دوسری طرف مظلوم ہیں، اٹھو اور اسلام کا پرچم تھام کر یہ رِیت اور روایت بدل ڈالو! حقیقی اسلام نہ کہ اسلام کے نام پر غیر حقیقی اسلام!

مزید :

رائے -کالم -